یادوں کے دریچے سے

مولاناحق نوازجھنگوی
مولانامحمدجہان یعقوب
ہوش سنبھالاتوگھرمیں مولاناحق نوازجھنگوی شہیدؒ کی کیسٹیں دیکھیں۔عجب دردتھاان کے لفظوں میں،گویاالفاظ نہ ہوں تیرہوں جودشمن کاسینہ چھلنے کررہے ہوں۔صورِاسرافیل کی مانندمردہ ایمانی جذبات کومہمیزکرتی ان کی تقریریں کانوں میں پڑتی رہتی تھیں۔تب جماعت کاایک ہفت روزہ باتصویراخبارہرجمعے مرکزاہل سنت ناگن چورنگی میں،جمعے کے بعدملتاتھا۔بھائی جان تقریباہرہفتہ لے آتے تھے۔ہم تصویریں دیکھ کران سے پوچھتے تھے:یہ کون ہیں؟اِن کے کیاکارنامے ہیں۔مولانااعظم طارقؒ کی عبقری شخصیت کے سحرمیں ہم انھی دنوں گرفتارہوئے۔دسویں جماعت میں تھے کہ اخبارمیں پڑھا:مولانااعظم طارق اورعلامہ ضیا الرحمن فاروقی پرقاتلانہ حملہ۔علامہ فاروقیؒ 40افرادسمیت شہید۔مولانااعظم طارق شدیدزخمی۔اسی سال میٹرک کارزلٹ آنے کے بعدہم نے مدرسے کارخ کیا۔یہاں ہفتہ واربزموں میں مولانااعظم طارقؒ کے تذکرے سنے،خلافت راشدہ کے شماروں کے مطالعے نے اِس روحانی تعلق کومزیدبڑھایا۔
تب مولاناجیل میں تھے۔ہم نے خط وکتابت کاسلسلہ شروع کیا۔ہرخط کاحضرت کی طرف سے جواب آتاتھا۔خط کاہرلفظ ان کے عزم وہمت کاگواہ اورحق پراپناسب کچھ واردینے کے جذبات پرمبنی ہوتاتھا۔اسباق پرتوجہ دینے کی تلقین کرتے۔کتب میں فِرقِ باطلہ کے حوالے سے موجودموادپرخصوصی توجہ دینے کی نصیحت بل کہ عبارات کی نشان دہی بھی کرتے۔جب ہماراثانویہ عامہ کانتیجہ آیا،توہم گاؤں میں تھے۔گلگت کے اِس دورافتادہ گاؤں میں اخبارتک کاتب کوئی تصورنہ تھا۔ہمیں اپنی پاکستان بھرمیں دوسری پوزیشن کی اطلاع،ڈھیرساری دعاں بھرے کلماتِ تحسین پرمشتمل جبلِ استقامت کے خط کے ذریعے ملی۔انھوں نے ضربِ مؤمن میں نتیجہ دیکھ کرخط لکھاتھا۔’’ صدیقی ‘‘ہمارے نام کالاحقہ ہواکرتاتھا۔اب بھی قدیم احباب ہمیں ’’جہان صدیقی ‘‘کہتے ہیں۔دستاویزات میں بھی یہی نام ہے۔یہ لاحقہ ہم نے نسب کی تحقیق کے بغیرسیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ کی محبت میں اِختیارکیاتھا۔ہم نے ایک خط میں حضرت کویہ بات بتاکرمشورہ مانگا،کہ اِس نسبت کونام کاحصہ بنانے میں کہیں ہم گنہ گارتونہیں ہورہے؟توبڑاحکیمانہ جواب دیا:صدیق اکبرؓ والے کام کرکے محبت کاثبوت دیناچاہیے۔ناموں سے کچھ نہیں ہوتا۔چناں چہ ہم نے یہ لاحقہ ہٹادیا۔ایک بارہمیں سپاہ صحابہؓ اسٹوڈنٹس کی یونٹ کی سطح پرسیکریٹری اطلاعات کی ذمے داری ملی۔ہم نے اپنی تعلیمی صورت حال بتاکرحضرت سے مشورہ لیا،توفرمایا:تعلیم پرتوجہ دو۔چناں چہ ان کاخط دِکھاکرہم ذمے داری سے علیحدہ ہوگئے،اگرچہ بعض دوسرے ذمے دارطلبہ ساتھی اِس بات پرچیں بہ جبیں بھی ہوئے،کہ پڑھائی توہم بھی کرتے ہیں۔
