ہمارا عزم بقائے پاکستان

پاکستان ایسی سر زمین ہے جس کو اللہ نے ہر قسم کی دولت سے نوازا ہے ۔ہرقسم کے زخائر اس سر زمین میں پائے جا تے ہیں۔ہم ہر دولت رکھنے کے باوجود دوسروں کی مدد کے مختاج رہے ہیں ۔اپنے ملک کے زخائر سے فائدہ اٹھایا ہی نہیں جاتا ہر حکومت پچھلی کو مودِالزام ٹھرا کر ان کی غلطیوں کو دہرا دہرا کر پسِ پردا وہی کچھ کر رہی ہوتی ہے جن کا الزام ہو سابقہ حکومت پر لگا رہی ہوتی ہے ۔تو وطن کی بقا سلامتی کیسے قائم رہے ۔دوسروں سے ان کی شرائط و ضوابط کے مطابق وسائل جب حاصل کیے جاتے نہیں تو اپنی سلامتی کسی دوسرے کے ہاتھ دینے والی بات ہے ۔ یہی سلسلہ چلتا آرہا ہے ملک کا مفاد تو کوئی اہمیئت نہیں رکھتا بس اپنے پانچ سال پورے کرنے کی طرف سر دھڑ کی بازی لگائی جاتی ہے ۔ملک کا پیسہ تجوریوں میں اور ملک کے لیے قرضہ سخت سے سخت شرائط پر بھی لے لیا جاتا ہے ۔یہ بنیادی وجہ ہوتی ہے کسی بھی ملک کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ کی ۔قرضہ کی سخت شرائط محدود سے محدود کر دیتی ہے ۔اور ملک کی ترقی اور خوشحالی رک جاتی ہے ۔چائینہ جو ہمارے ملک سے دو سال بعد آزاد ہوا آج پوری دنیا پر چھایا ہوا ہے ۔جس کی بنیادی وجہ ہے کی انھوں نے کسی کی طرف مدد طلب نظروں سے نہیں دیکھا ہے ۔اپنے زورِ بازو پہ اپنے وطن کو بلندیوں کی انتھا کو پہنچادیا ہے ۔اپنے وسائل سے اپنے زخائر کا استعمال کرکے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔اعلی قیادت سے لیکر عام آدمی تک سب کے لئے بس ملک کا بقا سب سے اہم رہا ہے۔آج ہمارے وطن کے لئے مشکل وقت میں ڈھال بن جاتا ہے جب دشمن



