بھارت میں مسلمانوں کی تعلیمی صورتحال انتہائی ابتر

عامراللہ خاں، بھارت

ہندوستان میں 1871ءسے ہر 10برس بعد مردم شماری کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ہے۔ گنتی کے فوری بعد آبادی کے اعدادوشمار جاری کر دیئے جاتے ہیں تاہم رجسٹرار جنرل کو جدول بنانے اور دیگر نتائج کی اجرائی کے لئے کئی برس درکار ہوتے ہیں۔ تازہ ترین خاکے خواندگی کی سطحوں سے متعلق پیش کئے گئے ہیں۔ 7 سال سے زائد کی عمر کے بچوں میں دیگر اقوام کے مقابلہ میں مسلمانوں کی ناخواندگی کی شرح سب سے زیادہ 42.72 فیصد ہے جبکہ یہ ہندوﺅں میں 36.40فیصد، سکھوں میں 32.49فیصد، بدھسٹوں میں 28.17 فیصد اور عیسائیوں میں 25.66فیصد ہے۔
ہندوستان میں مذہبی طبقات میں 7سال سے زائد کی عمر کے بچوں میں خواندگی کی شرح جین طبقہ میں بہت زیادہ ہے۔ ہندوستان میں 2011ءکی مردم شماری کے لحاظ سے تقریباً 86فیصد جین خواندہ ہیں اور صرف 13.57فیصد ناخواندہ ہیں۔ مختلف مذہبی طبقات میں 7سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں میں تعلیمی سطح سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے لحاظ سے دوسرے اقلیتی طبقات میں خواندگی کی شرح ہندوﺅں اور مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ ہندوﺅں میں 60.60فیصد اور مسلمانوں میں 52.28 فیصد افراد خواندگی کے زمرہ میں ہیں جبکہ عیسائیوں میں خواندگی کی شرح 74.48فیصد، بدھسٹوں میں 71.83 فیصد اور سکھوں میں67.51فیصد ہے۔
ہندوستان میں شعبہ تعلیم کی صورتحال فی الواقع ابتر ہے۔ یہاں انتہائی سنگین مسئلہ تعلیم کی فراہمی کا ہے اور معیاری تعلیم میسر نہیں ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں امیر ترین 20فیصد آبادی میں پرائمری سکول جانے والی عمر کے 89 فیصد بچے سکول جاتے ہیں جبکہ یہ تناسب غریب آبادی میں دیہی علاقوں میں 79فیصد اور شہری علاقوں میں 78فیصد ہے تاہم سیکنڈری سکول پہنچنے تک حاضری کے فیصد میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے اور یہ صورتحال ہائیرسیکنڈری سطح پر پہنچنے تک بدترین ہو جاتی ہے اسی طرح اسکولز میں امیر اور غریب بچوں کے داخلہ میں پرائمری سیکشن تا سیکنڈری اور اعلیٰ تعلیمی سطحوں تک بہت زیادہ فرق بڑھ جاتا ہے۔
جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے ہیں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جاتی ہے۔ شہری ہندوستان میں نچلی سطح پر 20فیصد آبادی میں صرف 6فیصد نوجوان ہائیر سیکنڈری تک تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ 20فیصد امیر ترین آبادی میں 31فیصد سیکنڈری سکول تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے معاملہ میں متوسط طبقہ کی صورتحال حقیقت میں بہتر نہیں ہے۔ دیہی ہندوستان میں تعلیم کی صورتحال فی الواقعی بدترین ہے لہٰذا یہاں حالات ایسے ہوتے ہیں کہ شہروں میں بہتر ملازمت کے حصول کے لئے امیر بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے بہت زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں یہ ایسے بچے ہیں جو ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرونی ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ غریب بچے غیر منظم شعبہ میں قلیل اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور ہمیشہ غیر محفوظ رہتے ہیں۔
سارے ملک میں یہ صورتحال فی الواقع افسوسناک ہے۔ پرائمری سکول کی پانچ سالہ تعلیم کی تکمیل سے قبل 29فیصد بچے تعلیم ترک کر دیتے ہیں اور 43فیصد بچے اپر پرائمری سکول کی تکمیل سے پہلے ہی ترک تعلیم کرتے ہیں۔ صرف 42فیصد طلبہ ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرائمری سکول کی عمر کے سکولوں سے دور بچوں کے لحاظ سے 5سرفہرست ممالک میں ہندوستان شامل ہے۔ 6تا11سال عمر کے 1.4ملین بچے سکول کو نہیں جاتے۔ یہاں حالات اس لئے سازگار نہیں ہیں کہ مکمل آبادی کو تعلیم کی فراہمی کے لئے بیشتر سکولوں میں بنیادی سہولتیں نہیں ہیں۔ پرائمری سکولوں میں 6,89,000اساتذہ کی کمی ہے۔ صرف 53فیصد سکولوں میں لڑکیوں کے لئے بیت الخلا ہیں اور 74فیصد ہی کو پینے کا پانی حاصل ہوتا ہے۔
