جمہوریت

دیکھو انہیں تم
معصومیت سے تمہیں تک رہے ہیں
سنو غور سے تم
یہ کیا فریاد کر رہے ہیں
جمہوریت کا دیکر یہ دھوکہ
آمریت سے بدتر سلوک کر رہے ہیں
بہت جھوٹ بولا الیکشن سے پہلے
بہت سبز باغ دیکھائے انہوں نے
تمہیں محروم کر رزق سے
گودام اپنے یہ بھر رہے ہیں
تعلیم سے محروم کردیا ہمیں
انکے بچے بیرونی ممالک میں پڑھ رہے ہیں
دیکر روزگار کا ہمکو جھانسا
ملک سے باہر کاروبار یہ کر رہے ہیں
چھین لیں تم سے طبی سہولت
علاج اپنا لندن میں کر رہے ہیں
سروں سےکھینچ کرسائباں یہ ہمارے
لندن میں فلیٹ اور سرے محل بن رہے ہیں
کرپشن کی بے تحاشا انہوں نے
صادق اور امین اب بن رہے ہیں
قرضے اٹھائے جو ترقی کو ہماری
ان سے تجوریاں اپنی بھر چکے ہیں
حکومت انکی رہے سلامت
پاکستان کی سالمیت کا سودا یہ کر چکے ہیں
سلامت ہے جو آج ملک میرا
یہ میری غیور فوج کی ہے مہربانی
رہیں سکون اور آرام سے ہم
باڈر پر وہ بے نیام لڑ رہے ہیں
بلٹ پروف میں رہتے ہیں یہ ہمیشہ
فوجی باڈر پر شہید ہورہے ہیں
بھٹو کا نعرہ ہیں جو لگاتے
اصولوں کو اسکے وہ قتل کر چکے ہیں
جمہوریت کا ہیں جو راگ الاپتے
آمریت کی کوکھ سے جنم لیا تھا انہوں نے
ملک کو بہت نقصان انہوں نے پہنچایا
ہر ایک ادارے میں دلال اپنا بٹھایا
خریدا ہے سبکو بولی لگا کر
جو نا بکا مار ڈالا اسے پھانسی لگا کر
کتنی ڈھیٹائی سے پوچھتے ہیں
مجھے کیوں نکالا
مجھے کیوں نکالا
کہیں پر سندھی ایزم کا ہے نعرہ
خود ہی خون کرکے کہتے ہیں سندھ ہے ہمارا
جاگ پنجابی جاگ کہتے ہیں یہ
پنجاب پر خود ہی شب خون مارا
کرتے ہیں بلوچستان سے مظلومیت کی باتیں
بھیج کر را کے ایجنٹ بلوچیوں کو مارا
سرحد میں پھیلا کر انارکی
ساتھ دیتے ہیں غدار افغان کی
اب پھر دروازے پر تمھارے یہ آئیں گے
سنہرے باغ پھر دیکھلائیں گے
جھوٹ بولیں گے بے تحاشہ یہ تم سے
ہاتھ جوڑیں گے
ووٹ مانگیں گے تم سے
اب تم اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنا
لگا کر مہر مخلص حکمران کو ہی چننا
ووٹ مانگنے پاس آئیں جب تمھارے
پانچ سالوں کا حساب تم ان سے لینا
بہت قیمتی ووٹ ہے تمھارا
اب کسی بھائی کو سر پر نا بٹھانا دوبارہ
دشمنوں کی طرح ہیں جو لڑتے
اندر ایک ہیں حصے بکرے ہیں کرتے
بیچ کر اصولوں کو جیئے بھٹو کا نعرہ لگایا
بہت مظلوم معصوم بنکے وہ آیا
عصمتیں پال کی کمسن کلیوں کی
جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ جس نے لگایا
روشنیوں کو بدلا اندھیروں میں جس نے
نوجوانوں سے چھین کر کتابیں
پکڑا دیا اسلحہ انکے ہاتھوں میں
مہاجر کا مخلص بنکر جوآیا
مہاجر کو مہاجر سے لڑایا
محرومیت کا پہن کر لبادہ
بھائی بن کے دلوں میں سمایا
ان سب لٹیروں کی حقیقت ہے ایک
ووٹ دیکر انہیں پھر بربادی کو دیکھ
پاکستانی نہیں غیر ملکی ہیں یہ
حکمرانی کرتے یہاں غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں یہ
تم اپنے اس لیڈر کو پہچانو
اپنا رہبر رہنما اسکو جانو
تمھیں ترقی کا راستہ ہے دیکھاتا
باہر سے سرمایا اس ملک میں ہے لاتا
بہت آزما چکے تین تین بار جنکو
حکومت سے دور رکھو اب انکو
کئی سال جنہوں نے تمہیں ہے دھتکارا
حکومت میں انہیں نا آنے دینا دوبارہ
ووٹ حق ہے فرض ہے قرض ہے
یہ بچونکا مستقبل ہے تمھارا
پنجابی سندھی پٹھان بلوچی مہاجر نا بن کے سوچو
اب ایک قوم پاکستانی بننے کا وقت ہے آیا

سیدہ زرنین مسعود




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*