ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ہو گی؟

محسن فارانی

آٹھ سال پہلے 23 ستمبر کی تاریخ تھی جب پاکستان کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی کو دنیا کے ہر قانون اور ہر ضابطے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایک امریکی عدالت نے 86 سال قید کی ظالمانہ سزا سنا دی۔ تب سے بے گناہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ میں اتنی طویل قید بھگت رہی ہیں جس کی فی زمانہ کوئی مثال نہیں ملتی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی عافیہ صدیقی نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اور برینڈیس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ وہ شادی شدہ تھیں اور تین بچوں کی ماں تھیں۔ اس دوران میں وہ ایک مسلم فلاحی تنظیم سے منسلک رہیں اور دنیا بھر میں ستم رسیدہ مسلمانوں کی مدد اللہ کی رضا کے لیے کیا کرتی تھیں۔ پھر نائن الیون کا سانحہ برپا ہوا جس کا ذمہ دار نام نہاد ”القاعدہ“ نامی تنظیم کو ٹھہرایا گیا اور پھر امریکی شکاری کتوں کی طرح اسلامی فلاحی تنظیموں میں کام کرنے والوں کا تعاقب کرنے لگے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ان دنوں پاکستان آئی ہوئی تھیں۔ ادھر امریکی ایک ادھیڑ عمر پاکستانی خاتون کی تلاش میں تھے۔ 2002ءکے وسط میں امریکی اٹارنی جنرل ایش کرافٹ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میولر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ”ایف بی آئی القاعدہ کے سات کارکنوں کو تلاش کر رہی ہے۔ ان سات لوگوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے لیے دہشت گردوں کو مدد فراہم کی تھی“۔ یاد رہے 11 ستمبر 2001ءکو ورلڈ ٹریڈ سنٹر نیویارک اور پینٹا گان (وزارت دفاع واشنگٹن) سے جو طیارے ٹکرائے، ان سے 2800 کے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ یہ سانحہ آج تک شکوک و شبہات کی دھند میں لپٹا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی کوئی آزادانہ ا نکوائری نہیں کرائی گئی اور مغرب میں کتابیں لکھی گئی ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی یہودیوں کی خفیہ پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ امریکہ نے اس سانحے کو افغانستان و عراق پر چڑھائی کا جھوٹا جواز بنا لیا۔
ایش کرافٹ اور میولر کے مذکورہ اعلان کے کچھ عرصہ بعد ایف بی آئی نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی تصویر جاری کر دی اور یہ بھی کہا گیا کہ ”چونکہ امریکی حکومت نے القاعدہ کے تمام اکاﺅنٹس منجمد کر دیے تھے، اس لیے وہ لوگ لائبیریا (مغربی افریقہ) سے ہیرے خریدتے اور امریکی انڈر ورلڈ میں ان سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے تھے جبکہ عافیہ صدیقی ہیروں کی سمگلنگ میں مرکزی کردار تھی۔ وہ جولائی 2001ءمیں بھی لائبیریا گئی اور وہاں سے 15 ملین ڈالر کے ہیرے خرید کر لائی۔ بعدازاں ان لوگوں نے ان میں سے 5 لاکھ ڈالر خرچ کیے اور اس کے نتیجے میں امریکہ میں نائن الیون کے سانحات پیش آئے۔“ یہ چارج شیٹ جھوٹ کا پلندہ تھی۔ مغربی میڈیا نے عافیہ صدیقی کو ”لیڈی آف القاعدہ“ مشہور کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے امریکیوں کو بعض معلومات ان کے سابق خاوند ڈاکٹر امجد خان نے فراہم کی تھیں جس سے عافیہ کا نباہ نہیں ہوا تھا اور وہ 2002ءمیں طلاق لے چکی تھیں۔ تاہم امجد خاں نے دعویٰ کیا تھا کہ ”ایف بی آئی 2001ءکے جن دنوں میں عافیہ کو لائبیریا میں ثابت کرتی ہیں، عافیہ ان دنوں امریکہ میں تھی اور ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں“ نیز یہ بھی کہا کہ ”ممکن ہے القاعدہ نے عافیہ کی جعلی دستاویزات بنا لی ہوں اور ان دستاویزات پر کوئی دوسری خاتون سفر کرتی رہی ہو“۔
ادھر امریکی ایجنسیوں کے گرگے پاکستان میں دندنا رہے تھے، چنانچہ امریکیوں نے مارچ 2003ءمیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کراچی کی ایک شاہراہ سے اس وقت اغوا کر لیا جب وہ ٹیکسی میں ایئرپورٹ جا رہی تھیں اور بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وہ اسلام آباد اپنے والد سے ملنے جا رہی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے اغوا کے وقت ان کا سات آٹھ ماہ کا بیٹا سڑک پر گرنے اور چوٹ لگنے سے شہید ہو گیا تھا جبکہ ڈاکٹر عافیہ اور بڑے بیٹے اور ایک بیٹی کو امریکی افغانستان لے گئے تھے۔ یہ اغوا دن دہاڑے ہوا تھا۔ اس وقت وزیر داخلہ فیصل صالح حیات تھے۔ اغوا کے وقت جو پاکستانی پولیس افسر امریکیوں کے ہمراہ تھا، اس نے بعد میں ایک صحافی کے سامنے روتے ہوئے بتایا کہ ہم سے کہا گیا تھا کہ ایک بہت بڑا دہشت گرد امریکیوں کو مطلوب ہے لیکن وہ تو ایک دھان پان عورت تھی۔ پاکستان کی ایک بیٹی اور اس کے دو بچوں کا پراسرار اغوا مشرف حکومت کے لیے شرمناک تھا۔
انہی دنوں پاکستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان اور دو امریکی اہلکاروں نے صحافیوں کے سامنے اعتراف کیا کہ عافیہ صدیقی اور ان کے بچے ان کی حراست میں ہیں اور وہ ان سے تفتیش کر رہے ہیں، تاہم اس اعتراف کے چندروز بعد وزارت داخلہ اور امریکی اہلکاروں نے اپنے بیان کی تردید کر دی۔ لیکن یہ تردید امریکیوں کا سفید جھوٹ تھا۔




دریں اثناءعافیہ صدیقی کے بگرام (افغانستان) میں امریکیوں کی تحویل میں رہنے کی تصدیق القاعدہ کے ابو یحییٰ اللیبی نے کی جو جولائی 2006ءمیں اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ بگرام جیل سے فرار ہو گیا تھا۔ ابو یحییٰ نے 2007ءمیں الجزیرہ ٹی وی کے انٹرویو میں کہا تھا کہ ”بگرام جیل میں درمیانی عمر کی ایک پاکستانی خاتون بھی تھی جو دو سال پہلے وہاں لائی گئی اور وہ شدید تشدد کے باعث اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہے۔“ پھر مسلمان صحافیہ یوان ریڈلی نے چار اگست 2008ءکو اسلام آباد میں عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ”عافیہ صدیقی بگرام جیل میں قید ہے اور اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جا رہا ہے۔“ انہی دنوں یہ خبر بھی آئی کہ عافیہ صدیقی کا بڑا بیٹا محمد احمد بھی افغانستان میں ہے اور اسے ٹارچر کر کے امریکی اس کی برین واشنگ کر رہے ہیں۔ پھر عافیہ کی بیٹی اور بیٹا یکے بعد دیگرے امریکیوں نے پاکستانی ایجنسیوں کے حوالے کر دیے۔