سیکنڈری سطح پر چند ریاستوں میں وسیع طور پر جنسی امتیازات پائے جاتے ہیں، مثال کے طور پر گجرات میں سیکنڈری سطح پر خالصتاً حاضری کی شرح لڑکوں میں 63فیصد اور لڑکیوں میں 43فیصد ہے۔ ہندوستان کی بڑی صنعتی ریاستوں میں گجرات بھی شامل ہے تاہم تعجب خیز نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں لڑکیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اس دہائی کے دوران قومی اوسط میں قابل لحاظ طور پر 10پوائنٹس کے اضافہ کے برخلاف گجرات میں جنسی تناسب سال 2001ءمیں 920کے مقابلے میں 2011ءمیں 919تک گھٹ گیا۔ قومی اعدادوشمار 943کے برخلاف سال 2011ءمیں گجرات میں مجموعی جنسی تناسب 919تھا۔ آبادی میں ہر 1000لڑکوں کے مقابل لڑکیوں کی تعداد جنسی تناسب کہلاتی ہے۔ جنسی تناسب میں کمی کا یہ مطلب ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر امتیاز برتا جا رہا ہے۔
تعلیم کی صورتحال پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی سطحوں پر درج فہرست اقوام، قبائل اور دیگر زمروں کے درمیان فرق میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ یہ فرق سیکنڈری اور ہائیر سطح پر درج فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والی شہری لڑکیوں میں بہت زیادہ ہے۔ تمام سطحوں پر مسلم لڑکے لڑکیوں کے سکولوں میں داخلہ کی شرح دیگر مذاہب کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جبکہ شہری ہندوستان میں پرائمری سکولوں میں مسلم لڑکوں کا داخلہ صرف کچھ حد تک کم ہے تاہم اعلیٰ تعلیمی سطح پر تناسب قابل لحاظ حد تک ہے۔ پرائمری سکولوں میں مسلم لڑکیوں کا داخلہ قابل لحاظ ہے تاہم سیکنڈری سطح پر ترک تعلیم کی شرح خطرناک ہے۔
ایسے حالات کیلئے شعبہ تعلیم پر بہت کم اخراجات کو موردالزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ عالمی بنک کے اعدادوشمار کے مطابق تعلیم پر حکومت کے اخراجات مجموعی گھریلو پیداوار کے فیصد کے لحاظ سے ہونے چاہئیں جو ہندوستان میں 2012ءمیں 3.8فیصد تھے۔ دوسرے غریب ممالک کے مقابلے میں تعلیم پر یہ اخراجات بہت ہی کم ہیں۔ یہ اعدادوشمار ویتنام میں 6.3فیصد، مالی میں 4.3 فیصد، نیپال میں 4.7فیصد اور روانڈا میں 5فیصد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریبوں کی ایک بڑی تعداد کو مملکت تعلیمی سہولتوں کی فراہمی سے قاصر ہے۔
ایسی صورتحال کیلئے ایک یہ بھی وجہ ہے کہ پرائمری سکولوں کو شاذونادر ہی سیکنڈری سطح تک ترقی دی جاتی ہے۔ ہمارے کئی بچے پرائمری سطح کی تعلیم کی تکمیل پر ترک تعلیم کیلئے مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ آگے تعلیم جاری رکھنے کے لئے طویل مسافت طے کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ قانون حق تعلیم کی منظوری کے بعد مملکت صرف پرائمری سکول قائم کر رہی ہے اور یہ بات تقاضائے انصاف کے خلاف ہے۔ آر ٹی ای کے تحت 6تا14سال کی عمر کے بچوں کو لازمی طور پر تعلیم فراہم کی جانی چاہئے تاہم صرف 6تا 10سال کی عمر کے بچوں کیلئے سکول کے قیام کو کیسے انصاف پر مبنی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے؟ اب آر ٹی ای کا یہ معنی و مفہوم ہے کہ ایسے علاقہ جات جہاں دوسرے سکول نہیں ہیں وہاں نہ صرف پرائمری سکول قائم کئے جائیں بلکہ تمام پرائمری سکولوں کو لازمی طور پر فی الفور سیکنڈری سکول میں تبدیل کیا جائے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*