تاریخ ،نیا پاکستان اور مسائل

(محسن علی ساجد)
یہ ملک ،خطہ فردوس بریں،نور کا مسکن اسلامی جمہوریہ پاکستان ہمارے پاس پُرکھوں کی امانت ہے جسے ہمارے

Mohsin Ali Sajid

بڑوں نے لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا،ہمیں بچپن سے ہی تاریخ کا مطالعہ کرنے کا بہت شوق تھا جسے ہم نے آگے جاکر تعلیمی میدان میں بھی عملی جامعہ پہنایا اور تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی ۔مجھے آج بھی یاد ہے اکثر رات کو مطالعہ کرتے ہوئے کتاب کو سینے سے لگائے نیند کی آغوش میں چلے جاتے تھے ،کیا زمانہ تھا طالبعلموں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوتیں،اکثر بسوں میں سفر کرتے وقت طالبعلم کتاب اُٹھائے مطالعہ کرتے دکھائی دیتے تھے ،لیکن آج کا نوجوان جب دیکھیں موبائل فون میں گُم ،کانوں پر ہیڈ فون لگائے موج مستیوں میں گم رہتا ہے نہ کتابوں سے دوستی نہ مطالعہ کا شوق ۔خیر بات ہورہی تھی تاریخ کی تو وطن عزیز کی 70سالہ تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کو کئی بار بڑے بڑے بحرانوں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا لیکن پاکستان کی باہمت افواج،اور محب وطن عوام نے ہمیشہ ان مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔وطن عزیز کے اوائل ایام میں سب سے بڑا مسئلہ بھارت سے ہجرت کرکے آنیوالے مسلمانوں کا تھالیکن آفریں ہے اُن بزرگوں کے جذبوں کو جنہوں نے ایثار مدینہ کی یاد تازہ کردی جب لُٹے پٹے قافلے پاکستا ن پہنچے تو یہاں کے مکین مسلمانوں نے ہجرت کرکے آنیوالے مسلمانوں کی بھرپور مدد کی ۔کئی دُکھ بھری کہانیاں ہیں ،کئی مائوں کے جگر گوشے دوران ہجرت شہید کردیئے گئے ،کئی باپ بچوں کے سامنے ذبح کردیئے گئے ،کئی مائوں نے اپنے جگر گوشوں کی حفاظت کی خاطر خود کو قربان کردیا تاریخ کی اِس دردناک ہجرت میں کئی مسلمانوں کے اہلخانہ راستے میں کھو گئے ،کوئی وہیں بھارت میں ہی رہ گئے ،لیکن سلام ہے اُن مسلمانوں کے جذبوں کو جنہوں نے اتنی قربانیوں کے باوجود ایک ہی نعرہ بلند کیا کہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان۔بن کے رہے گا پاکستان‘‘آج اگر ہم ایک آزاد وطن میں سانس لے رہے ہیں تو یہ اُن لاکھوں مسلمانوں کی شہادتوں کا ہی ثمر ہے ،آج ہمارے بچے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیںتو یہ اُس وقت کے بچوں کی شہادتوں کا ہی ثمر ہے ۔ہجرت کے مسائل کے بعد وطن عزیز پاکستان میں کئی حکومتیں بنی اور ٹوٹی ۔کئی بارپاکستان کے روایتی دُشمن بھارت نے بھی چڑھائی کی کوشش کی لیکن پاکستان کی باہمت چٹان صفت مسلح افواج اور عوام نے ہمیشہ دُشمن کو ناکوں چنے چبوائے ۔روس کی افغانستان میں



جنگ ،افغان مہاجرین کی پاکستان ہجرت،پھر امریکہ کی افغانستان میں چڑھائی ،اِن تمام مسائل اور بحرانوں کے باوجود قوم کے قدم لڑکھڑائے نہیں بلکہ تمام مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔افغان مہاجرین کیساتھ بھی برادارانہ رویہ اپنایا اور اُن کی بھرپور مدد کی افغان مہاجرین کو یہ احساس تک نہ ہونے دیا کہ وُہ کسی غیر ملک میں ہیں۔دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع ہوئی ہزاروں پاکستانیوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے ،لیکن ہمت نہیں ہاری وطن عزیز کی محب وطن افواج کیساتھ مل کر بھرپور جنگ لڑی اورآج دہشتگردی کا بھی خاتمہ کردیا گیا ہے۔آج پاکستان میں عظیم دوست چین کی مدد سے سی پیک جیسے عظیم منصوبوں پر کام جاری ہے ،اِن منصوبوں کو بھی ناکام بنانے کیلئے دُشمن نے کئی سازشیں کیںلیکن اُس کی ہرسازش کا مُنہ توڑ جواب دیا گیا ۔آج وطن عزیز میں جمہوریت اپنا ایک اور مرحلہ طے کرنے جاری ہے، انتخابات کا مرحلہ بھی مکمل ہوچکا ہے۔پاکستان تحریک انصاف حکومت کرنے جارہی ہے ۔وطن عزیز کے نئے ممکنہ وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب ہونگے جن کی مثبت سوچ،مسائل سے لڑنے کی جرات ،اور جن کو پوری دُنیا کپتان کے نام سے جانتی ہے انشااللہ وطن عزیز کو اقتصادی طور پر ایک عظیم قوت بنائینگے عوام کو بھی بھرپور اُمید ہے کہ عمران خان صاحب وطن عزیز سے تمام مسائل وگرداب کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔لیکن اِس وقت وطن عزیز کیلئے جو سب سے بڑا مسئلہ ہے وہ پانی کا ہے ،نئی حکومت کو سب سے پہلے پانی کے مسئلے پر قابو پانا ہوگا وطن عزیز میں نئے ڈیمز تعمیر کرنے ہونگے ،اِس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی کوششیں لائق تحسین ہیں جنہوں نے ڈیمز فنڈز کے نام سے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس میں سب سے پہلے اُنہوں نے خود رقم جمع کروائی اِس کے بعد وطن عزیز کی چٹان صفت مسلح افواج نے بھی اپنا حصہ ڈالا،دیگر قومی ادارے اور عوام خاص طور پربیرون ممالک سے بھی پاکستانیوں کی بڑی تعداد اِس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔اب نئی حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ فوراً ڈیمز کی تعمیر اور پانی کے مسئلے کے حل کیلئے فوراً اقداما ت اُٹھانے ہونگے کیونکہ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو آئندہ چند سالوں میں وطن عزیز خشک سالی کا شکار ہوجائیگا۔باقی دہشتگردی پر قابو پالیا گیا ہے یقینا آنیوالی نئی حکومت پاک فوج کے ساتھ مل کر چند بچے کُچے دہشتگردوںکے خاتمہ کو بھی یقینی بنائے گی۔اب تمام سیاسی جماعتوں سمیت قوم کی بھی ذمہ داری ہے کہ وُہ نئی حکومت کو کام کرنے دیں،تنقید جمہوریت کا حسن ہے تنقید برائے تنقید نہیںبرائے تعمیر ۔اس لیے اب ضرورت ہے تو اتحاد کی،اتفاق کی ،یکجہتی کی ،شاعر مشرق ،حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ اِسی لئے تو کہتے ہیں کہ
نکل کر صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو اُلٹ دیا تھا
سُنا ہے یہ قُدسیوں سے میں نے،وُہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
٭٭٭٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*