کپتان بمقابلہ چیلنجز

ایم وائے صدیقی خانیوال
22سالہ مسلسل جد و جہد کے بعد کپتان کو خواب کی تعبیر ملی۔دن رات محنت کرتے کرتے، اپوزیشن کا کردار ادا کرتے کرتے، اللے تللے بے نقاب کرتے کرتے، کرپشن زدہ خاندانوں کو بے نقاب کرتے کرتے آخر وہ وقت آگیا ’’’’ھما‘‘‘‘ کپتان کے سر آبیٹھا۔ کپتان کو وزیر اعظم کی کرسی کا وارث بنا دیا گیا ہے۔ یہ کرسی پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ یہ کانٹوں سے بھری ہے۔۔ اس کو بڑی احتیاط اور دانشمندی سے استعمال کرنا پڑے گا۔۔حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی بڑے بڑے چیلنجز سے واسطہ پڑے گا۔۔جس میں سب سے پہلے بگڑی ہوئی معاشی حالت ہے جس کو اپنے پا?ں پرگھڑا کرنے کے لیے معیشت کو مضبوظ کرنے والے اعلیٰ دماغ کے حامل معاشی افراد کی تلاش ہوگی جو ایسے منصوبہ جات پلان کریں جس سے ابتری کی بہتری ہو۔۔۔دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی پلائننگ ہو تاکہ ملک میں امن و امان کی فضاء قائم ہو تاکہ بیرونی سرمایہ کار کھل کر سرمایہ کاری کروسکیں اور ملکی معیشت کی بہتری کا سبب ہو۔سپر الیون میں ایسے کھلاڑيوں کا انتخاب کیا جائے جو ہر طرح سے صادق و امین ہوں تاکہ سابقہ حکومتوں کی طرح انصاف بکنے نہ لگے۔۔۔ تعلیمی شعبہ میں اصلاحات کر کے یکساں نصاب تعلیم رائج کرنے کی طرف بھرپور توجہ دی جائے۔۔۔امیر غریب کے فرق کو مٹا کر ایک جیسا نظام تعلیم رائج کیا جائے۔۔۔۔



محکمہ پولیس سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائیتاکہ مظلوم کو انصاف خریدنا نہ پڑے۔۔۔اے سی۔۔ڈی سی۔۔ایس پی اور سیشن ججز سے کئی کئی کنال پر محیط کوٹھیاں و اگزار گرا کر پبلک سیکٹر کے حوالہ کی جائیں۔۔تاکہ ان سے حاصل ہونے والی رقم کو حکومتی خزانہ میں جمع کرایا جا سکے۔۔
ملک عزیز کو بیرونی قرضوں سے نجات دلانے کے لیے بیرون ملک کمیونٹی سے تعاون حاصل کیا جائے۔۔بیرون ملک بیٹھے ہوئے ذہین لوگوں کو ملک میں ملکی ترقی کے لیے کام کرنے پر قائل کر کے انہیں واپس ملک میں لایا جائے اور ملک میں نئے ڈیمز بنا کر زراعت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہیے،کسانوں کو زرعی آلات اور دیگر سہولتیں مہیا کی جائیں تاکہ کسان ملکی ترقی کے لیے محنت کر سکیں۔۔
کپتان کو ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ وہ بیورو کریسی کے منہ زور گھوڑے کو اپنی فہم و فراست سے کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔۔کہ نہیں؟؟ امید ہے کہ کپتان جس طرح ورلڈ کپ چیت کر پاکستان کے وقار کو بلند کیا تھا اسی طرح مختلف چیلنجز سے بھی نمٹ کر پاکستان کو ایشیاء کا ٹائیگر بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔۔۔اس کیلیے انہیں پڑوسی ممالک کے دورے کرنیچاہیں اور ان ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھا کر معیشت کو مضبوط کر کے بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کر کے ملک کو حقیقی معنوں میں آزاد اور نیا ملک بنانے کے وژن کو پورا کرنا چاہیے۔۔اس کے لییپاکستانی عوام کو بھی غیرملکی اشیاء کا بائیکاٹ کر کے ملکی اشیاء پر انحصار کرنا چاہیے۔۔اگر یہ سب کچھ ہوگیا تو یقیناً آپی قائد اعظم کے بعد پہلے با ہمت اور صحیح حکمران ہونگے۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*