“معاشرہ میرے مطابق”

صدیق سرور

مشکلات ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان سے کوئی شخص منہ نہیں موڑ سکتا۔ اگلا پڑاو ڈالنے کے لئے یہ انسان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ یہ انسان کو مظبوط اور حساس بنا دیتی ہیں۔ مگر یہ مشکلات ہر انسان کے لئے اس کے نقطہ نظر کے مطابق ہوتی ہیں۔ کوئی انہیں مصیبتوں کا نام دیتا ہے تو کوئی آزمائش سمجھ کو سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔
جس طرح ان مشکلات کے اتار چڑھاو کو ہر انسان نے الگ نام دے رکھا ہے بلکل ویسے ہی انسانی سوچ اور رویوں نے اپنے پیمانے طے کر لئے ہیں۔ جس می کے مطابق وہ کسی دوسرے شخص کا بغور مشاہدہ کر کے اپنی سوچ کے پیمانے میں اس کو اچھا یا برا ہونے کا خطاب بخش دیتے ہیں۔
مگر میں آپ کو بتاتا ہوں نہ کوئی انسان برا ہے صرف اور نہ کوئی مکمل طور پر پارسا۔
مکمل تو بس اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
میرے مشاہدے کے مطابق ہم اپنی سوچ سے کسی معاشرے کی تخلیق کرتے ہیں۔ ہم جس نظر سے دیکھتے ہیں سب کچھ اسی منظر میں تحلیل ہو جاتا ہے۔
ایک مثال لے لیں آپ آئینہ کے سامنے خود کو دیکھیں اور اپنی تعریف کر لیں۔ اور دوسری طرف آپ چاہیں تو اسی آئینہ میں دیکھتے ہوئے اپنی خامیاں کھوجنے لگیں۔ مگر یہ دونوں صورتیں آپ کی سوچ کی غلام ہیں۔ آپ جیسے چاہے کر سکتے ہیں۔
بلکل اسی طرح ہم لوگوں کے ساتھ بھی یہی کرتے ہیں۔ ہم انہیں اپنے مطابق ڈگری سے نوازتے ہیں وہ کتنے فیصد اچھے یا برے ہیں۔
مگر یہ معاشرتی المیہ ہے ہمیں اس سے خود کو نکالنا ہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ کہتاہے
“آپ اپنی سوچ پر سرمایہ کاری کر کےدیکھیں۔ اس سے حاصل ہونے والا منافع آپ کو حیران کر دے گا۔ نہ صرف حیران بلکہ دلی سکون کا ضامن ہو گا۔”
مجھے لوگ برے نہیں لگتے کیونکہ میں ان میں برائی نہیں ڈھونڈتا، میں ان سے سیکھتا ہوں اور اپنی شخصیتکو نکھارنے پر تگ و دو کرتا ہوں۔
میں نے زمانے سے حاصل ہونے والے تلخ تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ “اگر زمانے کی سختیوں کو برداشت کرنے کے باوجود آپ کا رویہ نرم نہی ہوا۔
کڑی تنقید سہنے کے باوجود آپ نے مثبت طرز زندگی نہیں اپنایا۔
فریب اپنے اند مر جذب کرنے کے باوجود اگر آپ مخلص نہیں ہوئے تو پھر افسوس کیجئے اپنے ان قیمتی سالوں پر جب آپ نے سب کچھ سہا مگر اس سے سیکھا نہیں۔”
اگر آپ اپنے بچے کو سکول بھجتے وقت کہیں کہ اپنی چیزیں کسی کو مت دینا۔
تو آپ اس بچے کے ساتھ ساتھ خود پر اور اس معاشرے پر ظلم کرتے ہیں۔ وہ بچہ آپ کے بڑھاپے میں آپ کو کچھ نہیں دے گا۔
آپ اپنے رب پر کامل یقین رکھیں اور مثبت سوچ سے لوگوں کے ساتھ میل جول بڑھائیں تو معاشرے میں آنے والی بہترین تبدیلی آپ خود محسوس کرینگے۔
کنول کا پھول کیچڑ میں کھلتا ہے مگر خوبصورت ہوتا یے۔ ہم اسکی خوبصورتی کو دیکھتے ہیں کیچڑ بھول جاتے ہیں۔
یہ بھی ہماری سوچ کا ایک پہلو ہے۔ رنگ، شہرت،معیار، دولت اور ظاہری حسن کی بنیاد پر لوگوں کو مت پرکھیں۔
میں نے بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ وہ محنت کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہوتے۔
تو میں آپ کو اپنا نقطہ نظر بتاتا ہوں۔ بعض اوقات ہماری محنت میں کوئی کمی نہیں ہوتی مگر سوچ منفی ہوتی ہے نیت میں کھوٹ ہوتا ہے جو ہم نظر انداز کرتے ہوئے محنت کر کے جس پھل کا انتظار کرتے ہیں وہ ہمیں نہیں ملتا۔
جدوجہد تب تک کارگر ثابت نہیں ہوتی جب تک منفی پہلوۃں کو مثبت انداذ فکر میں تبدیل نہ کیا جائے۔
میں جب کبھی کچھ لکھتا ہوں تو لوگ اس سے میری کیفییت کا انداذہ لگاتے ہیں میں دکھی ہوں یا خوش۔
شاید یہ انکا قصور نہیں۔ ہمارا معاشرہ اسی طرز پر چل رہا ہے ۔ہم کسی کے دکھ کو محسوس کرنا سیکھتے ہی نہیں۔ ہم تو بس مدد کے جذبات سے عاری ہو کر تجسس کی تکمیل کے لئے کچھ لمحے رک جاتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ ہوا کیا ہے پھر اس کے پرخچے اڑا کر کئی دن لطف اٹھایا جا سکے۔
ہماری سوچ سے خیال، خیال سے نظریہ اور نظریے سے مقصد اور مقصد سے تحریک جنم لیتی ہے۔
یہ تحریک اگر منفی ہو تو انسان کی شخصییت کے حسین پہلووں کا جنازہ نکل جاتا ہے
اور یہی تحریک اگر مثبت ہو تو پھر سوچ رویوں کی غلام نہیں رہتی۔ وہ دوسروں کی رائے کی محتاج نہیں ہوتی۔ بس مثبت ہوتی ہے اور محبت بانٹنا، احساس کرنا اور پردہ ڈالنا سکھاتی ہے۔
“نظر بدلیں، نظارہ بدل جائے گا”

2 comments

  1. It was life making,refreshing words , which pinched right in your heart. Great feelings after having read this productive material for all human beings.

    Keep it up sir

  2. عمر فاروقی

    بہت عمدہ تحریر صدیق صاحب۔ اچھی سوچ اور مثبت رویہ ہی آدمی کو انسان بناتا ہے۔ اور آپ کی تحریر سے ایک شعر یاد آ گیا۔
    احساس کا انداز بدل جاتا ہے ورنہ ۔۔
    آنچل بھی اسی تار سی بنتا ہے کفن بھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*