للکارنے کی کوشش کرتا ہے ۔انھوں نے خود پر کسی بیرونی طاقت اور مداخلت کو مسلط نہیں ہونے دیا ہے ۔جب ہر مسلے کے لئے دوسروں پر نگاہیں اور امیدیںلگائی جا ئیں تو بقا محفوظ نہیں رہتی ہے ۔ہماری سر زمین ہر قسم کی دولت سے مالا مال ہے ۔وسائل محدود بھی ہوں تو کیا اپنی زہانت قوت کو استعمال کر کے اپنے وطن کو دن با دن ترقی خوشحالی کی طرف گامزن کیا جاسکتا ہے ۔حکومت سے لے کر عوام تک ہر ایک کو اپنا فرض ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔عوام کو چاہئے ایسی قیادت کا انتخاب کرے جس کا نصب العین صرف اورصرف وطن کی بقا ہو ۔وہ گزری ہوئی قیادت کو ڈھال بنا کے عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکے اور اندرونی طور پر ان سے بھی زیادہ ملک کی سا لمیئت کو نقصان پہنچائے ۔جمہوریت اسی کا تو نام ہے کہ ہر شخص اپنا حق ِ رائے دہی استعمال کرے ۔ایسی قیادت کو چنے جو عوام کو اعتماد میں لے کر ساتھ لے کر چلے ۔جب حکران میں ملک کے لئے کچھ کرنے کا جوش جزبہ ہو تو لوگ بھی سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں۔پھر کوئی اندرونی یا بیرونی طاقت ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے ۔تاریخ بھری پڑی بہت سی مثالوں سے جہاں عوام نے یکجاں ہو کے جو بھی فیصلہ لیا ہے وہاں وہاںملک کی سالمئیت کو استحکام ملا ہے ۔جب ایک گھر کی چار دیواری محفوظ ہو تو کوئی نقب نہیں لگا سکتا ہمیشہ گھر کو نقصان اندر کی سازشوں سے شروع ہوتا ہے ۔جب بیرونی قوتوں کے پاس اختیارات منتقل ہوتے ہیں۔گھر کی حفاظت تو گھر والوں کی زمہ داری ہوتی ہے ۔جب گھر کے رکھوالے ہی لوٹنے والے بن جائیں توباہر والے تو نوچ نوچ کے ہی کھا جاتے ہیں۔گزرے ہوئے وقت کو تو واپس نہیں لایا جاسکتا کیا ہم اب بھی وہی سب کریں گے جو دہائیوں سے ہوتا آرہا ہے اب ہمیں اپنی سوچوں اپنے عملوں کو تبدیل کرنا ہو گا ۔ہر بات سے بالا تر ہو کے اپنے وطن کو اپنے گھر کو محفوظ کرنا ہو گا ۔ایسی حکومت ایسی قیادت کو چننا ہو گا جو وطن کی بقا کے لئے جیئے وطن کا استحکام سب سے بنیادی بات ہو اس کے لئے ۔پاکستان کی تاریخ روزِ آخر تک سنہرے حروف میں لکھی جائے گی کہ کیسے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں نے بے شمار مشکلات اور وسائل کے باوجود ایک بے لوث محب وطن محب عوام لیڈر کی قیادت میں اپنی قومی اور مذہبی شناخت کے حصول میں کامیابی حاصل کی شائد ہی کوئی ایسی قوم ہو جس نے اتنی قربانیاں دی ہوں۔یہ سب کچھ ممکن ہوا صرف اورصرف مخلص سچے نڈر لیڈر کی رہنمائی میںپھر آنکھیں بند کرکے لوگ جوق در جوق اپنی جانوں کر نظرانے پیش کرنے کے لئے اپنے لیڈر کے قافلے میں شامل ہوتے گئے۔تب قیادت اللہ کا عظیم تحفہ کی صورت میں ملی تھی ۔اب ہمیں خود منتخب کرنی ہے ۔کیا



ہم جو یہ وطن یہ گھر ہمیں ملا ہے اپنی سوچوں کو اپنے نظریات کو ین گنت قربانیوں کے لئے نہیں بدل سکتے جن کے عوض ہمیں آزادی کی صورت میں ملی ہے ۔تب ہی وطن کو بقا ممکن ہے ۔وطن کی بقا ہے تو ہماری بقا ہے ۔سب سے محفوظ پناہ گاہ اپنا گھر اپنا وطن ہوتا ہے ۔ایک مخلص قیادت کے کئے ہم سب کو مخلص ہونا پڑے گا ۔وہ سب قربانیاںہم سے سوال کرتی ہیںکہ کیا اس لئے ہم نے اپنی جانوں کی قربانی دی تھی کہ آپ وطن کی بقا کو محفوظ نہیں رکھ سکے ۔ان سب قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا چمکتا ہوا ستارا بنائیں جو سارے عالم کے لئے منزل راہ بن جائے
یہی خواب دیکھا تھا ہمارے اقبال نے اور عظیم الشان لیڈر نے جس کی تعبیر کے لئے انتھک محنت کی۔اس تحریک میں شامل ایک ایک فرد سچائی خلوص سے لبریز تھا تبھی تو ایک نا ممکن کا حصول ممکن ہو گیا ۔ہمیں تو سب سجا ہوا ملا ہے بس اس کی دیکھ بھال حفاظت کرنی ہے ۔دشمنوںسے بچانا ہے ۔اس کی بقا کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا کسی کو بھی زاتی مفاد کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی ۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے ۔اور ہمارا اتحاد ہی ہمارے ملک کی بقا ہے ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*