جب جیل سے ان کی کتاب ’’خطباتِ جیل‘‘ آئی،اس کامطالعہ کیاتویہ محبت اوربڑھی،’’میراجرم کیاہے‘‘ کے مطالعے سے وقت کے ابن حنبلؒ کی قربانیوں کاپتاچلاتویہ محبت مزیددوآتشہ ہوگئ۔’’ٹوٹ گئی زنجیر‘‘آئی تودِل اِس عظیم شخصیت کی ملاقات ودیدارکے لیے تڑپنے اوردیدے ترسنے لگے۔رہائی کے بعدکراچی کادورہ کیا،جس کے شیڈول کی تفصیل ضربِ مؤمن میں شایع ہوئی۔شیڈول پڑھ کریہ مصمم ارادہ کیا،کہ رات کواورجمعے کوہونے والے کسی پروگرام کوضایع نہیں کرنا۔یوں اِس عظیم انسان کوقریب سے دیکھنے اورسننے کاموقع ملا۔ایک دِن معلوم ہواکہ حضرت جامعہ بنوریہ عالمیہ تشریف لائے ہوئے ہیں۔یہ اطلاع سن کرطلبہ کلاسوں سے نکل کرمہتمم صاحب کے دفتروالے گیٹ پرپہنچے،توعجیب منظرتھا:تمام اساتذہ پہلے ہی اِستقبال کے لیے وہاں موجودتھے،جن میں ابتدائی درجات سے لے کردورہ حدیث وتخصص تک سبھی درجات کے اساتذہ شامل تھے۔اساتذہ نے طلبہ کوکلاسوں میں جانے کاحکم دِیا،جامعہ کے ضابطے کے مطابق ہم بھی حسرتِ دیدارلیے کلاس میں آکربیٹھ گئے۔دفترسے خادِم نے آکریہ مژدہ سنایا:مہتمم صاحب نے کہاہے:جہان صدیقی کومیرے دفتربھیجیں،مولانااعظم طارق ملناچاہتے ہیں۔اِس اعزازپرہماری خوشی کی جوکیفیات تھیں،بیان سے باہرہیں۔اتنی عظیم شخصیت اورمجھ ہیچ مدان کی اِس قدرحوصلہ افزائ!یہ مقام اللہ اکبر۔۔۔۔۔ہم پہنچے تواساتذہ میں بیان جاری تھا۔یہ حضرت کی ذرہ نوازی تھی کہ ایک درجہ ثالثہ کاطالبِ علم بھی اپنے اساتذہ کے ساتھ بیٹھایہ بیان سن رہاتھا۔
سپاہ صحابہؓ اِسٹوڈنٹس کے مرکزی کنونشن میں بہ طورِمثال میرانام لے کرفرمایا:تعلیم اورمشن کوساتھ لے کرچلو۔اگرچہ میں خودوہاں موجودنہیں تھا۔تب مرکزی قائدین میں سے جوبھی حضرات کراچی آتے،جامعہ بنوریہ میں ان کااکثرقیام ہواکرتاتھا۔برادرمکرم اقراراحمدعباسی مجھے ان سے ضرورمِلواتے۔اکثرکی زبان سے یہ جملہ سنا:آپ کاتذکرہ مولانامحمداعظم طارق صاحب اکثرکرتے ہیں۔یہ ان کی خوردپروری اورذرہ نوازی تھی،ورنہ:من آنم کہ من دانم!
