پانی کی عدم دستیابی ……لمحہ فکریہ

عبدالمعید زبیرؔ جامعہ دارالعلوم کراچی
 پانی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ اس کے بغیر انسان کا وجود ممکن نہیں اور اگر انسان کے وجود میں زیادہ چلا جائے تب بھی زندہ رہنا ممکن نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس نعمت کی ناقدری دل کھول کر کرتا ہے۔ اللہ کا قانون ہے کہ جب کس نعمت کی ناقدری کی جائے تو اس نعمت سے برکت اٹھا لیتے ہیں یا وہ نعمت ہی سلب کر لیتے ہیں اور اگر اس نعمت کی قدر کی جائے تو اس میں اضافہ کردیتے ہیں یا تھوڑی نعمت میں ہی برکت ڈال دیتے ہیں۔ فرمان الہی ہے:
لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذا بی لشدید یعنی اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔
پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ پانی کے اسراف سے بچو اگرچہ جاری نہر پر ہی کیوں نہ ہو۔اپنی امت کو سختی سے پانی کے ضیاع سے منع فر مایا۔  اس وقت پاکستان کی صنعتی شہ رگ شہر کراچی پانی کے بحران کا شکار ہے۔ ویسے تو پانی کی کمی کافی دیر سے ہے جس کا اندازہ الیکشن کمپین کے دوران امیدواروں اور باہر کی عوام کو ہو گیا تھا۔ جب ان کا علاقے میں آنے پر ”شاندار” استقبال کیا گیا اور ’’پانی دو ووٹ لو کے بینر جگہ جگہ آویزاں تھے۔‘‘ مگر اب یہ بحران شدت پکڑ گیا ہے۔پورا شہر کراچی پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔ گھریلو استعمال کیلئے اور حتی کہ کھانے پینے کی اشیا میں استعمال کیلئے صاف پانی میسر نہیں۔ گھنٹوں انتظار کرکے چند لیٹر پانی حاصل کرتے ہیں۔
بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے شہر کوپانی میسر کرنے والے تمام ذرائع معذرت خواہ ہیں۔ تالاب خشک ہو چکے ہیں۔  سرکاری طور پر پانی کا نظام بالکل فیل ہوچکا ہے۔  اس پر ایک اور امتحان یہ پیش آگیا کہ کراچی کو صاف پانی سپلائی کرنے والی پائپ لائن کے پھٹنے سے ساٹھ کروڑ گیلن پانی ضائع ہو گیا۔ اس طرح رہتی کسر اس نے پوری کردی۔
دارالعلوم کراچی جیسا سخی مدرسہ (کہ جس کہ مثال پورے پاکستان میں ملنا ناممکن ہے) بھی اس کمی سے دوچار ہے۔ جو طلبہ کو ان کی توقع سے بڑھ کر سہولیات فراہم کرتا ہے حتی کہ اس بحران کے دوران بھی شہر کراچی کی نسبت پانی وافر مقدار میں خرید کر مہیا کرتا رہا ہے۔ مگر پچھلے آٹھ یا دس دن سے دارالعلوم کراچی کو یومیہ پچاس ہزار روپے خرچ کرنے کے باوجود طلبہ کی معمول کی ضرورت کو پوری کرنا میں مشکل کا سامنا رہا ہے۔



اس سال شہر قائد باران رحمت سے بھی محروم رہا ہے۔ بارش اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔  اگر نہ ہو تو قحط کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے اور اگر کہیں زیادہ ہو جائے تو سیلاب کی صورت میں امتحان درپیش ہوتا ہے۔ شہر کراچی بارش کے نہ ہونے کی وجہ سے پانی کے شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ اللہ تعالی اگر ایسی صورت حال پیدا کرتے ہیں تو وہ ضرور ہماری ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نتیجہ ہوتا ہے۔ گناہوں کی کثرت… اللہ کی رحمت کے سامنے رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اللہ کی ناراضگی کا سب بنتی ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سارے مسائل اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا ہمیں اب اپنے گناہوں سے استغفار اور رجوع الی اللہ کی اشد ضرورت ہے خصوصا اہل کراچی کو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اگرایسی صورت حال پیدا ہوتی تھی تو آپ علیہ السلام نماز استسقاء کا اہتمام فرماتے تھے ،جس کا تذکرہ صحیح روایات میں کثرت سے ملتا ہے۔فقہائے کرام ، محدثین عظام اور اکابرین امت اس کا اہتمام فرما تے رہے ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ کے حضور اجتماعی طور پر استاد محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے استغفار کے طور پر دارالعلوم میں نماز استسقاء کا اہتمام کیا ہے، جو تین دن تک جاری رہے گا۔ لہذا جو احباب شرکت کر سکیں وہ بھر پور شرکت کریں اور باقی حضرات خوب استغفار، نوافل اور دعاؤں کا اہتمام کریں اور پوری امت کیلئے تمام ظاہری، باطنی، اخلاقی، مالی اور جانی بحران سے نجات کیلئے اللہ کے حضور خوب  گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ نیز حکمرانوں سے التجا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو حاکم بنایا ہے تو حدیث مبارک کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ کے مطابق رعایا کی خبر گیری آپ کا فرض بنتا ہے۔ لہذا اس مسئلے پر جلد از جلد قابو پائیں تاکہ عوام کی پریشانی ختم ہو۔ جزاک اللہ خیرا واحسن الجزا
٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*