جنگل میں گاؤں۔۔۔ افسانہ

وقار احمد ملک

کراچی اور ملتان جاتی ہوئی ایم ایم عالم نامی شاہراہ سے ایک لنک روڈ کندیاں نامی ایک تاریخی شہر کی طرف جاتا ہے۔ مغرب کی سمت جاتے ہوئے اس لنک روڈ پر دو تین کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے سندھ سے نکالی گئی ایک بہت گہری اور تیز رفتار نہر “تھل کینال”نامی جنوب کی طرف رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ نہر کے دونوں جانب ایک گھنا جنگل موجود ہے جہاں ہر وقت پر سکون خاموشی اور سکون کی کیفیت چھائی رہتی ہے۔کندیاں، چشمہ اور ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی ٹریفک اسی سڑک سے گزرتی ہے۔نہر تھل کے قریب واقع اس جنگل میں اور خاص طور پر نہر کے شرقی اور غربی کناروں کی سنسان سڑکوں پر اکثر قتل و غارت اور ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ شام کے بعد یہاں ٹریفک کی روانی تھم سی جاتی ہے۔ نہر کے غربی کنارے پر سفر کریں تو پانچ کلو میٹر دور ایک چھوٹا سا گاؤں شام نگر موجود ہے۔ بوڑھ اور ٹاہلیوں کے جنگل نے اس گاؤں کو اپنے حصار میں لیا ہو اہے۔ شام نگر کے شمال میں آموں کا ایک باغ بھی ہے۔ اس باغ اور جنگل کی کوئی حدِ فاصل نہیں ھے۔
شام ڈھل رہی ہے۔ باغ کے عین درمیان میں جنگلی گھاس پر گاؤں کے چند نشہ باز پرانی سرنجوں سے کے ذریعے اپنی رگوں میں ہیروئن کا زہر اتار رہے ہیں۔ اس ٹولی میں رشید بھی موجود ہے۔ رشید گاؤں میں نشے کی لعنت کا شکار ہو کر اب شیدے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ رشید کی عمر ستائیس برس سے کچھ اوپر ہے۔ چند سال پہلے تک وہ گاؤں کا ایک خوبرو نوجوان سمجھا جاتا تھا۔جب اس کی شادی شہر میں رہائش پزیر ایک دور پرے کی رشتہ دار فوزیہ سے ہوئی توگاؤں کی کئی لڑکیوں کے سپنے بھی ٹوٹ گئے۔فوزیہ نے ابھی پچھلے سال ہی بی اے کیا تھا۔ ابھی وہ ایم اے میں داخلے کے لیئے پر تول ہی رہی تھی کہ رشید کا رشتہ آ گیا۔والدین نے مختصر سی چھان پھٹک کے بعد رشتہ قبول کر لیا۔ دو مہینوں کے اندر اندر ہی فوزیہ پیا دیس سدھار گئی۔ رشید ایک پرائمری سکول میں پڑھاتا تھا۔ بوڑھے ماں باپ اور نئی نویلی دلہن کی کفالت کرنا ایک دیہی علاقے میں جہاں اخراجات برائے نام ہوتے ہیں اس کے لیئے اتنا مشکل نہ تھا۔ زندگی کی گاڑی ایک نیا موڑ کاٹ کر دھیرے دھیرے رواں دواں تھی۔ فوزیہ کو جو رنج تعلیم کے دروازے بند ہونے پر ہواتھا ایک محبت کرنے والے شریکِ زندگی کے حصول پر کسی قدر ختم ہو گیا تھا۔شروع شروع میں گاؤں کی ویرانی کی پریشانی بھی آہستہ آہستی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ بلکہ اب تو اس کو گاؤں اور اپنے گھر کا خاموش اور پرسکون ماحول اچھا لگنے لگا تھا۔ دن کے وقت خوش رنگ و خوش آواز پرندے اس کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کرتے۔ لیکن رات کو جنگل کی طرف سے آنے والی کتوں، گیدڑوں، لومڑیوں اور دوسرے بے شمار جنگلی جانوروں کی آوازوں سے ایک عجیب قسم کی خوابناک رومانویت سی طاری ہو جاتی جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھااور طمانیت کا بھی۔وہ دن میں زیادہ تر اپنے بستر کی سفید چادر پر لیٹی رہتی ۔ سفید رنگ سے فوزیہ کو شروع سے محبت تھی۔ یہ رنگ چاہے دودھ کا ہو، چاہے مکھن کا۔۔۔ انسانوں کا ہویا پھولوں کا، کانوں میں ڈولتے آویزوں کا ہو چاہے بستر کی چادروں کا۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ زندگی کے درد بھرے ڈرامے میں خوشی ایک لمحاتی اور عارضی واقعہ ہوتی ہے۔فوزیہ کو ایک دن محسوس ہواکہ رشید کچھ دنوں سے سویا سویا سے محسوس ہورہا ہے۔ فوزیہ نے وجہ پوچھی تو رشید نے پہلی مرتبہ کرخت انداز میں جواب دیا کو زندگی کے مسائل نے مجھے ذہنی فرار پر مجبور کر دیا ہے۔ فوزیہ جو کہ ایک حساس لڑکی تھی کے من کو ٹھیس لگی۔ کون سے مسائل اور کیسا فرار؟ فوزیہ کی الجھن بڑھتی گئی اور رشید کی مدہوشی۔ رشید نے کھانا پینا بھی بہت کم کر دیا تھا۔ فوزیہ کے ساتھ ساتھ رشید کے والدین بھی پریشان تھے۔ ماں تو رشید کے کمزور ہوتے ہوئے جسم کو دیکھ کر خودبھی بیمار رہنا شروع ہو گئی تھی۔ رشید رات دیر گئے واپس آتا۔ وہ سکول جا رہا تھا یا نہیں؟ دن بھر کہاں رہتا؟کیا اس کو کوئی پریشانی تو نہیں لاحق ہو گئی؟ فوزیہ کو کچھ پتہ نہیں تھا اور وہ سب کچھ جانناچاہتی تھی۔
کچھ عرصہ بعدتو اس گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی جب یہ خبر ملی کہ رشید کو سکول سے مسلسل غیر حاضریوں کی بنا پر پچھلے ماہ سکول کی تدریس سے فارغ کر دیا گیا۔ گھریلو اخراجات کی تکمیل کی اور کوئی راہ نہ تھی۔ چند ہفتوں میں بات فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔ رشید نے گھر کے برتن بیچنا شروع کیئے تو یہ بات کنفرم ہو گئی کہ وہ ایک عادی نشے باز بن چکا ہے۔اس بات کے اشارے فوزیہ کو کئی ماہ پہلے ملنا شروع ہو گئے تھے جب اس نے رشید کے معمولات میں تبدیلی اور جسم میں کمزوری محسوس کی تھی۔آہستہ آہستہ گھر میں موجود تمام سامان ختم ہو گیا۔ اب رشید گھر والوں سے باقاعدلڑ جھگڑ کر رقم کا مطالبہ کرنے لگا تھا۔اس نے گاؤں میں دوسرے نشہ بازوں سے مل کر چوریاں بھی شروع کر دی تھیں۔
فوزیہ جب اپنے والدین کو یہ سب کچھ بتاتی تو وہ اس کو صبر کی تلقین کرتے۔واقعی وہ صبر کرتی چلی آ رہی تھی لیکن کب تک؟ ایک دن رشید نشے کی بھوک میں تلملاتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور فوزیہ کو للکارنا شروع کیا۔ وہ اسی وقت رقم چاہتا تھا۔ فوزیہ کے پاس پھوٹی کوڑی تک نہ تھی۔ رشید کے آنکھیں لال پیلی ہو رہی تھیں ۔ ماتھے پر تیوری چڑھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ باہر نکلا اور برآمدے میں پڑے بالن میں سے ایک بڑی سی لکڑی نکال لایا۔ اندر داخل ہو کر اس نے فوزیہ کو اندھا دھند مارنا شروع کر دیا۔ سب سی پہلے کانچ کی چوریاں کرچی کرچی ہوئیں۔ پھر ہڈیاں چٹخنے کی آواز آنے لگی۔ رشید کو نہیں پتہ چل رہا تھا کہ دیوانگی میں کیا کر رہا ہوں۔ فوزیہ جو رشید سے ڈھیروں پیار وصول کر کے کافی لاڈلی ہو چکی تھی کو اس سلوک کی بالکل بھی امید نہیں کر رہی تھی۔وہ حواس باختہ ہو کر کمرے میں اِدھر ادھر بھاگ رہی تھی۔ دیوانگی اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ فوزیہ کے نازک ہاتھوں، ٹانگوں ، پیروں اور گردن پر بڑے بڑے نیلگوں نشان پڑ چکے تھے۔وہ بے ہوش ہو چکی تھی لیکن بے ہوشی میں بھی اس نے محسوس کر لیا کہ رشید اس کے سفیدموتیوں والے آویزوں کو کھینچ رہا ہے۔ آویزوں کی نازک نازک کنڈیاں چڑھانا خالص زنانہ سرگرمی ہے۔ ایک مرد اور وہ بھی جنونی حالت میں کیسے یہ کام کر سکتا ہے۔ رشید نے تھوڑا زور ہی لگایا تھا کہ آویزے فوزیہ کے کانوں کی نازک لوؤں کو کاٹتے ہوئے اس کے ہا تھوں میں تھے۔ خون کی دو پتلی پتلی دھاریں سفید چادر کو سرخ کر گیئیں۔

سسرال سے میکے کا سفر اس واقعہ نے آسان کر دیا۔ والدین نے چاروناچار اپنی بیٹی کو قبول کر لیا۔تین ماہ بعد فوزیہ کی بیٹی پیداہوئی تو والدین کے روکھے چہرے اور لٹک گئے۔بیٹی کا مستقبل اور تاریک دکھائی دینے لگاتو انہوں نے جنگل میں گھرے گاؤں شام نگرمیں پیغامات ارسال کرنا شروع کر دیئے کہ اپنی بیٹی کو لے جائیں۔ ادھر شام نگر کے حالات بھی دگرگوں تھے۔رشید کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی۔ اس کی بوڑھی ماں بیٹے کے گھر کی یکسر تباہی کا صدمہ نہ برداشت نہ کر سکی اور مفلوج ہو کر چارپائی پر جا پڑی۔ رشید کا بوڑھا باپ جس نے مدت ہوئی کام کاج چھوڑ دیا تھاکو دوبارہ محنت مزدوری شروع کرنا پڑی۔ وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنا اور بیمار بیوی کا پیٹ پالنے لگا۔ایسے حالات میں معصوم بچی کی پرورش سے انہوں نے صاف انکار کر دیا۔
خلع حاصل کرنے کے بعد فوزیہ نے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھانا شروع کر دیا۔ اس کی دلچسپیوں کا تمام محور گول مٹول کپاس کی بنی ہوئی مریم تھی۔ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کی رفاقت میں ایک دوسرے کے غموں کی ساجھی بن چکی تھیں۔ فوزیہ اپنی محدود آمدن سے مریم کے معصومانہ لاڈ اٹھاتی۔ کچھ رقم کی ایک کمیٹی بھی ڈال دی تاکہ مریم کے مستقبل کے لیئے کچھ پس انداز ہو جائے۔وہ مریم کو کسی اچھے سکول میں داخل کرانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ اسی دوران چند ایک رشتے بھی آئے لیکن فوزیہ نے شادی سے صاف انکار کر دیا۔والدین سے فاصلے بڑھتے گئے ۔ لیکن اس کو اب کسی کی ناراضگی سے ٹیس نہیں پہنچتی تھی۔ناراضگیاں سہہ سہہ کر، باتیں سن سن کراب وہ ڈھیٹ ہو چکی تھی۔
وقت کا پہیہ دھیرے دھیرے رواں دواں رہا۔ مریم چار سال کی ہو چکی تھی۔ ماں کے لاڈ پیار نے اس کو بہت ضدی بنا دیا تھا۔ وہ ماں کے ساتھ سکول جاتی تھی اورگھر واپس آ کر بھی ماں سے چمٹی رہتی۔ نانی کی نظر پڑتی تودوچار گالیاں سن کرماں کے دامن میں بھا گ کر پناہ لیتی۔وہ رات کے کھانے میں ماں کے ہاتھ کا بنا ہو اپراٹھا کھایا کرتی جس کو وہ توتلی زبان میں پاپڑی کہتی تھی۔ماں بیٹی الگ کمرے میں رہتی تھیں۔ یہ معصومانہ لاڈ پیار اس الگ کمرے میں ہی ممکن تھے۔