جبلِ استقامت شہیدناموسِ صحابہ مولانامحمداعظم طارق کیؒ یہ شفقتیں ان کی صرف میرے ساتھ خاص نہیں تھیں،بل کہ وہ سب کے ساتھ ایسے ہی اندازسے پیش آتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے حافظہ بھی غضب کادیاتھااورمردم شناسی بھی کمال کی،جس سیایک بارملتے،اسے کبھی بھولتے نہ تھے۔۔۔نام،حلیہ،مقامِ ملاقات۔۔۔سب انھیں ازبرہوجاتاتھا۔ہمارے ایک صحافی دوست محمد اعجازصاحب،جو اس وقت روزنامہ اسلام سے منسلک تھے، نے اپنا واقعہ لکھا:بندہ نے سوال کیا کہ ظفراللہ خان جمالی کو ووٹ کیوں دیا؟ صوبہ سرحد میں خلیفہ عبدالقیوم ایم ایم کو سپورٹ کریں گے؟ اسی طرح کے دوچار اور سوالات پوچھے، جن کے مختصر اور جامع جوابات دئیے گئے۔ اور پھر ہم باہر گلی میں آئے اور یکارڈر سے دوبارہ گفتگو سن کر خبرلکھی اور ملتان دفتر فیکس کردی جبکہ اس کارروائی میں آدھ گھنٹہ لگ گیا، جب ہم واپس آئے تو مولانا اسٹیج پر جاچکے تھے۔ صبح ایک ساتھی کا نکاح تھا،ہم قدرے تاخیر سے جب پہنچے تو دسترخوان لگا ہوا تھا، مولانا اعظم طارق صاحبؒ نے دیکھتے ہی پہچان لیا اور فرمانے لگے کہ “روزنامہ اسلام” کے ساتھیوں کو جلدی سے کھانا دیا جائے وقت کم ہے۔ تو بندہ حیران رہ گیا کہ سفر کی تھکاوٹ کے باوجود چند منٹوں کی گفتگو ہوئی اور مولانا نے دیکھتے ہی پہچان لیا۔
اپنائیت اوربے نفسی اِس درجہ تھی کہ کوئی پہلی باربھی ملتا،تویوں پیش آتے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔اتنی مصروفیات ومشغولیات اورالجھنوں کے باوجودہرشخص سے اس کے مزاج کے مطابق پیش آنا،اس کے دکھ دردبانٹنا،اس کی خوشیوں میں شریک ہونا۔۔۔۔وہ واقعی “سودماغوں کاایک انسان۔۔”کامصداقِ اتم تھے۔
اللہ تعالی ایسے لوگ صدیوں میں بھیجتے ہیں،جودستورِمے خانہ بدل ڈالتے ہیں۔ان کی شروع سے اٹھان ہی ایسی تھی۔بچپن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام ؓ کی زیارتیں،قرآن کریم کی تلاوت کاخاص ذوق جوتادمِ واپسیں جاری رہا۔ایک مکتوب میں لکھا:الحمدللہ روزانہ ایک قرآن کریم ختم کرنے کامعمول عنفوانِ شباب سے اب تک برقرارہے۔۔۔اللہ اکبر!جیل میں تراویح کے ختموں کے علاوہ روزانہ کے دوختم فرماتے تھے۔خیر،ہم بات کررہے تھے ان کے عنداللہ انتخاب کی،جس کے آثاران کے بچپن ہی سے نظرآنے لگے تھے۔مشن جھنگوی ؒسے وابستگی نے اس جرات وشجاعت اوراخلاص کوچارچاندلگادیے۔غیراللہ سے خوف زدہ ہوناتوگویاانھوں نے سیکھاہی نہ تھا۔
منتخب وزیراعظم بے نظیربھٹوسے کہا:شیعہ غیرمسلم ہیں۔آپ کازرداری سے نکاح ہی نہیں ہوا۔نوازشریف نے وزارتِ عظمی کے نشے میں چورہوکراسمبلی میں خطاب کے دوران کہا:جوشیعہ کوکافرکہے گااس کوپھانسی کی سزاہوگی۔اسی اجلاس میں ترکی بہ ترکی جواب دیا:میاں صاحب!پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرپھانسی گھاٹ بنواؤ،اعظم طارق کافرکافرکانعرہ لگاتے ہوئے تختہ دارپرلٹکنے کے لیے تیارہے۔