حوصلہ نہ ہارو آگے بڑھو اب کے منزل دور نہیں

محمد راشد رفیق

نپولین جرمنی کا بادشاہ گزرا ہے جس نے جرمنی کی حالت بدل دی تھی۔اسی نپولین نے اپنی عوام سے کہا تھا کہ آپ مجھے پڑھی لکھی مائیں دیں میں آپ کو ترقی یافتہ قوم دوں گا۔نپولین کی رعایا نے اپنے بادشاہ کی بات مانی اور آج جرمنی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سرفہرست ہے ،لیکن آج ہم اپنے آپ پر نظر دوڑائیں تو ہمارا حال اس کے بالکل الٹ ہے۔ہمارے ہاں اگر اداروں، کمپنیوں اور ملوں ،فیکٹریوں میں نظر دوڑائیں تو بات بالکل مختلف ہوتی ہے۔یہاں افسر بالا ان پڑھ اور ماتحت افراد پڑھے لکھے پائے جاتے ہیں۔چاہے وہ ہماری انڈسٹری ہو یا ہمارا کوئی سرکاری ادارہ، پرائیویٹ کمپنی ہو یا کوئی سکول و کالج۔



ہر جگہ یہی حال ہے بلکہ یہاں تک کہ اگر22 گریڈ کا افسر بھی ہو تو وہ گریڈ 9 کے افسر سے کم پڑھا لکھا ہوتا ہے۔نا جانے میں بات کو کہاں لے گیا ، بات کو بڑھانے کیلئے معذرت۔میں بات کر رہا تھا نپولین کے اس قول کی!
’’ پڑھی لکھی مائیں کسی ملک کے ترقی میں کتنا اہم رول ادا کرتی ہیں‘‘
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے‘‘لیکن ہمارے ہاں لڑکیوں کی پڑھائی پر پابندی تو ہے ہی ،لڑکوں کی پڑھائی پر بھی پابندی ہوتی ہے۔ اگر کوئی لڑکا بیچلر یا ایم اے کی ڈگری حاصل کر بھی لے تو اسکو ملازمت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، اور اگر ملازمت مل بھی جائے تو بائی چانس افسر بالا تقریبا ً اسے ان پڑھ ہی ملتے ہیں۔
میں یہاں کسی اور کی بات ہی نہیں کرتا ، اپنی بات ہی کر دیتا ہوں، میٹرک کے بعد جب ڈی اے ای کرنے لگا تو مجھے کہا گیا کہ ڈی اے ای کا بڑاسکوپ ہے، لیکن جب ڈی اے ای کر لیا تو بات اس کے الٹ تھی ،ڈی اے ای کے بعد کہاگیا بی ٹیک کے بعد ہو سکتا ہے تجھے کوئی جاب دے۔کچھ ادارے ایسے بھی تھے جو ہمیں اندر داخلے کی زحمت بھی نہیں دیتے تھے ، بعض لوگ تو ہمارے سامنے ہمارے کاغذات پھاڑ دیتے تھے۔ یہاں پہ ڈی اے ای کا بتاتا چلوں ’’ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجئنیر‘‘ لا تعداد جگہوں پہ اپلائی کیا،پھر کچھ عرصہ کے بعد ایک جگہ سے کال آئی اپرنٹس شپ کی۔
اپرنٹس شپ میں کوئی کمپنی یا ادارہ طلباء کو ایک مخصوص عرصہ کیلئے طلباء کو ٹریننگ دیتا ہے پھر ٹریننگ کے اختتام پر ایک پرچہ لیا جاتاہے ،جو طلباء کے لئے پاس کرنا لازم ہوتا ہے جس کی بناء پر طلباء کو سرٹیفیکیٹ دیے جاتے ہیں۔ میرے ساتھ اپرنٹس شپ کرنے کے لئے اور بھی لوگ موجود تھے جس میں بی ایس سی انجئینرنگ ، بی ایس سی ڈبل میتھ اور ایل ایل بی کرنے والے شامل ہیں۔ لیکن ہم لوگ اپرنٹس شپ کم اور ہیلپر زیادہ تھے۔ہمارے افسر بالا کم پڑھے لکھے اور کم شعور والے تھے، ان سب کو سوائے مشینوں کو آن آف کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں آتا تھا۔جب ان سے کوئی سوال کیا جاتا تھا تو وہ ہنس کر بات کو ٹال دیتے، مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے۔شاید وہ خوف میں مبتلا تھے کہ ہم ان سے آگے نہ نکل جائیں یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو سوالات ہم ان سے پوچھتے تھے انھوں نے کبھی ان سوالات کو سنا ہی نا ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے وہ جان بوجھ کے جوابات نا دینا چاہتے تھے۔میں اگر اپنی بات چھوڑ بھی دوں تو مجھے ان لوگوں پر ترس آتا تھا جو مجھ سے زیادہ پرھے لکھے تھے۔
میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ انڈسٹری کی ہیلپری کیا ہوتی ہے، ایک ہیلپر کا کام سارا دن موٹروں،مشینوں کی صفائی کرنا وغیرہ اور افسر بالا کی گالیاں سننے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔افسر بالا کی انہی حرکتوں کی وجہ سے میرے جیسے کئی لوگ اپنی فیلڈ کو چھوڑ چکے ہیں ،کئی بے روزگار طلباء جن کے والدین نے ان کو پڑھے لکھے معاشرے کا فرد بنانے کے لئے اپنی سب جمع پونجی لگا دی ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے خودکشی کر چکے ہیں۔مجھے آج تک ان باتوں کی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے ملک میں ہی ایسا کیونکر ہوتا ہے؟ کیا ہم اس قابل نہیں کہ اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ کیا تمام ترقی یافتہ ممالک میں طلباء کے ساتھ ایسا ہوتا ہے؟۔ میں مایوس تو نہیں ہوںلیکن جب میں لاکھوں کروڑوں پڑھے لکھے افراد کو اس حالت میں دیکھتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔



