پاک چین تعلقات اور سی پیک

(تحریر۔محسن علی ساجد)
پاک چین دوستی جو شہد سے میٹھی،سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بُلند ہے نہ صرف مسلسل آگے بڑھ

Mohsin Ali Sajid

رہی ہے بلکہ دونوں ممالک کی دوستی کے ثمرات سے خطے کے دوسرے ممالک بھی ثمر آور ہورہے ہیںاور اِس کا سب سے بڑا ثمر پاک چین اقتصادی راہداری ہے جو دونوں ممالک کی جانب سے خطے کے عوام کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے ،سی پیک سے پاکستان معاشی ٹائیگر بن کر اُبھرے گا ۔اِس منصوبے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ دونوں ممالک کی قیادتوں کی تبدیلیوں کے باوجود بھی منصوبہ جاری رہے گااور اس کا اظہار دونوں ممالک کی گزشتہ اور موجودہ قیادتیں بھی کرچکی ہیں کہ یہ منصوبہ سدا بہار ہے جوجاری رہے گا اور اگر کسی دُشمن ملک نے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اُسے مُنہ کی کھانا پڑے گی جس طرح پاکستان کا روایتی دُشمن بھارت جس کے پیٹ میں سی پیک کی وجہ سے مسلسل مروڑ اُٹھ رہے ہیں اگر اُس نے اپنی سازشوں کا سلسلہ نہ روکا تو پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج ہمیشہ کی طرح اُسے ناکوں چنے چبوائیں گی۔سی پیک منصوبہ گزشتہ حکومت کے دورمیں شروع ہوا جس پر مسلسل کام جاری ہے انشااللہ عنقریب منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا اور ترقی وخوشحالی کا ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔نگران حکومت جہاں وطن عزیز میں عام انتخابات کیلئے کوشاں ہے وہاں سی پیک منصوبے پر بھی جاری کام کو دیکھ رہی ہے جو کہ خوش آئند امر ہے ۔گزشتہ روز پاک چائنہ آپٹیکل فائبر کیبل پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی نگران وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جسٹس (ر) ناصر الملک تھے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے انچارج وزیر شیخ یوسف، ڈائریکٹر جنرل سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن میجر جنرل عامر عظیم باجوہ اور پاکستان میں چین کے سفیر یائو جنگ بھی موجود تھے۔ پاک چائنا آپٹیکل فائبر کیبل پراجیکٹ 2 سال کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے ،منصوبے میں راولپنڈی سے خنجراب تک 820 کلومیٹر طویل زیر زمین آپٹیکل فائبر کیبل اور کریم آباد تا خنجراب 172 کلومیٹر فضائی آپٹیکل فائبر کیبل کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے۔ راولپنڈی تا خنجراب مختلف مقامات پر آپٹیکل فائبر کیبل نیٹ ورک کے بیک اپ کے لئے اعلیٰ استعداد کے حامل 26 مائیکروویو لنکس اور 9 سینٹرز بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مکمل کئے جانے والے اس منصوبے سے پاکستان کو زمینی کیبل سے رابطہ کاری کی سہولت ملے گی اور سمندری کیبل پر اس کا انحصار کم ہو گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسی طرح چین کو یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ ٹرانزٹ ٹیلی کام ٹریفک کے لئے متبادل رسائی ملے گی، منصوبہ ملک کے شمالی علاقوں میں ٹیلی کام کے شعبے کی ترقی کے لئے بھی معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ



پاکستان چین کے ساتھ اپنی دوستی کی بڑی قدر کرتا ہے جو ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کا سب سے اہم حصہ ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوست ملک چین کے سفیریائو جنگ نے کہا کہ آپٹیکل فائبر کیبل سی پیک کے تحت مکمل ہونے والے 9 منصوبوں میں سے ایک ہے اور یہ منصوبے پاکستان کی معیشت میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک سی پیک کو ڈیجیٹل کوریڈور میں تبدیل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ آپٹیکل فائبر کیبل منصوبہ کی دو سال میں تکمیل ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک منصوبوں کے بعد دونوں رابطہ کاری اور علاقائی ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔ سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عامر عظیم باجوہ نے تقریب کے شرکاء کو منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2010ء میں اس کی منظوری کے بعد منصوبے پر کام 2016ء میں شروع کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر چین کی طرف مواصلاتی لنک قائم کر دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے رابطہ کاری کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر تقریب کے مقام سے خنجراب میں ایس سی او کے دفتر میں براہ راست کال کے ذریعے صاف آواز اور رئیل ٹائم ویڈیو کا مظاہرہ کیا گیا۔ انتخابات کا مرحلہ بھی قریب ہے ،یقینا یہ مرحلہ بھی احسن طریقہ سے عبور ہوگا لیکن اِس بار حکومت اُسے ہی ملے گی جس سے عوام خوش ہونگے ۔کیونکہ اب عوام بھی باشعور ہیں اور اُنہیں پتہ ہے کہ کسے آئندہ مُنتخب کرنا ہے اور کس کے دھوکے میں نہیں آنا۔بہرحال بات ہورہی تھی پاک چین دوستی کی تو دونوں ملکوں کی اس پاکیزہ دوستی کا رشتہ دن بدن مضبوط ہورہا ہے اور آنیوالے دنوں میں اِس دوستی کے رشتے میں مزید قربت بڑھے گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*