نظریہ پاکستان کے حقیقی وارث

 مفتی محمد اظہر، جھنگ
’’یہ واقعہ مئی 1938ء کا ہے، ایک روز دوپہر کاکھانا کھا کر میں اپنے دفتر میں کام کر رہا تھا، جو حضرت حکیم الامت کی سہ دری کے سامنے تھا، حضرت حکیم الامت دوپہر کا کھانا نوش فرما کر قیلولہ کے لیے خانقاہ میں تشریف لائے، اپنی سہ دری میں پہنچ کر مجھے آواز دی،میں فوراً حاضر ہوا، اور سامنے بیٹھ گیا، حضرت سر جھکائے ہوئے کچھ متفکر تشریف فرما تھے،اس زمانے تک پاکستان کامشہور ریزولیشن لاہور پاس نہیں ہوا تھا، مگر کانگریس اور ہندوؤں کی ذہنیت بہت کچھ بے نقاب ہو چکی تھی، اور عوام و خواص کی زبان پر یہ آگیا تھا، کہ ہندوؤں کے ساتھ مسلمان کانباہ ناممکن ہے، اسی لیے مسلمانوں کے لیے علیحدہ سلطنت قائم کرنا ضروری ہے،غرض حضرت نے دو تین منٹ کے بعد سر اٹھایا، اور جو ارشاد فرمایا۔اس کے الفاظ آج تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔اور بحمدللہ حافظہ میں محفوظ ہیں:آپ نے فرمایا:




’’میاں شبیر علی ہوا کا رخ بتا رہا ہے، کہ لیگ والے کامیاب ہوجائیں گے، اور بھائی جو سلطنت ملے گی،وہ انہیں لوگوں کو ملے گی۔ جن کو آج سب فاسق وفاجر کہتے ہیں،مولویوں کو تو ملنے سے رہی، لہذا ہم کو یہ کوشش کرنی چاہیے،کہ یہی لوگ دیندار بن جائیں۔۔۔اور اگر تمہاری کوشش سے یہ لوگ دیندار اور دیانت دار بن گئے اور پھر سلطنت انہی کے ہاتھ میں رہی،تو چشم ماروشن دلِ ماشاد،کہ ہم خود سلطنت کے طالب ہی نہیں۔ ہم کو توصرف یہ مقصود ہے،جو سلطنت قائم ہو، وہ دین دار اور دیانتدار لوگوں کے ہاتھ میں ہو،اور بس! تاکہ اللہ کے دین کا بول بالا ہو۔‘‘
میں نے یہ ارشاد سن کر عرض کیا کہ پھر تبلیغ نیچیکے طبقہ یعنی عوام سے شروع ہو یا اور اوپر کے طبقہ یعنی خواص سے؛ ااس پر ارشاد فرمایاکہ: ’’اوپر کے طبقہ سے کیونکہ وقت کم ہے،خواص کی تعداد کم ہے اور ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ اگر خواص دیندار اور دیانتدار بن گئے،تو ان شاء اللہ عوام بھی درست ہو جائیگی۔]تعمیر پاکستان:ص۵۵[
یہ اقتباس ایک بہت بڑے پسِ منظر کی نقاب کشائی کر رہا، اور کئی سارے بھیانک سوالا ت کا غیرمحسوس جواب بن رہا ہے، آج جس ماحول میں ہم اپنی آنکھیں کھولے ہوئے ہیں، ہمارے گردو پیش جوآوازیں سنائی دی جارہی ہیں، ان کا خلاصہ یہی ہے کہ پاکستان کی آزادی اور اس جدوجہد میں علماء کا کوئی کردار نہیں ہے،مذکورہ بالا پیر ایہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا  ہے،جسے سننے والے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ا نہی اکابرین نے انگریز کے خلاف تحریک شروع فرمائی، اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے غلب? اسلام کا بیڑا اٹھایا اور مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ ا? علیہ نے ۱۳? مئی ۷۶۸۱ء کو یوپی کے علاقے دیوبند میں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی اور یہ اعلان کیا ’’ہماری تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہوں اور ذہن و دماغ کے اعتبار سے اسلامی ہوں‘‘۔ ان حالات میں انار کے درخت کے نیچے بیٹھ کر محمود نامی استاد نے محمود نامی شاگرد کو پہلا سبق پڑھایا۔ علماء اہل حق کی محنت سے یہ پودا انگریز کے خلاف بہت بڑا محاذ ثابت ہوا اور ایسا تناور درخت بنا، جس کے پھلوں سے پورے برصغیرمیں بستی بستی اسلام سے لوگوں کا رشتہ مضبوط ہوا۔ حتیٰ کہ پہلا طالب علم جو بعدمیں شیخ الہند مولانا محمود حسن کے نام سے مشہور ہوئے انگریزوں کو برصغیر سے نکالنے کے لیے باقاعدہ تحریک ریشمی رومال چلا کر کارروائیاں شروع کرتے ہیں۔ جب یہ مکہ میں پہنچتے ہیں تو سلطنت عثمانیہ کے تاجدار چل کر آتے ہیں اور ملاقات کر کے یہ طے کرتے ہیں کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے عالم سے انگریز کا خاتمہ کیا جائے۔
