پولیوایک سسکتی ہوئی زندگی ۔۔۔

پولیو کا شکار افراد پوری زندگی ااس کے اثرات کے ساتھ گزارتے ہیں جو اثرات یہ اپنے بیماری اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے ۔ان اثرات کے ساتھ زندگی بسر کرنا کٹھن مراحل سے گزرنے کے مترادف ہے ۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو معذوری کا سبب بنتی ہے ۔اورمعذوری ایک خود بیماری ہے۔جس کی تکلیف زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔ہر قدم پر ایک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ایسی محرومی جس کا حل کوئی نظر نہیں آتا ہے ۔اپنے جسم کو گھسیٹ گھسیٹ کر چلنا کیسے زندگی گزاری جاتی ہے ایک معذور لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ہے ۔ایک معذور پھر بوجھ بن جاتا ہے اپنے خاندان کے لئے اور معاشرے کے لئے ۔زندگی تو زندگی ہے موت پر ہی ختم ہوتی ہے ۔پہلے کیسے سانسوں کو ختم کیا جاسکتا ہے پولیو لمحہ با لمحہ ایک ایسی ازئیت ہے جس کے شکار لوگ بے اعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں جسمانی کمی انہیں آگے بڑھنے سے روکتی ہے ۔پولیو دراصل ایک قسم کا وائرل انفیکشن ہے جو جسم کے کسی ایک یا سارے کا ساکت ہو جانا اور سانس لینے میں مشکلات کا باعث بن جاتا ہے ۔یہ ایک سے دوسرے میں پھیلنے والی بیماری ہے ۔یہ وائرس زیادہ ترانسان کے خون میں داخل ہوتا ہے جہاںسے یہ انسان کے قوتِ مدافعاتی نظام کو متاثر کرتا ہے ۔جس کی وجہ سے آپ اس موجودگی سے بے خبر رہتے ہیںاور زیادہ تر کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔اور انسان اپاہج ہو جاتا ہے ۔مسائل سے بھری زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے ۔اگر تمام بچوںکو ویکسین لگا دی جائے تو وائرس کسی بھی انسان کو متاثر نہیں کر پائے گا ارو اس وائرس کی نسل دنیا سے ختم ہو جا ئے گی ۔ہمارا پاکستان اس وائرس کو ختم کرنے میں سب سے پیچھے ہے ۔پاکستان میں پولیو کا اب تک خاتمہ نہ ہوپانے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کا پولیوویکسین پر عدم اعتماد ہے۔حکومت پاکستان صحت کے لئے عالمی اداروں کے ساتھ مل



کر پچھلی کئی دہائیوںسے گھر گھر پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلا رہی ہے ۔مگر اس کے باوجود ہر سال ہزاروں بچے ویکسین لینے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔پولیو کی ویکسین کے بارے میںعوام الناس میں بہت زیادہ شکوک و شہبات وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کر دیتے ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ پولیو ویکسین میںایک سازش کے تحت ہارمون اور دیگر کیمیکل ملائے جاتے ہیں ۔جو بچوں کی صحت پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔اکژیہ سمجھا جاتا ہے کہ بین الاقوامی قوتیںاس طرح سازش کر کے ہماری قوم کو بیمار کرنا چاہتے ہیں۔اس طرح ایک مفروضہ یہ بھی یہ کہ پولیو میں اس طرح کے اجزا شامل ہیں جو بچو ں خصوصاََ لڑکوں میں بانجھ پن کا باعث بنتے ہیں ۔بہت سے لوگوں کے خیال میں اس کے پیچھے بھی ایک سازش ہے ۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ویکسین ہماری نسلوں کو اپاہج ہونے سے بچا سکتی ہے ۔