اڑان

محمد طیب طاہر

آج میرا دل کر رہا ہے لکھوں، لکھتا جاوں۔ خود کو خود سے روشناس کرواوں ،آج آوارہ پنچھی(فیس بُکی عارضی نام) کی اڑان کا آخری دن ہے۔آج میری خود ساختہ جلاوطنی ختم ہونے والی ہے، جس شخصیت سے فرار چاہتا تھا وہ پورے قدوکاٹھ سے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہے۔ کل صبح میرے کو پھر میرے اصل کو لوٹ جانا ہے۔جہاں پھر جاننے والے ہوں گئے۔ عزت و احترام ہو گا۔ تقدیس بھرے جملے ہوں گئے۔ “تو” سے نکل کر”آپ”سے مخاطب کیا جائے گا۔منزل کو پا لینا کتنی بڑی قیامت ہے۔ سب کچھ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔خود منزل بھی۔ مجھَ ایسے لگتا ہے جیسے طلب سے عظیم تر کوئی منزل نہیں۔ طلب و جدوجہد بشریت کا تقاضی ہو۔

میری ہمنوا جب بھی زبان سے چار الفاط نکالتی ہے، بات بھلے کوئی بھی ہو رہی ہو اْس نے تان خْدا پر لا توڑنی ہے۔ اْس کی نظر میں خْدا ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو زرا سی نافرمانی پر ناراض ہو جاتا ہے اور بندے کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیتا ہے۔ پھرجہنم کے دروازے پر بیٹھا جلتا دیکھ کرخوش ہوتا ہے۔ ایسا درندا ہے جو اپنے ہاتھوں سے بنا کر سزا دے کر من کی تسکین چاہتا ہے۔ اْس کے لاشعور میں خْدا کا بہت بھیانک چہرہ چْھپا بیٹھا ہے۔ غیرشعوری طور پر وہ اْس خْدا کو مجھ پر مسلط کرنے کی لاحاصل کوشش کرتی رہتی ہے۔ پر پتا نہیں کیوں؟ میرے شعور، لاشعور میں آج تک یہ نہیں بیٹھا کہ وہ ذات اتنی بھیانک ہے۔میں جب بھِی اْسے سوچتا ہوں وہ مجھَے ایک معصوم سا بچہ لگتا ہے۔جو کہ زرا زرا بات پر خوش ہو جاتا ہے۔کتے کو پانی پلانے پر جسم فروش کو جوار رحمت عطا کر دیتا ہے۔ سینکڑوں کتابیں لکھنے والے کو اْس کے علم کے زور پر نہیں بلکہ قلم کی نب پر بیٹھِی پیاسی مکھی کو سیاہی پلا کر پیاس بْجھا دینے پر اپنے مہمان خانے میں مقام عطا کر دیا جاتا ہے۔

چار کتابوں کا خمار دماغ کو چڑھائے ایک صاحب کہنے لگے۔ رب سے مانگو۔اْس سے مانگو تو زبان سے اظہار کرو۔ ارے کون ہو یار تم لوگ؟؟؟؟ کیوں رب سے تعلق کو زبان کا مقید کرتے ہو؟ زبان نا ہو گئ یاں بولیں گے نہیں تو کیا وہ سْنے گا نہیں؟ جو لوگ زبان نہیں رکھتے وہ تو پھر رب سے تعلق کو ترستے رہ گئے۔ بقول شخصے رب کو بول کر بتلاو۔ اظہار کرو۔ کیوں؟؟؟؟ کیوں کے زکریا علیہ سلام نے بول کر بتلایا تھا۔ کیا بْھدی دلیل ہے۔ یوں لگتا جیسے کیسی بازار کے باہر دلال بیٹھے ہیں۔ اوصاف بتلا کر گاہگ گھیر گھار کر لا رہے ہیں۔




میں تو جب دیکھتا ہوں۔ وہ میرے ساتھ اپنے تعلق کو مولی کہہ کر بتلا رہا۔” بے شک اللہ ایمان والوں کا مولی ہے”یہاں اُس نے رب کا لفظ استعال نہیں کیا۔ مالک نہیں بولا۔ کیوں؟؟؟؟؟؟ کیوں کے وہ اپنے بندوں کے ساتھ کیسی سہارے کو نہیں لانا چاہتا۔ وہ یہ یقین دلا رہا ہے کہ میں تمہارا ہوں۔ کافروں کا تو میں کچھ نہیں لگتا۔ اُن کا تو میں رب ہوں۔ بس میں تو تمہارا بنا کیسی سہارے کے تمہارا ہوں۔ ارے دیکھو تو میں مولی ہوں۔ مولی کا کام ہے مددگار ہونا۔ پُرسان حالی میں دیکھ کر اُس کو رفع کرنے کے اسباب پیدا کرنا ہے۔بھلا مولی ایسا ہو سکتا کہ اپنے بندوں کو تکلیف میں دیکھ کر اس چیز کا منتظر رہے کہ یہ ڈھائی تولہ کی زبان ہلائے تو میں اِس کی سنوں؟ اِس کی مشکل حل کروں۔

وہ تو ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتا ہے نا؟

ماں اپنے بچے کے بولنے کا انتظار کرتی رہتی ہے کیا؟

وہ تو اُس کا چہرہ دیکھ کر اُس کے کرب کا اندازہ کر لیتی ہے۔ اُس کو رفو کرنے میں جُت جاتی ہے۔ مائی ہاجرہ کے چکر کس کو یاد نہیں؟

زمزم کا جاری ہونا کس نظر سے ڈھکا ہوا؟

ہمارے ایک نام نہاد معزز ہلکے نے پاکھنڈ مچا رکھا ہے۔ خُدا اور دین کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں۔ حاصل کچھ نہیں۔ اللہ کی طلب و جستجو پیدا نہیں کرتے۔ جنت کی طلب و آرزو جگاتے ہیں۔ سجدے میں سر رکھتے ہیں تو لب گنگناتے ہیں اللہ کے لیے پر مطع نظر جنت کا حصول ہوتا ہے۔ ثواب کی گٹھڑی کو کمر پر لادنا ہوتا ہے۔

پتا نہیں کیوں؟

میرے دل میں جنت کی آرزو کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ اگر اللہ جنت دے دے تو مضائقہ نہیں لیکن اِس کی آرزو کبھی پیدا نہیں ہوئی۔

دوزخ کا ڈر شائد ہمنوا کی وجہ سے شدت سے محسوس ہونے لگا ہے لیکن دوزخ سے بچنے کے لیے ثواب کمانے کی آرزو نہیں رکھتا۔ مجھَے اِس آرزو سے دُکان داری کی بُو آتی ہے۔ میرے ذین میں نیکی، خواہش حصول ثواب سے بے تعلق چیز ہے، بے مقصد،بے نیاز۔ مجھے یہ آرزو بھی نہیں کہ اللہ والا بن جاوں یاں بزرگی مل جائے۔ معصیت کا احساس میرے لیے خوش قسمتی کا نشان ہے،  میری ناقص عقل کے مطابق معصیت نہ ہو تو رحمت کیسے جوش میں آئے گئی؟

میری بس اتنی سی خواہش ہے کہ میری منزل سیدھی رہے۔ رب کی طرف، انسانیت کی طرف۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*