نیب اور نامزد گورنر بلوچستان

ڈی بریفنگ / شمشاد مانگٹ
وزیر اعظم عمران خان بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی دور کرنے کے لئے کافی سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ان کی خواہش اور کوشش ہے کہ بلوچستان میں حقیقی ترقی کے لئے ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جسے نہ تو قومی دولت لوٹ کر دوبئی لے جانے کا شوق ہو اور نہ ہی ایسے لوگ حکومتی عہدوں پر بیٹھے ہوں جن کے گھر سے اربوں روپے لوٹے گئے برآمد ہوں ۔ اسی سوچ کے ساتھ عمران خان نے چائلڈ اسپشلسٹ ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی کو بلوچستان کے لئے گورنر نامزد کیا تھا ۔
ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی کے ایک بھائی بھی گورنر بلوچستان رہ چکے ہیں جبکہ ایک اور بھائی کو وفاقی وزیر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی عمران خان کی ذاتی چوائس تھے اس لئے انہوں نے اپنی ٹیم کو مکمل کرنے کے لئے فوری طورپر بلاوا بھیج کر بنی گالہ میں ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی کو گورنر بلوچستان بنائے جانے کی خوشخبری سنائی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ کے آنے سے بلوچستان میں پی ٹی آئی کو اپنے ویژن کے مطابق کام کرنے کا موقع ملے گا ۔عمران خان نے جن لوگوں کے ذریعے امیر محمد جوگیزئی کو پیغام بھیجا ان میں سے کچھ نے پہلے سے ہی اپنے ’’من پسند‘‘ گورنر کی تقرری کے لئے تانے بانے تیار کر رکھے تھے لیکن عمران خان کی طرف سے اچانک نامزدگی نے ’’ گروہ ‘‘ کو پریشان کر دیا ۔
چنانچہ شہر اقتدار میں سازشوں کا ایک نیا جال تیار کیا گیا اور اس جال کی ڈوریاں سابق چیئرمین نیب چودھری قمر الزمان سے تعلق رکھنے والے نیب میں بیٹھے ہوئے بااثر افسران سے تیار کروائی گئیں۔ عمران خان کی طرف سے امیر محمد جوگیزئی کی نامزدگی کے فوری بعد اہم عہدے پر بیٹھے ہوئے ایک مستند ’’کیبل آپریٹر‘‘ نے جوگیزئی کے خلاف ٹی وی چینلز پر زہریلا پراپیگنڈا شروع کروا دیا اور کہا گیا کہ امیر محمد جوگیزئی کڈنی سنٹر کوئٹہ کے لئے خریدے گئے آلات کی خرید و فروخت میں ہونے والی کرپشن میں ملوث رہے ہیں ۔ ہمیشہ کی طرح خبر کی تصدیق کے بغیر اور موصوف ’’کیبل آپریٹر ‘‘ کے ذاتی تعلقات پر الیکٹرانک میڈیا نے ایسی دھول اڑائی کہ بلوچستان کی گورنری کے لئے نامزد امیر محمد جوگیزئی اور ان کے خاندان کو گورنری بھول کر اپنی خاندانی عزت کے لالے پڑ گئے۔ امیر محمد جوگیزئی کے رابطہ کرنے پر نیب نے اس خبر کی ریلیز سے انکار تو کیا مگر اہم عہدے پر بیٹھے ہوئے کیبل آپریٹر اور نیب کے عہدیداروں میں قریبی روابط بتاتے ہیں کہ یہ انہی کی کارستانی ہے۔ البتہ امیر محمد جوگیزئی کے اصرار پر ابھی تک نیب نے انہیں کلیرئنس لیٹر نہیں دیا اور دوسری طرف عمران خان چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں ان کی ٹیم کا اہم رکن نیب الزامات سے پاک صاف ہو کر آ جائے تو ان کی تقرری کر دی جائے۔
سازشوں کے اس کھیل میں ایک اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ سابق وفاقی سیکرٹری خواجہ محمد صدیق بھی امیر محمد جوگیزئی کے دفاع میں کود پڑے ہیں ۔ خواجہ محمد صدیق اکبر نے ڈی جی نیب کوئٹہ اور چیئرمین نیب کے نام ایک چشم کشا خط تحریر کیا ہے جو کہ قارئین کو من و عن پیش کیا جا رہا ہے ۔
جناب عالی!
