ذرا غور کریں

ڈی بریفنگ/ شمشاد مانگٹ

جب نیا نیا پاکستان بنا تھا تو اس وقت عوام کی آباد کاری کا مسئلہ درپیش تھا اور اب ستر سال بعد قوم کے اکثریتی خطے کے فیصلے ’’ نیا پاکستان‘‘ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو قومی تباہ کاریوں کے مسائل درپیش ہیں۔ یہ تباہ کاریاں صرف گزشتہ دس سال کی حکومتوں کا شاخسانہ نہیں ہیں بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی روح پرواز کرتے ہی ہمارے لیڈروں میں نئی ’’بدروح ‘‘ بیدار ہوئی تھی۔ اس کی سیاہ کاریوں کا نتیجہ ہے جب قومیں ترقی کرتی ہیں تو ان کے لیڈر اس قوم میں نئی پھونک چکے ہوتے ہیں لیکن ہماری قیادتوں نے رفتہ رفتہ ہماری روح ہی ’’پھوک‘‘ کر رکھ دی۔
نیا پاکستان بنتے ہی ہندوستان سے بچ بچا کر پہنچنے والی غریب عوام اپنے بچ جانے والے پیاروں کے ہمراہ مختلف شہروں میں رہائش کے لئے غور کر رہی تھی جبکہ محمد علی جناح کی بیماری سے واقف کئی وڈیرے سیاستدان زمینوں ، جائیدادوں اور املاک پر قبضوں کے لئے غور کر رہے تھے ۔ اگرچہ قائد اعظم محمد علی جناح عوام کو متحد رکھنے اور پاکستان کو متحد اور مضبوط رکھنے کے لئے غور کر رہے تھے لیکن تقدیر کو ایسا منظور نہیں تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح نظر آتی ہے کہ ہمارے ہاں جو سب سے زیادہ کام کیا جاتا ہے وہ ’’غور‘‘ ہی ہے ۔ حکومت اپنے منصوبوں کی تکمیل اور منشور پر عملدرآمد پر غور کرتے کرتے اپنی مدت پوری کر جاتی ہے اپوزیشن حکومت کو ذلیل کرنے کے منصوبوں پر غور کرتی کرتی خود ہی حکومت میں آجاتی ہے اور پھر ازخود اپوزیشن کے ہاتھوں ہونے والی ذلالت سے بچنے پر غور شروع کر دیتی ہے ۔ہماری موجودہ حکومت کی بھی یہی صورت حال ہے جو کہ مسلسل دو ماہ سے قومی معیشت کی بحالی پر غور کے ساتھ ساتھ کئی طرح کے پاپڑ بھی بیل رہی ہے۔ اس حکومت کے لئے ایک طرف تو یہ مسئلہ ہے کہ بیرونی دنیا کو کس طرح اعتماد میں لے کر مزید قرضے دینے پر آمادہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی یہ بھی مسئلہ ہے کہ جن اقدامات کو یہ حکمران خود کشی کے برابر برقرار دیتے تھے ان کو ’’حلال ‘‘ اور جائز کیسے قرار دیا جائے۔