سلطنت عثمانیہ کا یہ تاجدار درحقیت دیوبند سے ہی جنم لینے والے مفکر اسلام کے بیانیہ کی ترجمانی کر رہا تھا،ان اکابر کی محنت سے انگریز کی حکومت کمزور اور ہندوستان میں آزادی کی تحریک شروع ہو چکی تھی جن میں ایک مسلم لیگ کے نام سے تحریک تھی جبکہ دوسری طرف کانگریس سیاسی جماعت بھی تھی جو تمام اقوام کی نمائندگی کی دعویدار تھی۔



۵۱۹۱ء میں لکھنؤ کے مقام پر مسلم لیگ اور کانگریس کا مشترکہ اجلاس ہوا جس کے فیصلے کومیثاقِ لکھنؤ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ دو قومی نظریے کی حامل تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں دو قومیں یعنی مسلم اور کافر اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ ہم علیحدہ ملک بنائیں گے جس میں مسلمان آزادی سے اپنے دین پر چلیں گے۔ ان کی قیادت جناب مسٹر محمد علی جناح، لیاقت علی خان، نواب سلیم اللہ، خواجہ ناظم الدین وغیرہ دیگر حضرات کر رہے تھے جن کی اکثریت دینی زندگی سے عاری تھی۔ صرف روایتی مسلمان تھے اسلام کے تقدس اور اس کی اہمیت وقیمت سے واقف نہ تھے۔ جب ان حضرات نے نعرہ لگایا پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلٰہ اِلاَ اللّٰہ تو لوگ حیران تھے، جن کی اپنی شکل و صورت اور بودوباش اسلامی نہیں وہ اسلام کے دعویدار کیسے ہیں؟ چنانچہ مذہب کے راستے مسلمانوں کی حمایت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لیے لیگی رہنماؤں نے علماء کو ساتھ ملایا، بالآخر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ اور آپ کے متوسلین نے ان کی حمایت کا اعلان کیا تو اب تحریک آزادی و تقسیم ہند کو عروج ملا۔ آگے علماء ہوتے پیچھے یہ لوگ تو عوام الناس میں مقبولیت ملی اور یہ تحریک زور پکڑتی گئی۔ حتیٰ کہ ۵۴۹۱ء میں جمعیت علماء اسلام کے نام پر ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی اور اس تحریک کو مزید تیز کیا۔ جناب محمد علی جناح جو سیاست کو مذہب سے الگ رکھنے پر مصر تھے حضرت تھانوی اور ان کے وفد مثلاً مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شبیر علی تھانوی اور مولانا مفتی محمد شفیع نے ملاقاتیں کیں اور ان سے منوایا کہ سیاست مذہب سے الگ نہیں بلکہ مذہب کے تابع ہے۔ (تعمیر پاکستان و علماء ربانی ص:۸۳)
اپریل  1943ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا دہلی میں اجلاس شروع ہونے والا تھا، اس تاریخی اجلاس میں شرکت کیلیے ارکانِ مسلم لیگ نے حضرت  تھانوی ؒ کی خدمت میں ایک خصوصی دعوت نامہ بھیجا تاکہ آپ  آکر ہمیں ہدایات دیں جس کے الفاظ یہ تھے:۔
’’آپ کو اس موقع پر خود دہلی تشریف لا کر اپنے ارشادات سے مجلس کو ہدایت دیں تو بہتر ہوگا،لیکن اگر حضور تشریف نہ لا سکیں تو اپنے نمائندہ کو بھیج کر مشکور فرماویں،اور دعا فرماویں کہ اللہ پاک اس اجتماع کے رعب سے غیر مسلموں کے دلوں کو مسحور کر دے اور ہمارا مطالبہ پاکستان منوادے تاکہ سلطنت اسلامی قائم ہو سکے۔ یہ حضرت تھانوی کی وفات سے تین ماہ قبل کا واقعہ ہے جن کہ آپ ضعف اور مرض کی شدت میں مبتلا تھے، اس لے بہ امر مجبوری آپ نے شرکتِ اجلاس سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے ان کو یہ تاریخی خط لکھا۔
