نیا پاکستان پرانی اناڑی ٹیم

تحریر:عثمان مایار
پاکستان کے یوم پیدائش کے مقدس مہینے اگست ہی میں ایک نئے پاکستان نے باضابطہ طورپراُس وقت کام شروع کیا جب 18
اگست کو عمران خان نے ملک کے 22ویں وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔قائداعظم محمدعلی جناح اور ہمارے بزرگوں کی کوششوں سے حاصل کردہ پرانے پاکستان کے مقابلے میں نیا پاکستان بے روزگاری،لاقانونیت،غربت اورکرپشن کے ستائے ہوئے عوام کا مطالبہ تو نہیں تھا اور نہ ہی اِس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کیونکہ صحت کی سہولیات اور صاف پانی کی حصول کے لئے دربدر ٹھوکریں کھانے والے اور غیروں کی جنگوں میں اپنے پیاروں کی قیمتی جانیں گنوانے والے عوام تواِن حالات سے مانوس ہوچکے تھے اور اپنی قسمت اور تقدیر کا فیصلہ حالات ہی کے سپرد کرچکے تھے مگر کہتے ہے نا کہ مداریوں کے نعرے اور آوازیں ہی نرالے ہوتے ہیں اور وہ اِس فن سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کس طریقے سے اپنے ارد گرد لوگوں کاہجوم اکٹھا کروانا ہے تاکہ لوگ تماشہ سے بھی محضوظ ہوسکے اور اُن کی دکانداری بھی چلتی رہے۔ مداریوں کایہی فارمولہ ہمارے سیاستدانوں نے بھی اپنایاہوا ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے نئے نئے سیاسی نعرے لگتے ہیں اور نئے رنگوں سے بنے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں اور نئے پاکستان کانعرہ آزادی دھرنے کے نام پر کنٹینر پرچڑھے عمران خان ہی نے لگایا تھا۔سیاسی میدان جنگ میںاِس نئے نعرے کی گونج کو نوجوانان پاکستان نے خصوصی پزیرائی بخشی اور یوں 25جولائی کو نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی ۔ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی تاریخی کامیابی کے بعدظاہر ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کے ہر فرد کی امیدوں کامخور اب کپتان صاحب ہی ٹہر ا ہیں خواہ کسی نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہو یا نہیںمگراس نئے گھر کے مکینوں نے بہت جلدہی عوام کو لال جھنڈی دکھادی اور “بنے گا نیاپاکستان جب آئے گا عمران” کانعرہ اُس وقت سراب اور فریبی نعرہ ثابت ہوا جب قوم سے اپنے پہلے ہی خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے عوام کو سخت مایوس کیا۔



مجھ سمیت ہر ایک پاکستانی پرامیدتھا کہ وزیر اعظم صاحب اس مہم خطاب میں اہم معاملوںیعنی دہشت گردی کے خاتمے،علاقائی امن واستحکام کے قیام،پڑوسی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کے سرپر قائم بلیک لسٹ کے خطرے کے خاتمے اور پاک امریکہ تعلقات پرنئے حکومت کی پالیسیوں پرروشنی ڈالے گا اورسربراہ مملکت کی حیثیت سے اپنے تجاویز قوم سے شیئر کرے گا مگرتقریر کی بجائے گویا خان صاحب نے پریس بریفنگ کردی اوراپنی عادت کے مطابق ہی صرف مخالف سیاسی پارٹیوں خصوصی طور پر مسلم لیگ ن کو اپنے تنقید کاہدف بنادیا اور ملکی استحکام کے حوالے سے ایک لفظ تک نہ کہہ سکے۔خیریہ تو ہرالیکشن کے بعد منتخب ہونے والی حکومت کامعمول ہے کہ اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے بعدوہ گزشتہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید اور الزامات کے تیر ہی برساتی رہتی ہے اور عوام کووہی جھوٹی تسلیاں اورلوریاں ہی سناتی رہتی ہیںجو ہم گزشتہ ستر برس سے سُن رہے ہیں۔



