عمر ابن الخطاب‎

محمد طیب طاہر

دن بھر کا بہٹکا ہوا۔ شام کو لوٹ آئے تو اُسے بہٹکا ہوا نہیں کہتے۔چلو جو بھی ہوا لوٹ کے بُدھو گھر کو آئے۔ ڈھلتا سورج اکثر طبیعت بوجھل کر دیتا ہے۔پر کچھ شامیں بہت پراسرار ہوتی ہیں۔اپنے اندر گہرا اثر رکھتی ہیں۔انہیں شاموں میں کچھ قافلے راہ سے ہٹ کر منزل کھوٹی کر لیتے ہیں۔تو کچھ منزل کا نشان پا جاتے ہیں۔

کہتے ہیں طلب کی ہار نہیں ہوتی۔جستجو کامل ہو، یقین غیر متزلزل تو مراد بر ہی آتی ہے۔مکہ کی گلیاں حضور کو ماننے والوں کے لیے تنگ ہو چکی ہیں۔کوئی جاہ پناہ نہیں ہے۔ سر مالک دو جہاں کے سامنے جُھکانے کو کوئی سائباں میسر نہیں۔ذاتِ واحد کا نام لینے پر دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا ہے۔مکہ کی تپتی ریت پر گھسیٹا جاتا ہے۔اتنا مارا جاتا ہے کہ زندگی اور موت کی حد فاصل بال برابر رہ جاتی ہے۔

ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو فرعون کے گھر میں موسی پیدا ہو جاتا ہے۔آتش نمردو جب بھڑکتی ہے تو وحدانیت کا ثبوت دینے خلیل پیدا ہو جاتا ہے۔ پنج شبہ کی رات حضور حزن وملال سے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔” مالک تیرا نام لینے والے بہت کمزور ہیں۔ناتواں ہیں۔ تو عمر بن ہشام یا عمر بن الخطاب میں سےجو تجھے پسند ہیں۔ ہدایت کی روشی عطا فرما کر اِن سے اسلام کا بول بالا فرما”۔ یہاں دعا کی جا رہی۔ وہاں قتل کے ارداہ سے تلوار گلے میں حمائل کیے چلے آ رہے ہیں۔ راستہ میں ایک بندا ملا۔ پوچھا! “کہاں جا رہے ہو؟” “محمد کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔” اُن کی خبر بعد میں لینا ،جاو پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔ سننا تھا کہ ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ غصے میں بپھرے بہن کے گھر کی راہ لی۔ جا کر اِس زور سے بہن کے منہ پت طمانچہ مارا کے خون نکل آیا۔ بہنوئی کو لیٹا کر خوب پیٹا۔ بہن کے چہرے پر خون کے دھبے دیکھ کر غصہ ٹھنڈا ہوا. .  کہنے لگے۔۔”دیکھاو کیا پڑھ رہے تھے”۔ بہن نے دیکھانے سے انکار کر دیا۔ کہا ” تو ناپاک ہے۔ اِس کو ناپاک ہاتھ نہیں چھو سکتے۔” غسل کیا. . . پڑھا. . قرآن کا اعجاز ہے. کھلی آنکھ اور باضمیر دل سے پڑھا جائے تو اندر انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ کہنے لگے” مجھے لے چلو حضور کی خدمت میں۔”

جا کر کلمہ پڑھ کر مشرف بااسلام ہو گئے۔ تلوار نکالی اور حرم میں چل دیے. .  جا کر نفل پڑھے. . اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا. .۔۔۔ اُس دن کے بعد سبھی مسلمان حرم میں نماز پڑھنے لگے۔ عمر کی صورت اسلام کو محافظ مل گیا۔ ہجرت کا حکم ملا. . .  تو سبھی چُھپ چُھپ کر ہجرت کرنے لگے. . عمر نے جب ہجرت کا فیصلہ کیا. .  تو تیر کمان ساتھ لیا۔۔ترکش میں تیر ڈالے. . تلوار حمائل کی اور حرم میں آ کر نفل پڑھے پھر اعلان کیا۔” جس کا دل چاہتا ہے۔ اُس کے بچے یتیم ہوں،اُس کی بیوی رانڈ ہو، اُس کی ماں اُس کو روئے۔ وہ حرم سے باہر نکل کر میرا مقابلہ کرئے۔” اعلان کر کے سب کے سامنے مدینہ کو روانہ ہوئے۔ کیسی کی ہمت نا پڑی کہ روکتا. .  روکنا تو درکنار، روکنے کا خیال بھی دل میں لاتا. .

