نیا پاکستان پُرانے وعدے

تحریر: تبسم ریاض رانجھا ، اسلام آباد

آج کل کے اس تیزی کے دور میں جہاں باقی تمام ممالک تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں وہاں ہمارا ملک اتنے پیچھے کیوں ؟ کیا ہم پڑھے لکھے نہیں ؟ کیا ہم میں طاقت نہیں ؟یا پھر ہم لوگ اپنے لیئے اپنے ملک و قوم کی فلاح کے لیئے کچھ کرنا چاہتے نہیں ہیں ہم روز بروز پیچھے سے پیچھے جائے جا رہے ہیں اس لیئے جہاں غریب بندے کی کوئی عزت نہ ہوجہاں غریب کو دور وقت کی روٹی نصیب نہ ہو وہاں یہ پیارا وطن پاکستان کیسے آگے ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے جب تک امیر و غریب ایک نہیں ہو جاتے ملک پاکستان ترقی نہیں کر پائے گا جب تک امیر و غریب کے لیئے ایک جیسا قانون نہیں ہو گا یہ ملک ترقی نہیں کرے گا غریب کو روٹی دینے اور تن پر کپڑئے پہننانے کے وعدے ہر کوئی کرتا ہے مگر کسی غریب کو آج تک نہ ہی روٹی ملی نہ ہی کپڑا مُیسر آیا ہے
امیر وں کو کیا معلوم کہ دھوپ کیا ہوتی ہے مزدوری کرنی کیا ہوتی ہے غریب آدمی ایک غریب آدمی کا دکھ و درد سمجھ سکتا ہے جب امیر غریب ایک ہی مسلک کی مسجد میں ایک ہی امام مسجد کے پیچھے نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں باقی کاموں میں ایک کیوں نہیں وہ قومیں کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں جو غریب کو کم تر سمجھتی ہیں ہم اس دنیا میں خالی ہاتھ آئے ہیں اور بے شک خالی ہاتھ آئے ہیں اور بے شک خالی ہاتھ ہی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے یہ شاندار محلات ، مال و دولت پیسے سُونا چاندی چمکتی دمکتی گاڑیاں سب کچھ اسی دنیا میں ہی رہ جائے گا انسان کے ساتھ جائیں گے تو صرف اس کے اعمال اس کا اچھا برتاؤ اور کچھ نہیں یہاں سیاستدان اتنا زیادہ پروٹوکول رکھتے ہیں میراسوال ہے اور جائز سوال ہے
کہ کیا یہ گارڈز جو صرف انسان ہی ہیں آپ کی طرح کے کیا آپ کو یہ اَجل یہ بچا سکتے ہیں موت کا فرشتہ بُلائے مہمان کی طرح ہوتا ہے یہ شاہوں اور گداؤں کے دروںپر آجاتا ہے گارڈز موت کو بڑھا سکتے نہیں نہ ہی زندگی دینے پر قادر ہیں
اگر گارڈز آپ کی جان بچا نہیں سکتے تودنیا میں پروٹوکول رکھ کر گناہ کبیرہ کیوں کرتے ہیںجب غریب عوام سے آپ ووٹ لیکر اسمبلی میں جاتے ہیں پھر آپ کو ان ہی گارڈز سے خطرہ لاحق ہوتا ہے اس عوام کی سُنو غریبوں کے کام کرو
تا کہ غریب کو عزت و احترام مل سکے اور غریب آپ کو دعائیں دے تا کہ روز محشر آپ کو ان غریبوں کی دعائیں لگیں اور آپ کے ساتھ آسانی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کرے اللہ تعالیٰ اس قوم کے رہنماؤں کو نیک اور اچھے کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ( آمین)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*