راز فاش ہونے پر جھوٹے امریکیوں نے یہ کہانی گھڑی کہ 17 جولائی 2008ءکو عافیہ صدیقی خوست سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہوئی تو افغان حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔ انہوں نے اسے امریکیوں کے حوالے کر دیا اور وہ اس سے تفتیش کر رہے ہیں۔ یہ بدمعاش امریکیوں کا ایک اور سفید جھوٹ تھا۔ دراصل بھید کھل جانے پر امریکی عافیہ صدیقی کو گوانتاناموبے لے گئے تھے اور انہوں نے دنیا کے سامنے یہ جھوٹ گھڑا کہ خوست میں تفتیش کے دوران میں عافیہ نے ایک امریکی فوجی کی گن اٹھا کر امریکی افسران کو قتل کرنے کی نیت سے ان پر فائرنگ کی تھی۔ اس جھوٹ کی بنیاد پر نیویارک میں ان پر مقدمہ چلایا گیا مگر عدالت میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہ کیا گیا کہ آیا عافیہ کی فائرنگ سے کوئی امریکی زخمی ہوا تھا یا تفتیش کے کمرے میں فائرنگ سے دیوار پر کوئی نشان پڑا تھا۔ اس دوران میں 16 اگست 2008ءکو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کراچی پریس کلب کے باہر اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی جیل میں عافیہ صدیقی کو طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہیں، ان کے زخموں سے مسلسل خون اور پیپ بہتی ہے، تاہم انہیں اینٹی بائیوٹک ادویہ کے بجائے صرف اسپرین دی جا رہی ہے۔ میری بہن کے زخم ایک ماہ پرانے ہیں۔ ان کی بڑی آنت نکالی جا چکی ہے۔ ان کا معدہ جواب دے چکا ہے۔ انہیں عصمت دری کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ امریکی حکومت سے انصاف کی کوئی توقع نہیں، لہٰذا حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان لانے کے فوری اقدامات کرے۔
اس کے جواب میں امریکی سفیرہ این ڈبلیو پیٹرسن نے جھوٹا ”حقائق نامہ“ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”ڈاکٹر عافیہ صدیقی بگرام جیل میں یا امریکی فوج کی تحویل میں کبھی نہیں رہیں اور انہیں افغانی پولیس نے 17 جولائی کو تحویل میں لیا تھا، نیز ان کے ساتھ کسی بھی موقع پر کسی بھی قسم کی بدسلوکی یا زیادتی نہیں کی گئی۔ اس ”حقائق نامہ“ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کریمنل کیس میں عافیہ صدیقی کو زیادہ سے زیادہ بیس سال قید کی سزا ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی اخبار میں یہ خبر بھی چھپی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے ایف بی آئی کی اس رپورٹ کی کہ گرفتاری کے وقت عافیہ صدیقی سے نیویارک کے اہم مقامات کے متعلق دستاویزات ملی تھیں، تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”یہ سب مواد عافیہ صدیقی پر ڈالا گیا ہے، امریکی فوجیوں نے ڈاکٹر عافیہ کی جامہ تلاشی لی اور یہ عمل بھی ایک مسلم خاتون کے لیے ٹارچر تھا۔“ وکیل نے اس الزام کو بھی جھوٹ قرار دیا کہ دھان پان عافیہ نے امریکی فوجی کی بھاری گن اٹھا کر ان پر فائرنگ کی تھی۔ اس کے باوجود بدنہاد امریکی جج برمن نے ستمبر 2010ءمیں انہیں 86 سال قید کی سزا سنا دی تاکہ وہ عمر بھر جیل سے باہر نہ آنے پائیں۔ پاکستان کی زرداری اور نواز شریف حکومتیں پاکستان کی ایک بیٹی کو ظالم امریکیوں کے شکنجے سے چھڑانے میں ناکام رہی ہیں۔ اب وزیراعظم عمران خان کا امتحان ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اپنی سابقہ کوشش کی لاج رکھتے ہوئے انہیں وطن واپس لا کر مسلمانان پاکستان کے درد کا مداوا کریں اور سرخرو ہو جائیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*