قرآن جیسی نعمت، ہمارا وجود اور ہمارا عمل

حمنہ عمر
ممبر:۔اسلامک رائٹر زموومنٹ پاکستان
میرے پیارے اللہ تعالیٰ نے مجھے مٹی سے بنایا ، خوبصورت نقش و نگار عطا کئے ،کائنات کو دیکھنے کے لئے مجھے دو آنکھیں عطاءکیں ، میرے لئے انواع واقسام کے اناج پیدا کئے، اس کا ذائقہ چکھنے کے لئے زبان جیسی نعمت دی ، دو ہاتھ دیئے جو ہر وقت میرے ساتھ ہر کام میں بہترین مددگار ثابت ہوتے ہیں ،مجھے دو ٹانگیں دیں جن سے میں چل پھر کر قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر لطف اندوذ ہوتی ہوں اور اس رب کا شکر ادا کرتی ہوں جو یہ سب پیدا کرنے والا ہے ، میرے سینے میں دل اور میرے سَر میں دماغ عطائ، کیا جس سے میں سوچ و بچار کرتی ہوں پھر میرے وجود کو شعور بخشائ،اور اسکے بعد پھر محبت انتہاءکو پہنچی تو مجھے شعور کی زندگی گزرنے کے لئے ایک نصاب عطاءکیا۔ وہ نصاب جس کے بارے میں اللہ رب العزت ” سورہ بقرہ“ میں ارشاد فرماتے ہیں۔
یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کسی قسم کے بھی شک کی گنجائش نہیں ۔
پھر میرے لئے ”سورہ حشر “ میں ارشاد فرماتے ہیں
اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہوتا اور پھٹ پڑتا ۔
مجھے اللہ کی انتہائی محبت و شفقت نے یہ ہمت عطاءکی اور اسکا مکلف بنایا کے میں نے یہ بھاری بھرکم ذمہ داری قبول کرلی۔
کیونکہ میرے پیارے اللہ ” سورہ مجادلہ “ میں اشاد فرماتے ہیں۔
تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشاءگیا ہے اللہ ان کو بلند درجے عطاءفرمائے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اسکی خبر ہے ۔
میرے پیارے اللہ نے مجھے جو علم عطاءکیا وہ قرآن ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو ہر گھر میں ہوتی ہے ، چاہے اِسے پڑھنے والا کوئی ہو یہ نہ ہو ، چاہے وہ اِسے نہ بھی پڑھے مگر پھر بھی برکت کا باعث سمجھ کر ہر مسلمان کے گھر میں موجود ہوتی ہے شاید ہی روحِ زمین پر مسلمان کا کوئی گھر ایسا ہو جس میں یہ کتاب موجود نہ ہو اور ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے پاس ہوتی ہے۔
کیونکہ اللہ تعالی ” سورہ ابراھیم “ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
اے نبی یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاو ،ان کے رب کی توفیق سے اس رب کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذ ات میں آپ محمود ہے ۔
جب میں اپنے وجود سے اتنی محبت کرتی ہوں اور اپنے وجود کو اللہ کی خاص نعمت سمجھتی ہوں تو کیوں نا آنکھوں کے ہوتے ہوئے بھی روشنی کو نا پہچانوں ، ذائقے لینے والی زبان کو حرام سے نہ بچاو¿ں ، اپنے ہاتھوں سے اپنا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں نہ لوں ، اپنی ٹانگوں سے چل کر اسکی جنت میں نہ جاو¿ں۔
کیونکہ میرے اللہ نے ” سورہ بنی اسرئیل“ میں کہہ دیا ہے کہ
اس قرآن کو ہم نے حق کہ ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے شہادت دے دو اور جو نہ مانے اسے متنبہ کردو اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہرٹھہر کر اسے لوگوں کو سناو اور اسے ہم نے موقع موقع سے بتدریجاً اتارا ہے ۔
اور اللہ پاک ” سورہ سجدہ “ میں کہتے ہیں ۔
اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو جن لوگوں کو اس سے پہلے یہ علم دیا گیا ہے انھیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے اور پکار اٹھتے ہیں پاک ہے ہمارا رب اور اسکا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا اور منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے ۔
قرآن پاک کتاب عظیم الشان جس کا حرف حرف مجھے بیدار کرنے والا۔مجھے جگانے والا ، میری فکر کرنے والا ، مجھے احساس دلانے والا ، میری راہوں میں روشنی ڈالنے والا ، والدین کی محبت و فرمابرداری سکھلانے والا ، شوہر کی عزت بتانے والا ، اولاد کی تربیت اور احترام بتلانے والا ،مجھے وراثت میں حصّہ دلانے والا ، میرے حقوق سمجھانے والا اور سب سے بڑھ کر ان شاءاللہ میرے وجود کو آگ سے بچا کر ٹھنڈے پانی کے چشموں پر پہنچائے گا۔
پھر کیوں میں اپنی نگہبانی کرنے والے اور اپنے محافظ سے ایسا سلوک کرتی ہوں… ؟
جبکہ میں اللہ تعالی سے دعا مانگتی ہوں کہ
”قرآن میری آنکھوں کی ٹھنڈک،میرے سینے کا نور اور میرے غموں کا مداوا بنادے“ ۔
کیونکہ یہ دعا میں نے رٹ لی ہے جو میرے محض ہونٹوں سے ادا ہو جاتی ہے۔ کیا یہ میرے دل کی دعا نہیں ہے… ؟ جب میں جانتی ہوں کہ اے رب تیرا ہر ہر پیغمبر میرے لئے حق کا پیغام لایا ہے اور میں اس آیت سے واقف ہوں جو حضرت نوح علیہ سلام نے تجھ سے کہی تھی کہ
اے میرے رب میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا ،مگر میری پکار نے ان کے بے ایمانی میں ہی اضافہ کیا اور جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انھیں معاف کردے تو انہو ںنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی بے ایمانی پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا ہے ،ہانکتے پکارتے دعوت دی پھر میں نے اعلانیہ بھی ان کو دعوت و تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا، میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے وہ تم پر آسمان سے بارش برسائے گا، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ،تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔تمہیں کیا ہوگیا کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ۔
میرے اللہ اس پیغام بر حق کے باوجود میرا تجھ سے اتنا کمزور تعلق بس پیارے اللہ تیرا ہر حرف اتنا پیارا ہے کہ اگر میں کتاب کھول کر بیٹھوں تو بند کرنے کو دل ہی نہ چاہے ،اللہ میری تجھ سے دعا ہے کہ
” مجھے آج زندگی میں اسے پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے والا بنا،اپنے بندوں تک اس پیغام کو پہچانے والا بنا تاکہ تو مجھ سے راضی ہو جائے اور مجھے جنت میں داخل کر لے جیسا کہ تو نے” سورہ البینہ “ میں وعدہ کیا ہے۔
اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ سے راضی ہو یہ کچھ اس شخص کے لیے ہے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو۔
آخیر میں اپنے رب سے بس یہی دعا ہے کے مجھ ناچیز کو بھی ان لوگوں میں شامل فرما جن سے تو راضی ہوا ۔آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*