جرمن سفیر اور کوڑے کے ڈھیر

ڈی بریفنگ / شمشاد مانگٹ
وفاقی دارالحکومت میں مقیم جرمن سفیر مارٹن کوبلر میں پوری طرح ’’پاکستانیت‘‘ اتر چکی ہے،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مسٹر مارٹن کوبلر میں پاکستانیت سے زیادہ ’’انسانیت‘‘ کے جراثیم پائے گئے ہیں،اسی لئے وہ اپنے ترقی یافتہ ملک کی طرح پاکستان کو بھی صاف شفاف اور بہترین ملک دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔میرے ذاتی خیال میں مسٹر مارٹن کوبلر کی تربیت اچھے اساتذہ کی زیر نگرانی ہوئی ہے کیونکہ صفائی پسند ہونے کی تربیت اساتذہ کرام اور والدین سے ہی شروع ہوتی ہے۔والدین اور پھر اس کے بعد اساتذہ بچپن میں ہی بچوں کو اچھی طرح باور کروا دیتے ہیں کہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اِردگِرد کے ماحول کو صاف رکھتا ہے۔
جب ہم سکول میں پڑھتے تھے تو ہمارے اساتذہ کرام صفائی کا درس صرف دو جملوں میں دیا کرتے تھے۔اول انکا روزانہ کا ’’تکراری‘‘جملہ ہوا کرتا تھا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔اس کے فوری بعد انکا دوسرا مختصر زبانی حکم نامہ یہ ہوا کرتا تھا کہ ’’کتا بھی اپنی دم سے صفائی کرکے بیٹھتا ہے‘‘۔اس لئے تم انسان ہونے کے ناطے اپنی جگہ صاف کرکے بیٹھا کرو۔
چنانچہ استاد کے ہاتھ میں نظر آنے والا’’مولابخش‘‘ اور کتے کے ساتھ موازنہ پوری کلاس کی’’اجتماعی غیرت‘‘ بیدار کردیتا اور چند منٹوں میں جگہ بھی صاف ہوجاتی اور ہمارا آدھا ایمان بھی تازہ دم ہوجاتا۔
جرمن سفیر مارٹن کوبلر پاکستان میں چیئرمین سی ڈی اے کی ’’ڈمی‘‘ کے طور پر بھی دیکھے جارہے ہیں۔اسلام آباد میں قیام کی اپنی سلور جوبلی منانے کے بعد میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کوڑے کے ڈھیر کی تصاویر اگر خود چیئرمین سی ڈی اے یا چیئرمین میونسپل کارپوریشن سوشل میڈیا پر شیئر کرتے تو اتنا برق رفتار ایکشن نہ ہوتا جتنا کہ جرمن سفیر کے ٹوئٹ پر ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اکثر ترقی یافتہ ملکوں کے حوالے دیا کرتی تھی اس لئے یہ بہترین موقع ہے کہ حکومت جرمن سفیر کو اعزازی چیئرمین سی ڈی اے یا اعزازی چیئرمین میونسپل کارپوریشن مقرر کردے تاکہ انکی صفائی پسند’’کونسلرانہ‘‘ صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جاسکے۔



ڈپلومیٹک ایریا میں سالہا سال سے ڈیوٹی کرنے والے ایک پاکستانی پولیس انسپکٹر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جرمن سفیر مسٹر مارٹن کوبلرکو پاکستان سے دل وجان سے محبت ہے اسی لئے وہ کبھی اس کے کلچر میں گھل مل جاتے ہیں اورپاکستان کے دیسی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور گزشتہ روز انہوں نے اسلام آباد میں کوڑے کے ڈھیر کے ساتھ سیلفی ٹوئٹ کرکے پاکستان کے کوڑے کی شکل اختیار کر جانے والے ادارے سی ڈی اے کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔
