آخر

چلو یہ بھی اچھا ہوا
یہ ماہ بھی گزر گیا
سنا تھا میں نے ظالم ہے
بہت سی جدائیوں کا ضامن ہے
ٹیٹھرتی برفیلی راتوں میں
کچھ بھولے لوگ یاد دلا کر
جگائے رکھتی ہے مسلسل
 کچھ خوابوں کو یاد دلاتی ہے
ان زخموں کو بھڑ جاتی
کچھ ایسا ہی ہوا
 پورانی روش پر چل کر
  سبھی الزام کو سچ کر کر
مجھے بھی درد سے آشنا کر کے
اب خاموشی سے چل دیا آخر
چلو یہ بھی   اچھا ہوا آخر
فاتح ہی سہی گزر گیا آخر
نبیلہ ملک حیاء




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*