عامر عسکری،ادب، سخن اور ریڈیو

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ
محبت ، عزت ، انس ، خلوص اور وفا یہ علوی جذبے ہیں اور ان خزانوں میں سے ہیں جو بانٹنے سے بڑھتے ہیں ۔ روئے زمین پر خدا نے تمام انسانوں کو مختلف مگر ضروری صلاحیتوں کے ساتھ پیدا فرمایا اور کچھ خداداد صلاحیتیں ایسی ہیں جو انسان کی شناخت بن جاتی ہیں ۔ کسی کو آواز خوبصورت دی تو کسی کے قلم میں طاقت رکھ دی ۔کسی کو طاقت دی تو کسی کے ضمیر میں فیصلوں اور دانش کے راز رکھ دئیے ۔ انہی صلاحیتوں کو انسان بروئے کار لاتے ہوئے فنکار بنتا ہے ۔ان فنکاروں کے دل کا چین و بے چینی معاشرے کے سکون و بے چینی سے وابستہ ہو جاتی ہے اور جب تک وہ ان نا انصافیوں کے خلاف معاشرے کی آواز نہیں بنتا تب تک سکون نہیں پاتا ۔ میں ایسے ہی ایک شخص سے آپ کا تعارف کروانا چاہوں گا جو سکونِ قلب کی خاطر ہی ادب و سخن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جنہوں نے زندگی کا ایک بڑا حصہ ادب و سخن اور ریڈیو کی خدمات میں گزار دیا۔ میری مراد مشہورو معروف شاعر،ادیب اور سینئر ریڈیو اینکر پرسن عامر عسکری ہیں ۔ہمارے معاشرے کی ایک عادت بہت بری ہے کہ جو چیز پاس ہو اس کی ہمیں قدر نہیں ہوتی اور جب وہ نہیں رہتی تو پیچھے ہم اس کے نام کے دئیے روشن کرتے پھرتے ہیں ۔ بڑا مشہور پنجابی محاورہ ہے ’’ موئے پتر دا متھا چن ورگا‘‘۔یہ عنصر ہمارے معاشرے میں شاید فطری پایا جاتا ہو مگر میں اسے احسان فراموشی ، فہم سے عاری اور دانش سے انکاری ہونے کا نام دوں




گا ۔ عامر عسکری کو رب نے خوبصورت الحانی کے ساتھ ساتھ فہم و فراست اور دانش ورانہ مزاج سے بھی نوازا ہے ۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے ریڈیو پاکستان پر اپنی خوبصورت آواز میں رونقیں بکھیر رہے ہیں ۔ عامر عسکری نے اپنے ادبی سفر کے بارے میں بتایا کہ ان کی والدہ مرحومہ سعیدہ نازملک کی نامور شاعرہ تھیں اور ان کی خالہ معروف ناول نگار قراۃ العین حیدر گزری ہیں جن کا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ بہت مقبول ہوا ۔ نانا ایف سی کالج لاہور میں عربی ، فارسی اور اردو کے پروفیسرتھے جو کہ مرتضیٰ ادیب کے نام سے جانے جاتے تھے کی صحبت ، تعلیم و تربیت کی وجہ سے انہیں بچپن سے ہی ادب و سخن سے بڑا شغف پیدا ہوگیا۔عامر عسکری کا جنم استھان کراچی ہے اور وہیں سے انہوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ قومی زبان اردو میں ہی ماسٹر ز تک تعلیم حاصل کی اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ، حال میں بھی وہ ریڈیو پاکستان سے راولپنڈی اور اسلام آباد سے بطور اینکر پرسن اور براڈ کاسٹر وابستہ ہیں ۔ ان کے مشہور پروگرام ’’شب کی دہلیز پر‘‘ کو نہ صرف عوامی بلکہ ادارتی و عسکری سیکٹرز میں بھی بڑی مقبولیت حاصل ہے۔1984 میں وہ امریکہ کے شہر دلاس منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے Better Buisiness Consultant کا کاروبار شروع کیا اور اس دوران دھنک ریڈیو دلاس کے ساتھ بھی منسلک رہے۔