اس دفع فوزیہ کے لیئے جو رشتہ آیا وہ شہر کے ایک بڑے تاجر کا تھا۔ رشتوں سے انکار اور معاشرے سے جنگ اب مزید اس کے بس میں نہیں تھی۔ والدین تو پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ فوزیہ نے اچانک ہاں کر کے سب کو حیران کر دیا۔ شاید اب وہ تھک چکی تھی اور مزید تھکاوٹ اس کمزور مخلوق کے لیئے ناقابلِ برداشت تھی۔
اصغر تیس سالہ سرخ وسفید نوجوان تھا۔ اس کی بیوی حال ہی میں فوت ہوئی تھی۔ دونوں گھرانوں میں شادی کی بات طے ہونے لگی تو اصغر نے مریم کو اپنانے سے انکار کر دیا۔ فوزیہ کے والدین کو یہ شرط سن کر یہ رشتہ بھی ہاتھ سے جاتا ہوا محسوس ہوا۔ ان کو یقین تھا کہ فوزیہ کسی صورت میں بھی مریم کی جدائی برداشت نہیں کر سکے گی۔ لیکن ان کو سخت حیرت ہوئی جب فوزیہ نے یہ شرط قبول کرلی۔
دوسری شادیاں عام طور پر بہت سادگی سے ہوتی ہیں اور اگر یہ لڑکی کی ہو تو سادگی میں افسردگی کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ افسردگی اس وقت خوشی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب دلہن ڈولی میں بیٹھ کر الوداع کر دی جاتی ہے۔ بوجھل پتھر سینے سے پھسل جائے تو حقیقی سکون کا احساس ہوتا ہے۔
صبح بارات آنے والی تھی۔ گھر میں شادی کی مخصوص ہلچل عنقا تھی۔وہی پرانی خاموشی سارے گھر پر چھائی ہوئی تھی۔ فوزیہ کے کانوں کی لوؤں کے زخم کب کے مندمل ہو چکے تھے لیکن اس نے شام نگر سے آنے کے بعدکبھی کانوں میں زیور نہیں پہنا تھا۔ اس کی ماں نے آج نئی شادی کے لیئے جب چھوٹے چھوٹے آویزے خوبصورت سی ڈبیا میں ڈال کر اس کو دیئے توفوزیہ خوف سے کانپنے لگی۔ اس کو کانوں سے خون بہتا محسوس ہونے لگا۔لیکن ننھی مریم کے پوپلے کانوں میں دو ماشے کے بالیاں دیکھ کر اس کو ہنسی آ گئی۔اتنے بھرے بھرے کان اور اتنی چھوٹٰی چھوٹی بالیاں۔ فوزیہ کی ماں کی مامتا اچانک جاگ اٹھی تھی۔ آج رات کا کھانا بھی ماں لے کر آئی تھی۔ مریم جب ننھے منے ہاتھ دھو کر بیٹھی توروکھی روٹی اور سالن ماں اپنے سامنے لیئے بیٹھی تھی۔ نانی نے مریم کو بڑے پیار سے نوالہ توڑ کے دیا تو مریم نے کھانے سے انکار کردیااور کہنے لگی کہ میں نے تو پاپڑی کھانی ہے۔ نانی یہ لفظ سن کر حیران ہوئی کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے۔ پھر فوزیہ نے سمجھایا کہ مریم پراٹھے کو یا چپڑی روٹی کو پاپڑی کہتی ہے۔فوزیہ نے سالن میں چوری بنا کر دی جس کو طوطے کی طرح ااس کی بیٹی کھانے لگی۔ اس بیچاری کو کیا پتہ تھا کہ یہ چوری اس کااِس گھر میں اور ماں کے ساتھ آخری کھانا ہے۔کل یہ تینوں ایک دوسرے سے جدا ہوں گی۔
