کیا بھیگ مانگنا اب بے شرمی نہیں؟

تحریر:عثمان مایار
اپنے سکول کے زمانے میں کتابوں میں محاورہ پڑھا تھا کہــ’’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ مگرحقیقت میں یہی محاورہ ہم پاکستانیوں کی زندگیوں میں بھی سما چکا ہے وہ اس طرح کہ ملک میں عام انتحابات کے بعد جیسے ہی کسی سیاسی پارٹی کی حکومت قائم ہوجاتی ہے تو وہ نئی حکومت ملکی معاملات چلانے کے لئے کسی نہ کسی سہارے کی مختاج ہی رہتی ہے ۔پاکستان میں یہ معمول بن گیا ہے کہ حکومت چاہیے جس
پارٹی کابھی ہوں اور اسی پارٹی نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہویانہیں مگرجب وہ اقتدار سے فارغ ہوتی ہے توآنے والے نئی حکومت کو اکثر ملکی خزانہ خالی ہی وراثت میں چھوڑ جاتے ہے۔کچھ اس طرح کی صورتحال سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی دوچار ہی نظرآرہی
ہے، اپوزیشن میں رہ کر مسلم لیگ ن حکومت کی معاشی اقدامات کا مذاق اُڑانے والے منصب اقتدار تک پہنچتے ہوئے خودہی لوگوں کے ہدف تنقید بن گئے اورحکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ابتدائی دو مہینے میں مہنگائی کا وہ لہر چلا کہ عام پاکستانیوں سمیت نئے پاکستان کی بنیاد کی تعمیر میں مدد کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بھی چیخیں نکل گئی اور افسوس کرنے لگے کہ موجودہ پاکستان سے تو پرانا پاکستان ہزار درجے بہترہی تھا۔
قامی خزانہ باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر لوٹنے والے سیاسی پنڈت، بیوروکریٹس اور کرپشن کے ریکارڈ اپنے نام کرنے والے بڑے
بڑے مگرمچھ تونئے پاکستان میں بھی مکمل آزادی سے گھومتے پھرتے رہتے ہیں بلکہ یہی عناصر جب بھی جی چاہیے کسی نہ کسی بہانے بیرون ملک سیرسپاٹے کے لئے بھی آتے جاتے ہیںاسی طرح نیب زدہ اور صادق اور آمین کے دائرے سے خارج شدہ عناصریا تو اقتدار میں
شریک ہیں یاکسی نہ کسی طرح حکومتی معاملات پر اثرانداز ہورہے ہیں مگر نئے پاکستان کے ٹھیکداروں کا اِس سے کیا واسطہ؟ کیونکہ معیشت کی گاڈی منزل مقصود تک پہنچانے کے لئے ایندھن کاکام دینے والے مڈل کلاس طبقہ،تنخوادار ملازم اورغریب عوام جو سلامت ہیں اوراسی
طبقے کی سلامتی ہی میں ہمارے اشرافیہ کی خیرہی خیر ہے تو پھرحکمرانوں کو فکرکس بات کی بس بڑھاؤ اِن لوگوں پر ٹیکس کی شرح اور مہنگا کرو بجلی



اور گیس کیونکہ محلات اور فارم ہاؤسز کے چولھے گرم اور ڈرائنگ رومز روشن جو رکھنے ہیں ۔یہی روش بھی اپنائی ہوئی ہے ہمارے کپتان صاحب نے کم از کم اب تک کی حکومتی کارکردگی سے تویہی لگتا ہے۔
خیر مہنگائی ،لاقانونیت اور بے رورزگاری کے جن تو ویسے بھی حکمرانوں کے قابو سے باہر ہیں تواِس پر مزید بحث کیونکر؟مگرقلم اسی لئے اُٹھایاکہ اپنے خان صاحب کویاد دلادو کہ اُنہوں نے وعدہ کیاتھا کہ اگر اقتدار کی دیوی اُن پر مہربان ہوگئی تو وہ ایسے دور رس فیصلے کرے
گا کہ برطانیہ کے عوام پاکستان میں نوکری کرنے آئینگے اور ساتھ ہی ساتھ عمران خان صاحب نے گزشتہ حکمرانوں کی جانب سے بیرون ممالک کشکول لے کر بھیک مانگنا باعث شرم فعل قرار دیاتھا مگر کیا ایسے مجبوریاں تھی کہ حکومت کو خود ہی آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک کے
سامنے جھولی پھیلانا پڑی؟آخر کیا اسباب تھے کہ قوم کوآئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی نویددینے والا وزیر خزانہ اسدعمر اپنے ہی وعدے سے مکر گیا؟۔ حکمران وقت سے اتنا پوچھنے کی جسارت تو رکھتے ہیں کہ ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والے اتنے طاقتور ہیں کہ قانون کے
شکنجے میں نہیں آسکتے ؟چھوٹے چو ریا ڈاکو کی تو تھانوں میں خوب درگت ہوتی ہے مگر بڑ ے مگرمچھوں کے لئے تھانوں اور جیلوں میں بھی وی آئی پی سہولیات کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
سومیرے ہم وطنوں مبارک ہو،خوشیاں مناؤ،موج مستیاں کروکیونکہ نئے پاکستان کے ڈوبتے ہوئے معیشت کوسہارا جو مل گیاہے
اور خوش قسمتی کامقام تویہ ہے کہ یہ سہارا بھی اُس مقدس قوم کانصیب ہوا ہے کہ جس کے حکمرانوں کے ہاتھوں کاسایہ سروں پرسدا قائم رہنا
ہم اپنے لئے فخر کا باعث سمجھتے ہے۔ چاہیے اسی بے تکلفی میں ہماری خودداری کاجنازہ ہی کیوں نہ نکلے مگر پھر بھی ہمارے حکمران اور عوام خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ پاکستان کے تباہ حال معیشت پرحجاز مقدس سے بھجوائے گئے ریالوں کاسایہ پڑا ہے اور اب الف لیلیٰ داستانوں
کی طرح جادو کی چھڑی ایسے گھومے گی کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے چرچے پوری دنیا میں پھیل جائینگے۔میں پاکستان کے ساتھ سعودی
عرب کی حالیہ معاہدوں اور پاکستان پر اربوں ڈالرز کی مہربانیوں کے خلاف نہیں ہوںمگر اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے پوچھنے کا حق تو رکھتا ہوں کہ یہ سعودی کرم فرمائی کن شرائط پر؟پاکستان پر خصوصی عنایتوں کے پس پشت ڈیل،ڈھیل یا این آر او کاچکرتو نہیں چل رہا؟کہی
ایک بار پھر ملکی مفاد پر سودے بازی تو نہیں ہوئی؟کیا اپوزیشن اِس معاملے پر ایوان میں بحث کرنا پسند کرینگے؟ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے بھی توسعودی حکمرانوں سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد لی تھی اُس کے فائدے سے اگر کوئی ہم وطن مستفید ہوچکا ہوں تو پلیز
میری بھی راہنمائی کریں۔ ہاں یاد آیا پی ٹی آئی حکومت بننے سے پہلے سوئیس بنکوں میں پڑی پاکستانیوں کے سینکڑوں بلین ڈالرز کا میڈیا پر
خوب چرچاتھامگر اب خاموشی چھائی ہوئی ہے اگر حالات ایسے ہی چلتے رہے تو کم ازکم پاکستانی حکمرانوں کا بھیگ مانگنا بے شرمی کے زمرے میں نہیں آتا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*