سی ڈی اے کے افسران نے مسٹر مارٹن کوبلر کے ٹوئٹ پر اس لئے بھی زیادہ پھرتی دکھائی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ واقعی کوڑے کے ڈھیر کی نشاندہی کی گئی ہے وگرنہ زیادہ تر پاکستانی تو خود بہت’’کوڑے‘‘ ثابت ہو چکے ہیں۔اگر کوئی پاکستانی سو روپے کے اشٹامپ پیپر پر حلف نامہ نما درخواست بھی سی ڈی اے کے پاس لے جائے کہ ہماری گلی یا محلے میں کوڑے کے ڈھیر نے جینا حرام کیا ہوا ہے ، تو سی ڈی اے کے افسران درخواست دہندہ شہری کو ہی’’کوڑا‘‘قرار دیکر اسے سی ڈی اے کے احاطہ سے اٹھوا کر باہر پھینک دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں’’کوڑا‘‘ بھی بہت ہے اور’’کوڑے‘‘ بھی بہت ہیں یعنی گندگی اور جھوٹ کی مقدار تقریباً برابر ہوچکی ہے۔جرمن سفیر مسٹر کوبلر کو چاہئے کہ وہ ہر طرح کے ’’کوڑے‘‘ کے ساتھ تصاویر بنا کر شیئر کریں،عین ممکن ہے کہ انکی نشاندہی پر متعلقہ ادارے ہر شعبے سے’’کوڑا‘‘ اٹھانے اور ذمہ داران کو معطل کرنے کیلئے تیار ہوجائیں۔
جرمن سفیر مسٹر مارٹن کوبلر ایک کام یہ بھی کریں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم جونہی وطن واپس پہنچے تو اسکے ساتھ بھی ایک تصویر بنا کر شیئر کریں کیونکہ وہ بھی اس وقت مکمل طور پر’’کوڑا کرکٹ‘‘ ہی بنی ہوئی نظر آرہی ہے۔کوڑا کرکٹ یا گندگی کے ڈھیر ہوں،صرف جرمن سفیر کا متحرک ہونا کافی نہیں ہوگا،چونکہ ہمارے ادارے اس حوالے سے مکمل طور پر اپاہج اور بے بس ہوچکے ہیں،اس لئے ترقی یافتہ ملکوں کے تمام سفیروں سے اس سلسلے میں الگ الگ’’معاہدے‘‘ کئے جائیں بلکہ انکی پندرہ روزہ یا ماہواری خدمات حاصل کرلی جائیں اور ہر سفیر کو درخواست کی جائے کہ کم از کم وفاقی دارالحکومت کی حد تک اداروں کے اندر پڑے ہوئے’’کوڑوں‘‘ اور سڑک کنارے لگے ہوئے کوڑے کے ڈھیروں کے ساتھ اپنی سیلفیاں بنا کر ٹوئٹ کرنے کی ذمہ داری اٹھالیں اور سیلفی پر ایکشن نہ لینے والے متعلقہ ادارے کے سربراہ کی شکایت فوری طور پر اپنے قریب ترین بیٹھے ہوئے محترم چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار یا وزیراعظم عمران خان سے کریں۔امید ہے کہ وزیراعظم سے پہلے سپریم کورٹ حرکت میں آجائے گی کیونکہ انصاف کی فراہمی کا نظریہ عالمی سطح پر بھی بخوبی اجاگر ہوگا۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے بعد جرمن سفیر مسٹر مارٹن کوبلر کا عوامی مسائل کے حل میں دلچسپی لینا پاکستانی قوم کیلئے نیک شگون ہے۔اس بات کی قوی امید ہے کہ جرمن سفیر بھی پاکستان میں ایک الگ ڈیم بنانے کا اعلان کردیں اور عین ممکن ہے کہ جرمن سفیر اپنے خوشحال ملک کے تعاون اور عالمی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بھاشا ڈیم سے پہلے اپنا ڈیم مکمل کرکے دکھا دیں۔
جرمن سفیر کا ٹوئٹ اور اس پر سی ڈی اے کا ایکشن قابل ستائش بھی ہے اور قابل ’’فرمائش‘‘ بھی ہے، چنانچہ ہماری دست بستہ استدعا ہے کہ جرمن سفیر مارٹن کوبلر اپنا کام جاری رکھیں تاکہ مجبور اور لاچار پاکستانیوں کیلئے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آتے رہیں۔عوامی مسائل پر از خود نوٹس کے بانی سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ مرحوم تھے اور اب عوامی مسائل پر از خود ٹوئٹ کرنے والے پہلے غیر ملکی سفیر مسٹر مارٹن کوبلر کی موجودگی پاکستان کو مبارک ہو۔جرمن سفیر مسٹر مارٹن کوبلر کا یہ پاکستانی قوم پر احسان ہوگا کہ وہ ہماری عدالتوں میں پڑی ہوئی انصاف کی منتظر فائلوں کے ساتھ بھی ایک تصویر ٹوئٹ کردیں اور ایک تصویر نیب کے ساتھ ٹوئٹ کریں اور پھر ایک تصویر کسی تھانے میں جاکر تفتیشی افسران کے ساتھ لیکر ٹوئٹ کریں۔کوڑے کے یہ ڈھیر نہ بھی اٹھائے گئے تو کوئی بات نہیں لیکن اس عمل سے ہمارے معتبر اداروں کو یہ تو معلوم ہو جائے گا کہ کوڑے کے ڈھیر کہاں کہاں پڑے ہوئے ہیں اور انکی صفائی کا ٹھیکہ کس ملک کو دینا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*