کیا حقیقت میں یہی ہے نیا پاکستان

تحریر: عبدالہادی قریشی ، عرفان آباد ترامڑی اسلام آباد
نیا پاکستان بقول وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے معرض وجود میں آچکا ہے میرے نظریات کے مطابق عوام ایک بار دھوکہ میں آرہی ہے اورہوسکتا ہے کچھ عقل مند لوگوں کو سمجھ آبھی چکی ہو جب سے پاکستان بنا ہے ہر سیاسی لیڈر معصوم عوام کو کسی نہ کسی طرح
سے کوئی نہ کوئی نیا نعرہ دے کر بے وقوف بنا کر اور ووٹ لیکر مسند سنبھالنے میں لگا ہوا ہے کسی نے عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا کوئی خوشحال پاکستان کا منشور لے کر مسند پر جلوہ افروز ہوا کوئی انقلاب پاکستان کا علمبردار بن کر ماڈل ٹاؤن میں ن لیگ کی حکومت سے اپنے 14بے گناہ و بے قصور لوگوں کو شہید کروا بیٹھا میرے کہنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ جب سے پاکستان بنا کر سوائے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالیٰ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اور دیگر عظیم اکابرین نے پاکستان کے ساتھ خالصتاََ وفا کا حق ادا کیا لیکن بعد میں روٹی کپڑا اور مکان کا منشور لے کر آنے والے صرف جھوٹے نعروں اور وعدوں کی حد تک رہے عملی کام عوام کے لیئے کسی بھی طرح کا نہ کیا گیا عمران خان ایک اچھے انسان ہیں1992میں انھوں نے پاکستان کو ولڈ کپ جیتوایا میں نے خود پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا اور بلے پر مہر لگائی لیکن میرے نظریات کہتے ہیں کہ اب تک حکومت پاکستان تحریک انصاف کی آئے ہوئے 24یا25دن کے قریب ہونے کو آئے ہیں مگر ہمیں کوئی ترقیاتی کام عوام الناس کو سہولیات دینے کے اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں پرائم منسٹرہاؤس میں مہنگی ترین سرکاری گاڑیوں کی نیلامی ہو رہی ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ گاڑیاں عام عوام لے رہی ہے یا حکومت کا کوئی عزیز کوئی جانے والا امیر ترین شخص وہ گاڑیاں لے جائے گا اور سب دیکھتے رہ جائیں گے نیا پاکستان



بن گیا تحریک انصاف کو موقع ملنا چاہیئے تھا بہت اچھی بات ہے کوشش کر رہے تھے یہ نیا پاکستان کا نعرہ دے کر اقتدار میں آئے ہیں مگر ہم لکھاری عمران خان کو اور ان کی حکومت کو اُس وقت تک اچھا نہیں لکھ سکتے جب تک یہ اپنے عوام سے کیئے گئے وعدوں میں سے کسی ایک وعدے کو پورا نہیں کریں گے جب تحریک انصاف نے اچھے کام شروع کر دیئے ہم ان کے حمایت میں بھی کھلم کھلا لکھنا شروع کر دیں گے عمران خان ایک بہترین انسان ہیں لیڈر میں اُنھیں نہیں مانتا کیونکہ لیڈر کی صفات باتیں کرنے سے زیادہ عمل ہوتا ہے جو شخص باتوں پر فقط نعروں پر عوام کو خوش کرکے ووٹ لینے کا فن جانتا ہو وہ اپنے آپ کو جتنا مرضی لیڈر کہلواتا پھرے وہ لیڈر نہیں ہو سکتا اب اب کچھ معاملات کچھ حقائق میں عوام کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں عمران خان نے بے روزگاری کے خاتمہ پر بھی حلف لینے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں بات کی پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے کاروباری کرنے پرھے لکھے اور بے روزگار نوجوانوں کو
مالی لحاظ سے پریشان کرنے کے لیئے مختلف طرح کے ٹیسٹنگ سروسز کا قیام عمل میں لایا تھا جن میں نیشنل ٹیسٹنگ سروسز NTS، پاکستان ٹیسٹنگ سروس PTS، اوپن ٹیسٹنگ سروس OTSاور یونیورسل ٹیسٹنگ سروس UTSسمیت دیگر ادارے بنائے تھے اوران اداروں کا کام بے روزگار نوجوانوں سے فی سرکاری پوسٹ کے حساب سے بینک چالان 300سے لیکر800روپے تک وصول کرنا تھا یعنی جو اُمید وار سرکاری پوسٹ کے لیئے اپلائی کرنا چاہتا چھوٹے گریڈ کی پوسٹ کا وہ کم بینک چالان دیتا جبکہ زیادہ تعلیمی قابلیت کے مطابق زیادہ بینک چالان دیتا اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے عمران خان سے ادب سے سوال ہے کہ آپ نے اب تک نیشنل ٹیسٹنگ سروسز میں سے بینک چالان ختم کرنے کے احکامات کیوں جاری نہیں کیئے کیونکہ میرے نظریات کہتے ہیں کہ جو نوجوان بے روزگار ہو اُس کے پاس پیسے نہیں ہوا کرتے وہ پیسے لینے کے لیئے بڑے بھائی یا والدین کا محتاج ہوتا ہے خان صاحب بینک چالان ایک نوجوان بغیر والدین سے مانگے کہاں سے لائے گا آپ کی حکومت میں اب تک نوجوانوں کے لیئے ٹیسٹنگ سروسز میں سے بینک چالان کو کیوں ختم نہ کیا گیا اس میں کوئی مشاورتی کمیٹی نہیں بنتی اس میں کسی طرح کی کوئی تحقیقات کی ضرورت نہیں آپ کے صرف احکامات جاری کرنے ہیں بینک چالان کے ختم کرنے کے مگر معذرت کے ساتھ اب تک آپ بھی عمران خان صرف نعروں اوروعدوں کی سیاست پاکستانی عوام کے ساتھ کرتے آئے ہیں دوسرا معاملہ ہیلی کاپٹر کا تحریک انصاف کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ



خان صاحب بنی گالہ سے پرائم منسٹر ہاؤس ہیلی کاپٹر پر جاتے ہیں کیونکہ 55روپے
فی کلومیٹر ہیلی کاپٹر کا خرچہ ہوتا ہے محترم میری یاما موٹر سائیکل ہے مجھے آبپارہ تک بھی جانا ہو میں 200روپے کا پٹرول بھرواتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ فاصلہ زیادہ اور پٹرول مہنگا ہے آپ کتنی احمکانہ بات کر رہے ہیں اگر55روپے فی کلومیٹر ہیلی کاپٹر کا خرچہ آتا ہے تو میرے نظریات کے مطابق ہر پاکستانی کو ایک عدد ہیلی کاپٹر لے لینا چاہیئے تحریک انصاف کی حکومت میں لوڈشیڈنگ میں بے انتہا اضافہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں اضافہ ہر گھنٹے بعد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے انھوں نے حکومت میں آنے کے بعد ہر وہ کام شروع کر دیئے ہیں وہ پچھلی حکومتیں کرتی آئی ہیں نعرہ بس نیا پاکستان کا تھا فرق ان میں اور باقی حکومتوں میں کسی بھی طرح کا کچھ خاص نہیں ہے
بجلی مہنگی ہو گئی ہے میں بطور کالم نگار اپنے نظریات کے مطابق کہتا ہوں کہ تحریک انصاف کا 5سال پورا کرنا مشکل ہوجائے گا اگر ان کی یہی صورت حال رہی کچھ دن ہوئے ہیں حکومت میں آئے ہوئے اور ابھی سے عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیئے ہیں




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*