دلاس میں ہی انہوں نے پہلا دیسی پروگرام شروع کیا اور لاتعداد ادبی نشستوں اور مشاعروں کا انعقاد بھی کروایا ۔ پروگراموں میں وہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے اردو شعراء کے کلاموں کو اپنی جادو بھری آواز کے ساتھ جلا بخشتے ہیں ۔ اپنے طویل کیرئیر میں انہوں نے جہاں ادب کی خدمت کی ہے وہیں کافی لوگوں کو متعارف بھی کروایا ہے جبکہ عالمی شہرت یافتہ سیاسی ، سماجی اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہستیوں کے انٹرویوز بھی کئے ہیں ۔ جن شخصیات کے انہوں نے ریڈیو پر انٹرویوز کئے ان میں ریٹائرڈ جنرل ، اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف ، سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو ، بھارتی اداکاروں میں امیتابھ بچن، گووندا ، شاہ رخ خان ، عامر خان اور پاکستانی اداکاروں میں محمد ندیم مرحوم، گلوکار جواد احمد ، معروف نثر گو اور اداکار غلام محی الدین ، معروف کامیڈین عمر شریف مرحوم، اداکار معین اختر مرحوم و دیگر شامل ہیں ۔جبکہ پاکستانی ثقافت کے فروغ کیلئے لاتعداد شوز کا انعقا د بھی کروایا۔ان کی آواز ان کیلئے اللہ تعالیٰ کی دی گئی ان نعمتوں میں سے ایک ہے جو پہچان کا مؤجب بنتی ہیں ۔ریڈیو پر کوئی بھی شخص کسی کو دیکھ نہیں رہا ہوتا اور اس ملٹی میڈیا کے زمانے بھی اگر لوگوں کو ریڈیو کے ساتھ جوڑے رکھنے کا فن کسی کے پاس ہے تو وہ عامر عسکری ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اناؤنسمنٹ ہی ایک علیحدہ انداز ہوتا ہے ، شو پڑھنے کا انداز الگ ہوگا اور بات چیت کا لب و لہجہ اور ہوگا ، جن لوگوں کو اس پر عبور حاصل ہو جائے اور اللہ نے اسے آواز بھی دے رکھی ہو تو وہ ایک کامیاب براڈ کاسٹر بن سکتا ہے ، اور الحمد للہ میری پہچان ریڈیو ہے۔ دلاس کے لوگ انہیں ریڈیو کی وجہ سے ہی جانتے ہیں ، ،محبت کرتے ہیں اور عزت دیتے ہیں ۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ریڈیو میں کرتا رہوں گا لیکن ہمارے ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں ٹیلنٹ کے ساتھ سفارش بھی دیکھی جاتی ہے لیکن میں اپنے اور نوجوانوں کی قابلیت کو ترجیح دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو پاکستانی ہونے پر فخر کرنا چاہئے کیونکہ ہماری پہچان ، عزت ، شانِ شایان سب اسی کے دم سے ہے ، یہاں تک اگر آپ پاکستان سے ہجرت کر گئے اور کسی بھی ملک میں مقیم ہیں تو بھی وہاں پاکستانی ثقافت، اسلامیت ، ادب اور پاکستانیت کو لوگوں میں پھیلائیں ۔کبھی کسی پر انحصار نہ کریں کہ خدا لوگوں کی محتاجی کو نا پسند کرتا ہے ہمیشہ اپنی خودی کو سنواریں اور اقبال کے فلسفہ حیات کو اپنا شعار بنائیں ۔اگر آپ کامیاب بننا چاہتے ہیں تو پہلے مقصد کا چناؤ کریں اور پھر اس کی منزل حاصل کرنے کیلئے جی جان سے محنت کریں ۔ اپنی اپنی قابلیت سے پاکستان کی خدمت کریں ۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*