انتخابی عمل میں اداروں کی بے جا مداخلت ،غیرنظریاتی اور بے ضمیرلوگوں کے ذریعے حکومتیں قائم کرنے اور گرانے کی ڈراموں کے کئی اقساط سے لطف اندوز ہوکر تقریباٍ ًہرایک پاکستانی اب سلیکٹ اورالیکٹ کے لفظوں سے اشناہوچکاہے ۔میدان صحافت میں دس سال کے تجربے سے اِس خاکسارکوبھی بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کاموقع ملا اور انہی تجربات کے بناپر ہی میں نے اپنے گزشتہ کالموں میں ذکر کیاتھا کہ ووٹ پرچی کی بجائے کسی اور سہارے سے منصب اقتدار تک پہنچنے والوں سے خیر کی توقع رکھنا اپنے آپ کودھوکہ دینا ہے ۔حالیہ الیکشن کے بعد بھی اب تک بھی کچھ ایسے ہی اشارے مل رہے ہیں کہ پاکستان وہی کا وہی رہے گاجوگزشتہ ستر برسوں سے ہے ہاں اگرکچھ تبدیلی آبھی گئی ہے تو صرف ایوان اقتدار کے مکینوں کی شکلوں کی تبدیلی ہے یعنی چہرے بدل گئے مگر پالیسیاں اور کارنامے وہی پرانے پاکستان ہی کی چل رہی ہے کم ازکم عمران خان کے پہلے تقریر سے تو یہی تاثر ملا ہے آگے آگے دیکھیں ہوتاہے کیا۔
احتساب احتساب کے نعرے تو گزشتہ وزرائے اعظم سے بھی سننے کو ملے اور کفایت شعاری کادرس بھی مگر ان پر کتنا عمل درآمد ہوسکا یہ شاید کوئی بھی حکومت ثابت کرنے میں ناکام ہوگا البتہ سیاسی مخالفت میں اپنے حریفوں کے خلاف مقدمے درج کرنے کی روایت وہی برسوں پرانی ہی ہے جوکہ آج بھی چل رہا ہے اور آئندہ بھی یہ عمل جاری ہی رہے گاقید اور جائیدادیں ضبط کرنے کی سزائیں سنائی ہی دے گی مگر قومی خزانہ پھر بھی سود در سود قرضو پرہی کبھی خالی تو کبھی بھرا رہے گا۔
نئے پاکستان کے ایوان اقتدار کے مکینوںکواگر سیاسی چپقلش اور الزامات کی سیاست سے چھٹکارا ملے توپلیز ملک کی حالت پر بھی رحم کریں۔ایف اے ٹی ایف کے بلیک لسٹ سے بچنے کی تدابیر پر توفی الحال خاموشی ہی خاموشی ہے۔امریکہ وزیرخارجہ مائیک پومپیو صدر ڈونلڈٹرمپ کا سخت پیغام لے کر اسلام آباد کادورہ کرچکے اورپاکستان آمدسے قبل ہی امدادی چیک روک کرپاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاچکے ہے مگر قوم اِس فضول بحث میں الجھائی گئی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے عمران خان کے ساتھ گزشتہ ہفتے کی گئی گفتگومیں “ڈومور” کامطالبہ نہیں کیا بلکہ خان صاحب کومبارکباد اور نیک خواہشات کاپیغام دیا اورسینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران دو دفعہ کپتان صاحب نے فرانس کے صدر کاٹیلی فون ریسیو کرنے سے انکار کیاتھا۔عمران خان سے پہلے بھی توکئی وزرائے اعظم جی ایچ کیو کے دورے کرچکے ہیں مگر خان صاحب کے اِس دورے کااتناشور شرابا کیوں ؟یہ منطق کم ازکم میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔نیاپاکستان اور پرانی طرز کی اناڑی ٹیم ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ امن واستحکام اور ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے حکومت کوکئی اہم اور مشکل فیصلے کرنے ہونگے دوسری صورت میں نئے پاکستان میں بھی کنٹینر سیاست ہی پروان چڑھنے کاخدشہ ہے کاش کہ ایسا نہ ہو۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*