شخصی وقار کی بے قدری

محمد اسامہ قاسم
انسان سخت مزاج تب بنتا ہے جب لوگ اس کے نرم مزاج سے فائدہ اٹھانا شروع کریں اور اسکی شخصیت کے وقار کو مد نظر رکھے بغیر اپنے مفاد کی خاطر اس کو نقصان پہنچائیں،انسان کی عزت و تکریم دین اسلام میں مسلم ہے ۔نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ حضور نے ہر شخصیت کو اس کے وقار اور مقام کے مطابق حیثیت دی مگر ہمارے معاشرے میں شخصی اثرورسوخ کے مارے لوگ معاشرے کے ہر فرد کے شخصی وقار اور اسکی انفرادی حیثیت اور قابل قدر صلاحیت کو پس پشت ڈال کر نفرت بھرے رویوں میں مگن ہیں۔



ہم مسلمان محبت اتحاد امن اور انصاف کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے والے ہیں مگر ہمارے ہاں تو ہر طرف نفرت دشمنی فرقہ واریت ظلم اور ناانصافی کا بازار گرم ہے اب تو حالت یہ ہو چکی ہے کہ دو دوست بھی آپس کے حقیقی اعتماد کو کھو چکے ہیں گھریلو حالات ہو یا اداروں میں گزرے لمحات ہر شخص اپنی مستی میں مست ہے اور دوسروں کے وقار کو خراب کرنے کا عزم کررکھا ہے
ترقی کے لئے اچھی سوچ اور اچھے دوست ہونا بہت ضروری ہیں اچھی صحبت ہی انسان کو بلند ترین مقام تک پہنچانے کا سبب بنتی ہے یہ تب ہی ممکن ہے جب اچھے کو اچھا مان لیا جائے ۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم جب کسی سے بات کریں تو اس سے پہلے اس کے وقار اور مقام کا لحاظ کر لیا کریں دراصل آج کے زمانے میں دل بہت کمزور طبیعت بہت نازک ہوچکی ہے ہر شخص اپنی عزت کا مطالبہ تو کرتا ہے مگر دوسریکی عزت و تکریم کا خیال بھی دل میں نہیں لاتا۔
ہمیں اپنے دائیں بائیں اور ہر وقت ساتھ رہنے والوں کا خاص طور پر شخصی وقار کو مد نظر رکھ کر معاشرے میں محبت بھرے احساسات کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ لوگ ذہنی دباؤ سے نکل کر اپنے فن اور اپنی لگن کے کام کو مستقل مزاجی کے ساتھ ساتھ احسن طریقے سے انجام دے سکے۔
بعض نوجوان اپنی اتنی کم عمر میں اتنی بڑی سوچ سوچتے ہیں جو کہ ان کے لیے نقصان کا باعث بن جاتی ہے ان کو ایسی سوچ سوچنے پر معاشرے والے ہی مجبور کرتے ہیں۔
موجودہ معاشرتی حالات نے آج کے نوجوان کو ذہنی دباؤ کے ساتھ ساتھ مایوس کن سوچ اور نفرت بھرے جذبات کے اظہار پر مجبور کررکھا ہے جب اپنوں کے انداز میں غیروں کی جھلک اور بڑوں کے لہجے میں چھوٹا پن ظاہر ہو تو پھر معاشرے میں نفرت دشمنی بے ادبی کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل اپنی ترجیحات کا تعین اور مستقبل کا فیصلہ بڑوں کے سامنے خود سنانے پر مجبور ہوجاتے ہیں
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے
اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے
اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے، لٹ بھی چکے
اور محبت ،وہی انداز پرانے مانگے
زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ
اور تو ہے کہ سدا آئنہ خانے مانگے
دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فراز
مل گئے تم بھی تو ، کیا اور نہ جانے مانگے
اس لیے بڑوں کو چاہیے نوجوان نسل کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کے لیے سوچ و بچار اور عملی اقدام کریں تاکہ نوجوان اپنی جوانی میں بڑوں سے ہٹ کر ذہنی دباؤ لے کر نفرت و عداوت کو دل میں سمو کر اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کے بجائے ملک و ملت کے لئے ایک اچھا فردبنکر ثابت ہو سکے آج کا نوجوان کل کا لیڈر اور ملک کا رکھوالہ ہے مگر آج کے بڑوں کو بھی اس احساس کو مد نظر رکھنا چاہیے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ فکری و نظریاتی تربیت بھی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ہر نئی آنے والی صبح محبت کا پیغام یقین کا عزم اور پختہ عمل کی طرف رغبت دلانے کا سبب ہو۔اس طرح ذہنی دباؤ کا خاتمہ اور مایوس کن عزائم کو یقین کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*