کیا ہمارے ملک میں پڑ ھے لکھے افراد کی ضرورت نہیں ؟۔ آج ہمارے ملک کی ٹوٹل انڈسٹری کچھ نا اہل افراد کی وجہ سے خسارے میں ہے ،تمام پرائیویٹ و سرکاری ادارے خسارے میں جا رہے ہیں پی آئی اے ، پاکستان اسٹیل ملز وغیرہ اس کی مثالیں ہیں، کیا کبھی ہم نے سوچا ! کہ ہمارے ملک میں ایسا کیونکر ہو رہا ہے؟یہ صرف اور صرف اداروں میں کم ظرف، کم پڑھے لکھے ، نا اہل ،کم عقل اور سفارشیوں پہ بھرتی افراد کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو پھر اداروں میں پڑھے لکھے افراد کو جگہ دینی ہو گی،میرٹ پہ بھرتی کرنا ہوگی،اہل افراد کو ذمہ داریاں دینا ہونگی ،تب جا کر ملک ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔موجودہ حکومت اس بات پہ زور دے تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ حکومت 1کروڑ نوکریاں تو نہیں دے سکتی ،لیکن وہ ایسے وسائل پیدا کر سکتی ہے جس سے بے روزگاری کی شرح میں کمی آ سکتی ہے۔جس ملک میں بیروزگاری کی شرح کم ہو تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا،موجودہ حکومت کرپشن پر بہت کام کر رہی ہے ، ہونا بھی چاہئے کیونکہ اگر ہم کرپشن کا پیسہ واپس لے آئے تو ہمارا ملک خوشحال ہوسکتا ہے ،ہم اپنا سارا قرض چکا سکتے ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔موجودہ حکومت قرضہ لینے کی بجائے بیرونی سرمایہ داروں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کی دعوت دے رہی ہے ،سی پیک جیسے منصوبے میں سعودی عرب کا تاریخ میں پہلی بار دلچسپی لینا اس امر کا ثبوت ہے۔ فیصل آباد میں عرصہ دراز سے بند100 سے زائد انڈسٹری کادوبارہ چلنا نوجوانوں کیلئے اپنی قابلیت پیش کرنے کا بہترین موقع ہے۔متحدہ عرب امارات اور ترکی کے وفد کا پاکستان کی معاشی مسائل کے حل میں پیشکش کرنا ایک اچھا اقدام ہے۔جاپان اور چائنہ کا پاکستانی طلباء کے لئے سکالرشپ کا اعلان نوجوانوں کے لئے روشن مینار کی مانند ہے۔قطری وزیر داخلہ محمد بن عبدالرحمن التھانی کا 100000 پاکستانیوں کو ملازمت دینے کا اعلان دونوں ممالک کے معاشی مسائل کو حل کرنے کے لئے اہم پیش رفت ہے۔نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر سے ملازمت کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔حکومت بلاسود قرضے اگر طلباء کو دے تو وہ لوکل بزنس کر کے ملک کی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کا پاکستان میں کام کرنا ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے،تو پھر میں کیوں نہ کہوں نوجوانو! حوصلہ رکھو آگے بڑھو اب کے منزل دور نہیں۔ذرا سوچیئے! اگر آگے بڑھنا ہے تو الف، ب،پ پر یقین رکھنا ہے۔بقول مصورپاکستان علامہ محمد اقبالؒ
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*