پرویزمشرف کے دورمیں گلگت کے شیعہ راہ نماؤں کی خوش نودی کے لیے اسلامیات سے خلفائے ثلاثہؓ،ازواجِ مطہراتؓ اوربناتِؓ نبی ﷺکے مبارک تذکرے نکالنے کافیصلہ ہوا،توبھرے ہال میں وزیرتعلیم زبیدہ جلال کے ہاتھ سے مسودہ لے کرپھاڑدیا،کہ اعظم طارق کے جیتے جی یہ نہیں ہوسکتا۔جب قومی اسمبلی میں ناموسِ صحابہؓ بل پیش کرنے کے دوران سازش کے تحت اسپیکراسمبلی سے چلے گئے،توخوداسپیکرکی نشست سنبھال کررائے شماری کرائی۔ان کی شجاعت کے کس کس واقعے کوذکرکیاجائے،کالم تنگی ٔداماں کاشاکی ہے،اوران کی شجاعت،جرأت وہمت کے واقعات کی فلم دماغ پرچل رہی ہے۔ایک کے بعدایک منظر۔ہرمنظراس قابل،کہ اسے نقل کیاجائے۔
تین باررکن پارلیمنٹ منتخب ہونے،ایک بہت بڑی جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجودذاتی گھرتک نہ بنایا،مسجدکے حجرے میں زندگی کے ایام گزارے،بل کہ آدھی زندگی توجیل میں گزاری۔سیاست کے گندے تالاب سے یوں تیرکرنکلے،کہ نہ کبھی کوئی اسکینڈل بنااورنہ ہی کرپشن کاکوئی الزام لگایاجاسکا۔چاہتے تونسلوں کی دنیابناسکتے تھے،لیکن وہ بلامبالغہ اسلاف کے قافلے کے بچھڑے ہوئے ایک فردتھے۔کبھی دنیوی آسائشات وسامانِ تعیش کی طرف آنکھ اٹھاکربھی نہ دیکھا۔فی زمانہ سیاست نام ہے اِبن الوقتی ومفادپرستی کا،لیکن انھوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی،اپنے حلقے کے عوام کے مفاداورمشن کوترجیح دی۔الحمدللہ!ان کے خلف الرشیدمولانامحمدمعاویہ اعظم بھی اِسی ڈگرپرچل رہے ہیں۔اللہ تعالی ان کی قدم قدم پرحفاظت فرمائے اورنیک عزائم میں کام یاب وکام ران فرمائے!آمین!
14اگست 2003کی بات ہے،ہماراموقوف علیہ کاسال تھا۔تکرارکی چھٹی میں ہمارے دیرینہ دوست محمدنسیم خان سواتی نے،جواسی جامعہ میں زیرِتعلیم تھے،غالبادرجہ خامسہ میں،آکربتایاکہ مولانامحمداعظم طارق صاحب مختصردورے پرکراچی تشریف لارہے ہیں۔میں نے ڈاکٹرمحمدفیاض خان اورمولاناعبدالغفورندیم(دونوں ہستیاں زمرہ شہدامیں شامل ہوکرحیات جاوداں پاچکی ہیں)سے بات کرکے ماہ نامہ آبِ حیات کے لیے انٹرویوکی غرض سے حضرت کاوقت لے لیاہے۔ہفتے کے دن 16اگست کوصبح 10بجے کاوقت ملاہے۔آپ بھی چلنا۔یہاں اس امرکی وضاحت ضروری ہے کہ محمدنسیم خان کوصحافت کاشغف تھااوروہ کراچی میں ماہ نامہ آبِ حیات کے بیوروچیف تھے۔مشاہیرسے انٹرویوبھی لیتے رہتے تھے۔میرا،ان کاتعلق بھی اسی حوالے سے بناتھا۔ان کی تحریک پرمیں نے آبِ حیات کے لیے لکھناشروع کیاتھا۔وہ میری ترغیب پراخبارالمدارس کے لیے لکھنے لگ گئے تھے۔ہم نے ایک تنظیم بھی بنارکھی تھی:انجمن شبابِ اسلام کے نام سے۔خیر،قصہ مختصرمیں نے بصدمسرت ہامی بھرلی،کہ ایک بہت بڑی سعادت میری منتظرتھی۔۔۔اپنے محبوب راہ نماسے ملاقات،ان کے ساتھ مجالست ومکالمہ۔بلامبالغہ ایسے لمحات حاصلِ زندگی ہوتے ہیں۔کوئی کم نصیب ہی ایسے مواقع گنواتاہے!