گزارش ہے کہ اخبارات سے علم ہوا ہے کہ ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی صاحب کو کڈنی سنٹر کوئٹہ میں سال 2006ء مشینری اور آلات کی خرید اور سپلائی میں مبینہ طور پر مفادِ عامہ کو نقصان پہنچانے میں دیگر متعلقہ افراد اور سرکاری ملازمین کے ہمراہ زیرِ تفتیش رکھا گیا ہے۔میں خواجہ محمد صدیق اکبر فیڈرل سیکرٹری ریٹائرڈ جون2006ء تک سیکرٹری لیبر بلوچستان اورEx-offico چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ کے طور پر تعینات تھا۔اس وقت کے گورنر بلوچستان اویس غنی کے ایماء اور تحریک پر کڈنی سنٹر کوئٹہ فاطمی ٹرسٹ کراچی کے حوالہ کیا گیا اور ڈاکٹر جوگزئی فاطمی ٹرسٹ کی طرف سے CEO اور Exective director متعین ہوئے۔میں یہ بات انتہائی ذمہ داری اور خلوص نیت سے کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کسی مرحلے پر بھی حصول اور سپلائی کے مدارج میں شامل نہ تھے اور یہ سارا عمل ٹیکنیکل اور حصول کمیٹیوں نے سرانجام دیا جس کے ڈاکٹر صاحب ممبر نہ تھے۔یہ کمیٹیاں کلی طور پر مجاز اور خودمختار تھیں کہ وہ اپنی Terms and Conditionsکے مطابق اپنے اپنے دائرہ کار اور تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لا کر مشینری اور آلات کی خریداری اور سپلائی کے لئے مجاز اتھارٹی کو سفارشات پیش کرتیں جن کی بنا پر یہ سارا عمل تکمیل پذیر ہوا۔ڈاکٹر جوگیزئی صرف وصول کنندہ تھے،اس کے علاوہ ان کا کوئی اور کردار نہ تھا۔ورکرزویلفیئر بورڈ نے جو ان کے حوالے کیا بلڈنگ،مشینری آلات اور بجٹ وہ انہوں نے وصول کیا اور اس کی رسید دے دی،نہ انہوں نے اپنے کردار سے تجاوز کیا نہ کسی فیصلے اور انتخاب پر اثرانداز ہوئے۔لہٰذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو خریداری کے عمل میں مبینہ بے ضابطگی اور مفاد عامہ کے منفی کسی قسم کے اقدام سے کوئی تعلق ہرگز نہ ہے اور اِس بارے میں اُن سے کسی قسم کی پوچھ گچھ ہرگز سود مند،نتیجہ خیز اور بارآور نہ ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اس سارے عمل سے کلی طور پر بری الذمہ ہیں۔میں یہ Submissionsاپنے علم،یقین اور ضمیر کے مطابق خدا کو گواہ بنا کر کر رہا ہوں تاکہ حقائق ریکارڈ پر آجائیں اور سچ الزام سے اور حق ناحق سے جدا ہو سکے۔شکریہ
مخلص
خواجہ محمد صدیق اکبر ۔ فیڈرل سیکرٹری ریٹائرڈ
نیب نے تاحال اس عینی شاہد کے خط کو بھی اہمیت دینا گوارا نہیں کیا اورکلیئرنس لیٹر دینے سے پہلے انتظار کیا جارہا ہے کہ اہم آئینی عہدے پر بیٹھا ہوا’’کیبل آپریٹر‘‘ اور اسکے ساتھی اپنی مرضی کے امیدوار کو گورنر بنا کر اربوں روپے کی دیہاڑی لگالیں۔
وفاقی دارالحکومت کے طاقتور حلقوں میں یہ خبر بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے کہ بلوچستان کی گورنری برائے فروخت ہے،جیسے سینیٹ کی نشستوں پر ’’بولی‘‘ لگی تھی،اب گورنر کے عہدے کیلئے لین دین کی باتیں ہورہی ہیں۔
بلوچستان کے گورنر کے عہدے کیلئے کھیلے گئے کھیل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کیوں ترقی نہیں کر سکا؟ماضی قریب میں’’بمبو گروپ‘‘ نے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر قومی دولت باہر بھجوائی اور اسکے بعد مسلم لیگ(ن) کے حلیف بزنجو گروپ اور پھر ثناء اللہ زہری نے بھی عوام کو سخت مایوس کیا۔بلوچستان کی گورنری کیلئے فی الحال کیبل آپریٹر گروپ کا پلڑا بھاری ہے اور ڈاکٹر جوگیزئی مستند شہادتیں ملنے کے باوجود نیب سے کلیئرنس نہیں لے پا رہے۔نئے پاکستان میں بھی نیب کی پرانی واردتیں جاری ہیں۔اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر جوگیزئی نے کڈنی سنٹر کوئٹہ کیلئے خریدے گئے آلات میں کرپشن کی تھی تو پھر12سال سے نیب کیا’’جکھ‘‘ مارتی رہی ہے؟ ہمارے ہاں نیب سے دوہی کام لئے گئے ہیں یا لوگوں کو مجبور کرکے شامل اقتدار کرنے کیلئے اور یا پھراچھے لوگوں کو اقتدار سے دور کرنے کیلئے۔نیب اگر ڈاکٹر جوگیزئی کو کرپٹ سمجھتی ہے اور ثبوت موجود ہیں تو وہ اسلام آباد میں ہی ہیں کیا انکی گرفتاری کیلئے کشمیر کی آزادی کا انتظار کیا جارہا ہے۔مگر بدنیتی اور سازشوں نے ہمیں ہمیشہ ترقی سے دور رکھا اور اب بھی یہی کوشش ہورہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*