’’از ناکارہ،آوارہ،ننگِ انام،اشرف برائے نام! بخدمت ارکان ِمسلم لیگ نصراللہ  صاحب نصرہم اللہ؛السلام علیکم۔لیک کے عزائم معلوم کر کے اس آیت پر عمل کی توفیق ہوئی،قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عذر نہ ہوتا، تو اس آیت بھی عمل ہوتا؛انفروا خفافا وثقالاً۔۔۔۔۔آخر میں فرمایا کہ میں اپنی دو کتابوں کا پتہ دیتا ہوں جو ان شاء اللہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے پیام عمل ہے ایک حیات المسلمین شخصی اصلاح کے لیے دووسری صیانۃ المسلمین جمہوری نظام کے لیے‘‘



یہ سب حضرات درحقیقت اسی طائفہ منصور ہ کے ہم رکاب تھے، جن میں حضرت شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز، شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید، حاجی امداد ا? مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی اور مولانا عبیداللہ سندھی رحمہم اللہ وغیرہ شامل تھے۔ علماء کے فیصلے سے برصغیر کے طول وعرض میں یہ نعرہ گونجنے لگا ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ اور وہ شخص جس کے سوٹ بوٹ پر انگریز رشک کرتے تھے ٹوپی شیروانی اور شلوار قمیص میں ملبوس نظر آنے لگا۔ (بے تیغ سپاہی ۹۵۴۔۳۱۴)
چونکہ منصوبہ پاکستان اللہ والوں کی مخلصانہ آروزوں کا نتیجہ تھا، اس لیے اسے تائید ایزدی حاصل تھی جس کی وجہ سے ہر میدان میں اللہ نے فتح اور کامرانی عطا فرمائی،صوبہ سرحد اور سلہٹ کو شامل کر نے پر ریفرنڈم ہوتا ہے،تو بھاری اکثریت کے ساتھ  یہ دونوں صوبے پاکستان کے حصہ میں آئے اور دنیا نے علامہ شبیر احمد اور مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ کو خراج ِتحسین پیش کیا۔ اگر یہ دونوں صوبے شامل نہ ہوتے تو ظاہر ہے پاکستان کی کوئی حیثیت نہ ہوتی، اور یہ دونوں مورچے علماء کی قیادت کے بغیر ناممکن تھے۔ چنانچہ جب 27 رمضان المبارک 14 اگست 1947ء کوعلمائے حق کی انتھک محنتوں اور قربانیوں سے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔  تومغربی پاکستان کراچی میں سب سے پہلے علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ اورمشرقی پاکستان ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے تلاوت قرآ ن مجید اور مختصر تقیر کے بعد اپنے متبر ک ہاتھوں سے آزاد پاکستان کا پرچم آزاد فضا میں لہر اکر دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو اسلامی ممالک کی برادری میں شامل کرنے کی رسم کا افتتاح کیا۔پاکستانی فوجوں نے پرچم پاکستان کو پہلی سلامی دی اور سب نے مل کر یہ ترانہ گایا۔
’’اونچا رہے نشان ہمارا‘‘
اور دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اسلامی سلطنت کے قیام کی جو آواز سب سے پہلے 1928 ء کو دربار اشرفیہ سے بلند ہوئی تھی،اسی کے خدام نے اگست 1947ء کو اس کی رسم ِافتتاح ادا کی۔ قیام پاکستان کے بعد مبارکبادی کے لیے مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شبیر علی تھانوی اور مولانا مفتی محمد شفیع رحمہم ا? وغیرہ کی قیادت میں ایک وفد بانی پاکستان جناب محمد علی جناح کے پاس پہنچا تو انھوں نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور کہا حضرات مبارکباد کے مستحق حقیقت میں آپ لوگ ہیں۔ اگر آپ کی کاوشیں اور محنتیں نہ ہوتیں تو کبھی پاکستان وجود میں نہ آتا۔ حتیٰ کہ ایک سال کے بعد جب ۱۱?ستمبر ۸۴۹۱ء کوبانی پاکستان محمد علی جناح کا انتقال ہوا تو ان کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ بھی علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی۔ ان عاملینِ قرآن و سنت نے ایسے سینہ سپر ہو کر میدان میں اتر کر قربانیاں دیں جس نے تاریخ کے دھاروں کے رخ موڑ دیے اور اپنی حق گوئی اور بے باکی، جانبازی و جانثاری سے وہ تاریخ رقم کی جو رہتی دنیا تک مشعل راہ ثابت ہوگی۔ ان تمام حقائق کے بعد یہ سوال کہ علمائدیوبند تحریک آزادی کے مخالف تھے، کس حد تک قابلِ تسلیم ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ علماء دیوبند میں سے بعض حضرات بالخصوص شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور امیر شریعت سید عطاء ا? شاہ بخاری رحمہم ا? مسلم عوام کی اخلاقی حالت سے مطمئن نہ تھے اور یہ کہتے تھے کہ مسلمانوں میں ابھی ایک مملکت کو اسلامی حیثیت سے چلانے کی استعداد پیدا نہیں ہوئی۔لیگی رہنما جب اپنی ذاتی زندگیوں میں اسلام نافذ نہیں کرسکے تو اجتماعی زندگی میں اسلامی قانون کا نفاذ کیسے ہوگا؟ اور بعد میں پیش آنے والے واقعات نے ان حضرات کے موقف کی تائید بھی کردی ہے۔ یہ حضرات اسلامی مملکت کے قیام کے ہرگز ہرگز مخالف نہ تھے یہ تو ایسا پاکیزہ مقصد ہے کہ کسی ادنیٰ سے مسلمان کو بھی اس میں اختلاف نہیں ہوسکتا بلکہ یہ دیانت داری سے یہ سمجھتے تھے کہ جن حضرات کے ہاتھ میں مطالبہ پاکستان کی نکیل ہے کیا وہ واقعۃً اسلامی حکومت قائم کرسکیں گے؟ اس کے لیے جس جرأت، ، تقویٰ و اخلاص، علم و فضل، عقیدہ و عمل اور عزیمت و قربانی کی ضرورت ہے وہ چونکہ ان حضرات میں مفقود ہے اس لیے تقسیم ہند کے نتیجہ میں ایک خطہ تو ضرور مل جائے گا مگر اس میں احکام الٰہیہ اور شریعت محمدیہ کا اجراء نہیں ہوسکے گا۔ چنانچہ ۶۲? اپریل ۶۴۹۱ء کو اردو پارک دہلی میں مجلس احرار اسلام کے ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امیر شریعت نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا: ’’اس وقت تقسیم ہند کی باتیں چل رہی ہیں قطع نظر اس کے کہ اس کا انجام کیا ہوگا مجھے پاکستان بن جانے کا اتناہی یقین ہے جتنا اس بات پر کہ صبح سورج مشرق سے طلوع ہوگا لیکن یاد رکھو یہ وہ پاکستان نہیں ہوگا جو دس کروڑ مسلمانانِ ہند کے ذہن میں ہے ان مخلص نوجوانوں کو کیا معلوم کل ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ کوئی آج مجھے اس بات کا یقین دلادے کہ کل کو اس کی کسی ایک گلی میں بھی شریعت اسلامیہ کا نفاذ ہونیوالا ہے تو رب کعبہ کی قسم میں آج ہی اپنا مشن تبدیل کرنے کو تیار ہوں‘‘ (روزنامہ الجمعیت دہلی)۔ جہاں تک مسلمانوں سے محبت اور ان کی حفاظت کا تعلق ہے تو اس کا اندازہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے جب اکالی لیڈر ماسٹر تارا سنگھ نے تلوار گھما کر مسلمانوں کو خون کی ندیاں بہانے کی دھمکی دی تو حضرت امیر شریعت نے فرمایا:
’’او ماسٹر جی! ہوش کے ناخن لو! کیا کہتے ہو؟ جس قوم کے فرزند خون کے سمندر میں تیرتے ہوں تیری ننھی منی ندیوں سے نہیں ڈرتے‘‘ پھر فرمایا ’’مسٹر محمدعلی جناح کے مقابلے میں تارا سنگھ کی کی تلوار اٹھے گی تو اس کے مقابلے میں پہلے بخاری آئے گا‘‘ (فرموداتِ امیر شریعت،ص:۵۷)
یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کو ان حضرات نے بسرو چشم تسلیم کیا بلکہ اسے مسجد کی حیثیت دے کر اس کے تقدس کو اجاگر کیا اور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کو مسلمانوں کا ملی فریضہ قراردیا۔ ایک موقع پر شاہ جی نے فرمایا:
’’تم میری رائے کو خود فروشی کا نام نہ دو، میری رائے ہار گئی اور اس کہانی کو یہیں دفن کردو۔ اب پاکستان نے جب بھی پکارا واللہ! باللہ! میں اس کے ذرے ذرے کی حفاظت کروں گا۔ الغرض یہ صرف رائے کا اختلاف تھا، یہ حضرات فرماتے تھے تھوڑی ہمت اور کر لیں انگریز دم توڑ چکا ہے اور پورے برصغیر کی آزادی ہو ضرر کو دفع کرنا منفعت حاصل کرنے سے پہلے ضروری ہے اگر آگ لگ جائے تو پہلے آگ بجھائیے پھراپنی زمینوں کو تقسیم کیجئے۔اگر آپ مریض ہیں تو پہلے مرض کو دفع کیجئے پھر تقویت کی فکر کیجئے گا (مکتوبات شیخ الاسلام، ص:۶۰۱)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*