مقررہ دن اوروقت پرہم صدرمیں واقع قصرِنازہوٹل پہنچے۔یہ ایک عام ساہوٹل تھااورکوء ایم این اے یہاں قیام کرسکتاہے،عقل اسے ماننے کوتیارنہ ہوتی،اگروہ ایم این اے اس درویشِ خدامست اورفقیرمنش سیاست دان کے علاوہ کوئی اورہوتا۔اللہ رحمت فرمائے ڈاکٹرمحمدفیاض ہماری راہ نمائی کے لیے موجودتھے۔حضرت کے کمرے میں پہنچے تووہاں ان کے گن مینوں کومحوِاستراحت پایا۔معلوم ہوا:حضرت اوپروالی منزل میں علامہ علی شیرحیدری،شہیدرحمہ اللہ،کے کمرے میں ہیں۔کوئی خاص مشورہ چل رہاہے۔ہم وہاں پہنچے توعلامہ مسعودالرحمن عثمانی کوبھی شیخین کے ساتھ موجودپایا۔میٹنگ برخاست ہوئی،توبڑی شفقت سے ہماری جانب متوجہ ہوئے۔ مدعاسناتوفرمایا:بالکل،ضرور،کیوں نہیں،پوچھیے جوپوچھناہے۔ہمارے ہرسوال کوخندہ پیشانی سے سنااورفراخ دلی سے ہرسوال کاجواب دیا۔تفصیلات موجبِ طوالت ہوں گی۔ہاں!اتنابتادیتے ہیں کہ یہ انٹرویوماہ نامہ آبِ حیات اوراخبارالمدارس کے علاوہ ماہ نامہ خلافت راشدہؓ کے مولانامحمداعظم طارق شہیدؒ نمبرمیں بھی شایع ہوا۔اس کی رودادمیں نے ’’بچوں کااِسلام‘‘ کوبھی بھیجی،جو’’آخری ملاقات‘‘ کے عنوان سے شایع ہوئی۔واضح رہے کہ یہ کسی بھی دینی جریدے کودیاگیاحضرت کاآخری انٹرویوثابت ہوا۔انٹرویوکے اختتام پرہم نے آٹوگراف کے لیے ڈائری آگے کی،تواس پراقبال،رحمہ اللہ، کایہ شعرلکھا
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جوڈالتے ہیں کمند
اس کے نیچے اپنے دستخط کیے اورتاریخ لکھی:16-8-2003…یہ ہماری جرنیل سپاہِ صحابہ سے آخری ملاقات تھی۔یادوں کی کتاب کو سمیٹتے ہیں ۔7اکتوبر2003کی بات ہے،کراچی کاتبلیغی اجتماع جاری تھا۔غالباًعصرکے قریب کاوقت تھا،جامعہ بنوریہ عالمیہ کے حلقے میں سب سے پہلے جرنیل کی شہادت کی جس ہستی نے خبردی،وہ خودبھی محض دوسال بعدشہادت کی خلعتِ فاخرہ سے سرفرازہوکرامرہوگئے۔وہ ہستی تھی استاذالمجاہدین شیخ الحدیث مولانامفتی عتیق الرحمن الراعی،شہیدرحمہ اللہ،کی ،خبرکیاتھی،گویابجلی کاکڑکاتھی،ایک بم تھاجوسماعتوں پرگراتھا۔ہرشخص مبہوت تھا۔کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا،یہ اچانک کیاسے کیاہوگیا؟اتناعظیم سرمایہ دشمن نے ہم سے چھین لیا!!
باطل کواس کی زبان میں جواب دینے والا،باطل کی رگ رگ سے واقف اوران کی دسیسہ کاریوں کے تاروپودبکھیرکررکھ دینے والا،اسمبلی کے فلورپرجرات وبسالت کااستعارہ،ماؤں کامان،بہنوں کاسائبان،بوڑھوں اورمعذوروں کاپشتی بان،اسیروں کی آنکھوں میں امیدکے دیے جلانے والا،دستورکامحافظ،ناموسِ رسالتﷺ وصحابہؓ کاپہرے دار،عظمتِ اصحابؓ واہلِ بیتؓ کامنادوداعی،اکابرعلمائے دیوبندکی روایتوں کاسچاامین،ائمہ حرمین کی دعاؤں کامحور،علمائے ہندکی عقیدتوں کامرکز،جھنگوی وفاروقی،شہید،رحمھمااللہ، کاسچاجانشین،حق واہلِ حق کی آبرو۔۔۔وہ عظیم انسان ایک بین الاقوامی سازش کے تحت دن کے اجالے میں بھرے پرے ٹول پلازہ پر بے دردی سے ذبح کردیاگیا،جوبلاشبہ اپنے وقت کاجری مجاہد،ولیِ کامل،امام ابوحنیفہ وامام احمدبن حنبل،رحمھمااللہ،کاسچاپیروکاراوراصولی سیاست میں حضرت مدنی وغلام غوث ہزاروی،رحمھمااللہ،کانقشِ ثانی تھا۔جسے اسمبلی فلورپرگرجتابرستادیکھ کرمفتی محمود،رحمہ اللہ،کی یادتازہ ہوجاتی تھی۔
اب انھیں ڈھونڈچراغِ رخِ زیبالے کر




٭٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*