سرسبزوشاداب پاکستان اور پانی کا مسئلہ

(تحریر۔محسن علی ساجد)
وطن عزیز ،خطہ فردوس بریں،یہ نور کا مسکن یہ پیارا پاکستان ہمارے پاس ہمارے پُرکھوں کی مقدس امانت

Mohsin Ali Sajid

ہے ،وطن عزیز کی ترقی وخوشحالی کیلئے ہرفرد ملت کا کردار ضروری ہے ،پاکستان کو جہاں دیگر کچھ مسائل وبحرانوں کا سامنا ہے وہاں ،پانی اور درختوں کی کٹائی ہے اور دونوں انسانی حیات کیلئے لازم وملزم ہیں،پانی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے اگرگزشہ حکومتوں کے ادوار میں بروقت اقدامات کئے جاتے تو آج یہ مسئلہ درپیش نہ ہوتا ،اِسی طرح درختوں کی کٹائی بھی روکنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے،پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت نے گزشتہ دور میں خیبر پختونخوا میں بلین ٹری منصوبہ شروع کیا جِسے شروع میں تو تنقید کا نشانہ بنایا گیا لیکن بعد ازاں تنقید کرنیوالوں نے بھی اِس منصوبے کی کامیابی اور احسن اقدام کو سراہا۔آج ملک میں تحریک انصاف کی موجودہ جمہوری حکومت قائم ہے جس نے پورے ملک میں اس بلین ٹری سونامی کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے ،گزشتہ روز وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان نے ہری پور میں پودا لگا کر اِس مہم کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شجرکاری مہم کا مقصد گلوبل وارمنگ سے مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں آئندہ پانچ سال کے دوران دس ارب پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، ہمارا مقصد پورے پاکستان کو سرسبز و شاداب کرنا اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو



پانا ہے، درخت آکسیجن فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔جناب عمران خان نے کہا کہ آئندہ نسلوں کو شجرکاری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے شجرکاری اور صفائی کو سکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے گا جبکہ بچوں کو صفائی اور شجرکاری کے حوالے سے ٹریننگ دی جائے گی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے ہمارا ملک ساتویں نمبر پر ہے، گرین پاکستان مہم کا حصہ بن کر آئندہ نسلوں کو ماحولیاتی آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے، جہاں بھی خالی زمین میسر ہو گی وہاں پودے لگائیں گے، اگر درخت نہ لگائے تو ملک ریگستان بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ابتدائی طور پر پورے ملک میں دو سو مقامات پر یہ مہم شروع کی ہے، 10 ارب پودے لگانے کا ہمارا ہدف ہے، یہ مہم آئندہ پانچ سال تک ملک بھر میں جاری رہے گی۔وزیر اعظم جناب عمران خان جہاں دیگر شعبوں میں احسن اقدامات اٹھار ہے ہیں وہاں شجرکاری مہم بے شک ایک بہت بڑا اور احسن منصوبہ ہے یقینا وفاقی حکومت اس منصوبے کی کامیابی کو ضرور پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔دوسری جانب پانی کی کمی کے مسئلے کو بھی حل کرنے کیلئے کام شروع ہوچکا ہے ،وفاقی حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ڈیمز تعمیر کیے جائیں،اگر پانی کے مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو ملک ریگستان بن جائے گا،کیونکہ پاکستان میں زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے اگر پانی کا یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان کی زراعت تباہ ہوجائے گی۔وطن عزیز میں1951 میں فی کس پانی کی دستیابی سوا پانچ ہزار مکعب میٹر تھی جو 2016 میں ایک ہزار مکعب میٹر تک کم ہو گئی ہے اور 2025 میں یہ آٹھ سو ساٹھ مکعب میٹر رہ جائے گی جو پاکستان کیلئے ایک قیامت کا سماں ہو گا،دریائے سندھ میں سالانہ 134.8 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے جس میں سے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کا پانی ضائع ہو جاتا ہے،دوسری جانب ملک میں پانی کی رسد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا مگر طلب مسلسل بڑھ رہی ہے جسکی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر سے سالانہ پچاس ملین ایکڑ فٹ پانی نکالا جا رہا ہے جس سے یہ ذریعہ بھی ختم ہو رہا ہے۔ملک میں دستیاب 95 فیصد پانی زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہا ہے جسکی بڑی تعداد ضائع ہو جاتی ہے۔ سب سے زیادہ پانی گنے اور چاول کی فصل میں استعمال ہوتاہے جس کا زیر کاشت رقبہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ایک کلو چینی کے حصول میں پندرہ سو سے تین ہزار لیٹر پانی لگتا ہے جبکہ پاکستان میں چاول کیلئے دیگر ایشیائی ممالک سے دگنے سے زیادہ پانی استعمال کیا جاتا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے ڈیمز فنڈز میں ہر پاکستانی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالے ،دوسری جانب حکومت نے بھی اپنا کام شروع کردیا ہے ،وزیر اعظم جناب عمران خان کو ہنگامی طور پر اس مسئلے کے حل کیلئے اقدامات اُٹھانے ہونگے اور بھارت سے بھی مذاکرات کرنے ہونگے،کیونکہ پانی کا مسئلہ وطن عزیز کے مسائل میں سب سے اہم اور بڑا مسئلہ ہے ،دوسری جانب ایسی فصلوں کی کاشت کی حوصلہ شکنی جو پانی کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں اور کاشتکاروں کو دوسری فصلوں کی جانب راغب کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اُمید ہے وزیر اعظم جناب عمران خان شجرکاری مہم کی طرح پانی کے مسائل حل کرنے کیلئے بھی کلیدی کردار اداکرینگے اور قوم کو اِن مسائل کے گرداب سے نکال کر ترقی وخوشحالی کی جانب گامزن کرینگے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*