بڑے پیمانے پر اس بات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ویکسین کے بارے میںلوگوں کو صحیح طور پر رہنمائی کی جائے لوگوں کے دلوں میں موجود خدشات ہیں دور ہو سکیں۔چھوٹے اور بڑے پیمانے پر پروگرام معنقد کئے جائیں لوگوں کی سوچ ان کے خیالات کو بدلا جائے تاکہ معذوری کو ختم کیا جا سکے ۔ڈاکٹر حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ پولیو کی ویکسین کو مکمل استعمال کیا جا سکتا ہے ۔اور اس سے مرض لاحق ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔لیکن سیمینار کے زریعے سے عوام میں اس کی اہمیئت کا بڑھا یا جاسکتا ہے ۔لوگوں کی ویکسین سے دوری کی وجہ ویکسین میںملاوٹ کی تشہیر بھی ہے اس وجہ سے بھی لوگ اس کے استعمال سے ڈرتے ہیں ۔پہلے تو ویکسین کے استعمال کا ڈر پھر ملاوٹ کا ڈر اس مرض میں اضافے کا سبب بنتا جا رہا ہے ۔کتنوں کی زندگیوںکا معاملہ ہوتا ہے اور پھر محرومیاں ساری زندگی کا مقدر بن جاتی ہیں۔ایک معذور انسان بوجھ بن جاتا ہے اپنے گھر اور معاشرے پر معاشرے اور گھر والوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیئے۔بچایا جا سکے معاشرے کو معذوری سے بچایا جاسکے ۔اور ہر معاشرے کا فرد اپنی ذندگی کو کارآمد میں لا سکے ۔جسمانی معذوری سے انساںخود کو کسی اور ہی دنیا کی مخلوق سمجھنا شروع کردیتا ہے۔خود کو بیکار کم تر تصور کرتا ہے ۔ایسا لوگوں کے رویئے سلوک کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ۔لوگوں کی ترس بھری نظریںہمدردی سے بھرے الفاظرحم زدہ نظریں جیتے جاگتے انسان کو ہر پل مارتی رہتی ہیں۔بس روٹی اور کپڑا فراہم کرنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔کیا خیالات احساسات خوائیشیںہوتی ہیں اس بات کو قطی اہمیئت نہیں دی جاتی ہے ۔بس ایک زندہ لاش کی زندگی رہ جاتی ہے ایک معزور انسان کی ۔بس زندگی کے خاتمے کا انتظار کیا جاتا ہے ۔کہ کب یہ بوجھ ختم ہو گا ۔تعلیمی تفریحی سہولیات سے یہ محروم رہ جاتے ہیں ۔اگر کوئی اپنی ہمت کو بڑہا کر باہر نکلتا ہے تو ایک آزائیشوں کا پہاڑسامنے کھڑا ہوا ملتا ہے۔معذور کی زندگی کو اس کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے اسے گھر سے باہر نکال کر اسے تعلیم کی طرف راغب کرکے ایسے وہ نہ خود پے بوجھ رہے گا نہ اس معاشرے پرچھوٹی موٹی مہارتیں بھی بیکار سوچ کو بدل سکتی ہیں ۔اس ضمن میں مثبت تبدیلوں کی ضرورت ہے ؎۔رحم اور ترس سے معذور کی ذندگی کو بدلا نہیں جا سکتا ہمت حوصلہ بڑھانے سے آگے بڑھ کے ہاتھ پکڑنے سے صحیح سمت کی طرف رہنمائی سے ہی معذور کو ذندگی کی خوبصورتی کی طرف لایا جاسکتا ہے ۔زندگی پر سب کا حق برابر کا ہے معذور ہونے سے ذندگی کا دائرہ ان پہ تنگ کر دینا انہیں کسی کمی کا احساس دلانا انسانیت کی معراج نہیں ہے ۔سب سے پہلے معذوری نہ ہو اس بات کی اہمیئت بہت ہے ۔اس مرض کی روک تھام کے لئے ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیںکہ یہ مرض یہی رک جائے ۔اور کو اس کا شکار ہو گئے ہیںان کے لئے صحت بخش اقدامات کئے جایئں کہ وہ بھی زندگی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*