حکومت سعودی عرب سے 6 ارب ڈالر کا پیکج حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور اب دورہ چین کو کامیاب بنانے پر غور کر رہی ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ چینی حکام ’’ بے چینی‘‘ سے عمران خان اور ان کے رفقاء کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو قرضے دے کر ’’چین‘‘ حاصل کیا جا سکے ۔جب سے عمران خان کی حکومت نے سی پیک پر منصوبے پر ازسرنو غور کرنے کی دھمکی دی ہے اس وقت سے اہالیان چین مسلسل ’’بے چین‘‘ دکھائی دیتے ہیں ۔ عمران خان کی ’’غور‘‘ کرنے کی دھمکی کو روکنے کے لئے چین پاکستان کے لئے کافی کچھ کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے اور یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ چینی حکام سے سابق حکومت نے سی پیک معاہدے پر کس طرح سے ’’کک بیکس ‘‘ لئے اس کی تمام تفصیلات عمران خان اور ان کے رفقاء کو فراہم کرنے پر بھی چین غور کر رہا ہے ۔
چینی حکام کو یقین ہے کہ اگر عمران خان کو سابقہ حکومت کے تمام ’’لچھن‘‘ بارے تفصیلات فراہم کر دی جائیں تو ان کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا اور انہیں یقین بھی آ جائے گا کہ چینی حکام نے عالم مجبوری میں کمیشن ادائیگیاں کیں ۔ لہذا عمران خان معیشت بحالی پیکج لے کر کم از کم ’’غور‘‘ کرنے سے باز آ جائیں گے ۔چین کے بعد عمران خان اور ان کے ساتھی ملائیشیا سے بھی خصوصی پیکج مانگنے پر غور کر رہے ہیں چونکہ پوری دنیا میں عمران خان کے حوالے سے ایماندار شخصیت ہونے کا لیبل لگ چکا ہے ۔ عمران خان اور ان کے دوست ملائیشیاء کے مہاتیرمحمد سے اقتصادی پیکج کے ساتھ چوروں کو پکڑنے کی تدابیر پر غور کرنے کے بھی خواہش مند ہیں ۔
حکومت کی دیکھا دیکھی اپوزیشن بھی مسلسل ’’غور‘‘ کرنے کی بیماری میں مبتلا دکھائی دیتی ہے ۔ شنید یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان تو دن رات اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو اکٹھے بٹھا کر اپنے تمام سابقہ پیکج بحال کروائے جا سکتے ہیں ۔ ایک ماہر معیشت سیاستدان کا کہنا ہے کہ اس وقت جو حالت پاکستان کی معیشت کی ہے وہی حالت مولانا فضل الرحمان کی ہے کیونکہ سابقہ حکومتوں نے بیرونی دنیا سے جتنا بھی قرض لیا اس کا بڑا حصہ مولانا فضل الرحمان کو حکومت کا حامی بنانے پر خرچ ہوتا رہا ہے ۔ لہذا مولانا فضل الرحمان مسلسل ایسی تدابیر کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت انہیں اپنے ساتھ شامل نہیں کرنا چاہتی تو نہ کرے لیکن کم از کم غور تو کرے کہ مولانا فضل الرحمان جیسی ’’دیندار‘‘ قیادت اگر حکومت کے ساتھ ہوتو اس کے کیا کیا فوائد ہو سکتے ہیں؟لیکن مولانا کو دکھ اس بات کا ہے کہ حکومت اس پر غور بھی کرنے کو تیار نہیں ہے ۔
دلچسپ بات ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی بلائی ہوئی آل پارٹنر کانفرنس میں شرکت سے پہلے ہی مسلم لیگ(ن) شرکت نہ کرنے کے نقصانات اور فوائد بارے غور کر رہی ہے جبکہ اے پی سی کو ڈھال بنا کر حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے آصف علی زرداری شدت سے غور کر رہے ہیں ۔آل پارٹیز کانفرنس مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے بڑی ’’غور و خوض‘‘ کے بعد بلائی ہے تاکہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ این آر او دینے پر ’’غور‘‘ شروع کرے اور غریبوں کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے کی برآمدگی کا سلسلہ روکا جا سکے ۔یقیناً مولانا فضل الرحمان نے آصف علی زرداری سے یہ گلہ ضرور کیا ہوگا کہ رقوم کی احسن طریقے سے منتقلی کے لئے ہمارے ورکروں کو استعمال کرنے پر کیوں غور نہیں کیا گیا؟ اگر ایسا ہو جاتا تو آج مولانا فضل الرحمان چندے کے نام پر یہ ساری دولت جائز قرار دے کر کافی بچت کروا دیتے ۔



عوام اب دل تھام کر رکھیں کیونکہ ہر طرف بلکہ اوپر سے نیچے تک صرف ’’غور‘‘ ہو رہا ہے ۔ حکومت بجلی گیس مہنگی کر چکی ہے اور مزید ٹیکس لگا کر خسارہ پورے کرنے پر غور کر رہی ہے ۔ اپوزیشن خود کو بچانے کے لئے حکومت گرانے پر غور کر رہی ہے ۔ نیب 50 کے لگ بھگ بڑے مگرمچھوں کی گرفتاری پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے ۔اس ’’غور و خوض‘‘ میں عوام ’’لب گور ‘‘ ہو چکے ہیں اور یہ لمحہ انتہائی ’’غور کن‘‘ ہے کہ ہمارے سیاستدان رہبر بننے کی بجائے ’’گور کن ‘‘ کا روپ دھار چکے ہیں ۔ لہذا حکومت اور آل پارٹیز کانفرنس والے اس نقطے پر ہمدردی سے غور کریں کہ جمہوریت بہترین انتقام ضرور ہے لیکن یہ انتقام عوام سے نہ لیا جائے ۔ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اداروں سے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے اور باقی کے بارے میں غور ہو رہا ہے ۔
وزیر اعظم اپنے وعدے پر ذرا غور ہی کر لیں کہ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا یا نوکریاں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا؟بس ذراغور ضروری ہے ۔ #/s#(جاوید)
٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*