جو کلمہ پڑھ لیتا وہ حضور کا ہو جاتا. .  ہر غزوہ میں حضور کے ساتھ شریک رہے. .جنتی ہونے کی بشارت بارہا حضور کی زبان اقدس سے سنی. . ایک دفعہ کہنے لگے” حضور میرا دل کرتا ہے،اہل اسلام کی عورتیں چادروں سے سر اور چہرہ ڈھانپ کر نکلا کریں۔” ربِ کائنات نے آسمان سے پردے کا حکم نازل فرما دیا۔ بدر کے موقع پر آپ کی رائے سب قیدیوں کو قتل کرنے کی تھی. .  مشورہ میں فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا. . کبیدہ خاطر نہیں ہوئے. . فیصلہ کو قبول فرما لیا. . آسمان سے وحی اتری۔ جس میں شدت کے ساتھ غصہ کا اظہار کیا گیا. . اور آپ کو تنبیہ فرمائی گئی. . . اللہ پاک بھی وہی چاہتے تھے جو عمر کی رائے تھی. . آپ نے مشور میں طے کیا. . . اِس لیے ہم نے بھیجا ہوا عذاب واپس کر دیا. . .  کئی ایک موقع پر آپ کی منشاء کے مطابق قرآن اترا. . ایک دفعہ تو حضور نے فرما دیا” میرے بعد کوئی نبی ہوتا۔تو وہ عمر ہوتا۔” آپ نے فرمایا” جس راستہ سے عمر گذر جائے، شیطان اُس راستہ سے نہیں گذرتا۔”

حضور کی رحلت سمے ایسی جنوں کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تلوار لٹکائے مدینہ کی گلیوں میں چکر لگاتے پھرتے تھے۔ خبردار جو کیسی نے کہا کہ حضور کا انتقال ہو گیا۔ حضور کا انتقال نہیں ہوا وہ رب سے ملاقات کرنے گئے ہیں۔ ابھی کہ ابھی پلٹ آئیں گئے. .  اِس امت پر بہت بڑا احسان عمر کا یہ بھی ہے کہ آپ کی رائے پر ابوبکر خلیفہ بنا دئیے گئے.. . ابوبکر کے بعد بارِخلافت عمر کے کندھوں پر آ پڑا. . تاریخ شاہد ہے. . جس خوش اسلوبی سے آپ نے یہ نظام چلایا اِس کی مثال دنیا میں لانا نا ممکن ہے. .  وقت کی دو سپر پاورز کو بیک وقت سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیا. . ریاست مدینہ دس سے بارہ لاکھ مربع میل تک پھیلا دی. .قانون کی بالادستی کو عام کیا. . قاضی مقرر فرمائے. . گورنرمتعین کیے. . اثاثہ جات ڈکلئیر کرنے کا غیر یقینی قدم اٹھایا. . .  ڈاک کا نظام وضع کیا. . ہجری کیلنڈر کی ابتدا کی. . لڑنے والے سپاہیوں کی تنخواہیں مقرر فرمائیں. . غریبوں، یتیموں اور دودھ پیتے بچوں کا وظیفہ بیت المال سے جاری کیا گیا. . خود کو احتساب کے لیے پیش کیا. . حق گوئی کی جرات لوگوں میں پیدا کی. .  بھرے مجمع میں جمعہ کا خطبہ ہو رہا ایک بندا کھڑا ہو کر سوال کر رہا،” یہ چادر کہاں سے آئے؟” مشہور زمانہ قول بھی انہیں کا ہے. “دجلہ کنارے اگر کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو سوال عمر سے کیا جائے گا؟” جب تک خلافت پر متمکن رہے چھنے ہوئے آٹی کی روٹی نہیں کھائی. . .  اینٹ سر کے نیچے رکھے، ننگے فرش پر سو جایا کرتے. . . باہر سے آنے والا پہچان نا پاتا کہ کون ہیں. . زمین ہی کیا. . . زمین پر بسنے والی ہر چیز تابع تھی. . نیل کو خط لکھا. . وہ 16 ہاتھ کی بلندی پر چلنے لگا. . زمین میں زلزلہ آیا. . کوڑا مارا. . کہا ” عمر تجھ پر انصاف نہیں کرتا کیا؟” زلزلہ رک گیا. .  منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں۔” یا ساریاة الجبل” ہوا پیام پہنچا رہی ہے. . آگ نکلتی ہے. . تمیم داری کو حکم دیتے ہیں وہ جا کر وہیں دفنا آتے ہیں. .

ایک غلام ابولولوفیروز کا فیصلہ فرمایا جو کہ اُس کے حق میں نہیں تھا. .  اُس ظالم نے بیر رکھ لیا. . ایک دن نماز کے لیے تشریف لائے. . تو اُس نے خنجر کے پے در پے وار کیے.  جس سے حالت انتہائی نازک ہو گئی. . شہد ملا پانی پلایا گیا جو کہ آنتوں کے راستے باہر نکل گیا. . بچ رہنے کی امید ختم ہو گئی. .  اپنے بیٹے عبداللہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹے تھے. . . کہنے لگے میرا سر نیچے رکھ دے زمین پر. . . مٹی میں ملنے لگے. . . ایک دفعہ کہا اے عمر ” تو ذلیل تھا، اسلام نے تجھے عزت دی، تو گمراہ تھا، اسلام نے ہدایت عطا کی، تو تو وہ تھا جیسے اونٹ بھی چرانے نہیں آتے تھے، آج مسلمانوں کا خلیفہ بنا ہوا ہے”. .  یہ کہہ کر گھنٹوں روتے رہے. . زخموں کی تاب نا لا کر عالم اسلام کا یہ جلیل اقدر سپوت مالک حقیقی سے جا ملا. . حضور کے حجرہ میں امی جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی اجازت سے مٹی کی امانت مٹی کو لوٹا دی گئی. . .




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*