” ماماں جی یہ کتنی اچھی چوری ہے۔ تم کل سے مجھے چوری بنا کر دینا۔پاپڑی سے گھی جلد ختم ہو جاتا ہے”۔مریم توتلی زبان میں حسبِ معمول مسلسل بولتے چلی گئی۔ اسی دوران فوزیہ نے دو بیگ تیار کر لیئے۔ ایک میں اپنے کپڑے اور معمول کا سامان اور معمولی زیور، جبکہ دوسرے میں مریم کے کپڑے، جوتے، بسکٹوں کے دو پیکٹ اور پہلی جماعت کے کتابیں۔” امی یہ کیا کررہی ہو؟میری کتابیں پڑی رہنے دیں میں نے آپ کے سکول میں داخلہ لینا ہے۔ کیا صبح ہم چلے جائیں گے؟ امی میری انگلی پکڑ کر چلنا ،مجھے ڈر لگتا ہے۔میں گاڑٰ ی کے نیچے نہ آ جاؤں۔ امی کل سکول نہیں جائیں گے کیا؟”فوزیہ خاموشی سے اپنے کام میں مصروف تھی۔ مریم کے چھوٹے سے تکیے کے لیئے ایک الگ شاپر ڈھونڈنا پڑا۔ مریم یا تو ماماں کے بازو پر سوتی تھی یا پھر اپنے سفید تکیے پر۔مختصر سامان پیک کرنے میں دیر نہ لگی۔ تھوڑٰی دیر میں ماں بیٹٰی کو سینے سے لگائے سو رہی تھی۔ ننھا تکیہ چونکہ شاپر میں تھا اس لیئے مریم کو یہ رات ماماں کے بازو پر گزارنا پڑٰی۔ فوزیہ کے آنسو شب بھر مریم کے ریشمی بالوں کی خشک پودوں کی طرح آبیاری کرتے رہے۔
دلہن کی روانگی سے کچھ پہلے فوزیہ کا چچا مریم کو جنگل میں بسے گاؤں شام نگر کی جانب لے گیا۔مریم حیران تھی کا چاچا امیرخان آج مجھے اتنی دور کہاں لے جا رہا ہے۔ وہ موٹر سائیکل کے آگے بیٹھی پر سکون جنگلی مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ شام نگر میں مفلوج دادی اور مفلس دادا نے دونوں کا استقبال کیا۔ شیدا چند دن پہلے ہی جیل سے رہا ہو کر آیا تھا۔ دادا دادی غصیلی نگاہوں سے مریم کو تکے جا رہے تھے۔ ان بڈھے طوطوں کے اپنے کھانے کو تھا کچھ نہیں اس معصوم کو کہاں سے کھلاتے۔ بیگ اور شاپر شیدے کے کمرے میں رکھوا دیا گیا۔ چاچا امیر خان تھوڑی دیر بعد واپس آنے لگا تو مریم جھٹ سے کھٹارے موٹر سائیکل کی ٹینکی پر سوار ہو گئی جس کو بڑی مشکل سے نیچے اتارا گیا۔ موٹر سائیکل کی شیطانی آواز میں مریم کے آہ و زاری بیکار گئی۔ چاچا کے پیچھے وہ چند قدم بھاگی لیکن دروازے میں سے داخل ہوتے ہوئے مریم کے بابا نے اس کو اپنے بازؤں میں اٹھا لیا۔
مریم کے سامنے رات دادا نے دن کی روٹی پر تھوڑی سی دال رکھ کر دی تو اس نے پاپڑی پاپڑٰ ی کہہ کر یہ کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ یہاں چونکہ پاپڑی کا حصول ناممکن تھا اس لیئے اس کو بھوکا ہی سونا پڑا۔ سفید تکیے پر چاند سویا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔ آدھی رات کو نشے میں جھولتا ہوا شیدا کمرے میں داخل ہوا تو اپنی چاند سے بیٹی کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ ہڈیوں سے سجے مکروہ چہرے پر بھیانک سی مسکراہٹ طاری ہو گئی۔ بالیاں اگرچہ چھوٹی چھوٹی تھیں لیکن ان کی قیمت سے ایک ہفتے کی ہیروئن مل سکتی تھی۔ چھوٹی چھوٹیٰ بالیوں کی چھوٹی چھوٹیٰ کنڈیاں کھولنے میں شیدے کا وقت ضائع ہو سکتا تھا۔ اس لیئے اس نے پھر شارٹ کٹ استعمال کیا اور آن کی آن میں دونوں بالیاں اس کے ہاتھ میں تھیں۔ خون کی دو پتلی پتلی دھاریں سفید تکیے کو رنگین کر چکی تھیں۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*