انتظار۔۔۔۔

ہر عروج کو زوال آتا ہے
اور تیری جدائی اب عروج پر ہے
میں نے صدا تیرا انتظار کیا ہے
اور تیرے بچھڑنے کے دکھ
اور ہجر کے درد کو
صرف اس یاس پہ پالتا رہا ہوں
کہ ایک دن تیری جدائی کے
عروج کو زوال بھی آنا ہے
میری مثال ایک چٹیل خالی میدان میں
تن تنہا کھڑے اس پیڑ سی ہے
جو زندگی کے سبھی موسم
چپ چاپ دیکھتا ہے
گرمی کے موسم میں
آتشِ عشق میں جلتا ہے
 اس کی نمی ساری نچڑ جاتی ہے
گرمیوں کے اختتام تک
تو بہار کے موسم میں
بادل پانی برسا جاتا ہے
لیکن ساتھ ہی کالی گھٹائیں
طوفان اور آندھیاں
اس کی یاس کی شاخوں کو
توڑ لے جاتی ہیں
زخم ہوتے ہیں اور انہی زخموں پر
یاس کی کلیاں نئی کھل اٹھتی ہیں
بہاروں کی برسات میں
تر ہواؤں کی ٹھنڈک
شجر کے سینے میں
نئی زندگی بھر جاتی ہے
جیسے بادباں بھرتے ہیں کشتی کے
اور یاس کا سفر پھر جانب منزل
گامزن ہو جاتا ہے
لیکن خزاں کے آتے ہی
جب شاخوں کے پتے سوکھ کر
جھڑنے لگتے ہیں
اور یاس کے پھول مرجھا جاتے ہیں
پتوں سے نکلتی زندگی کا شور
بڑا روح فرسا ہوتا ہے
مگر وہ انتظار باقی رہتا ہے
اب پیڑ کا شاخوں اور پتوں سے خالی ننگا بدن
تیز خنک ہواؤں کے جھونکوں میں
ہجر کی کالی راتوں کی اذیت سہتا ہے
لیکن وہ کبھی حوصلہ نہیں ہارتا
اس کی امید باقی رہتی ہے
جڑ کی آخری شاخ کے سوکھنے تک
بالکل ایسے ہی جاناں!!!
میں بھی تیرے انتظار میں
موسموں کے تھپیڑے کھاتا
میں گرتا ہوا اور گر کر سنبھلتا ہوا
تیرے وصل کی جانب گامزن ہوں
میں تیرے انتظار میں جھیل سکتا ہوں
اور بھی تلخیاں اور سختیاں ایسی ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میں کر سکتا ہوں انتظار
اس چٹیل میدان میں تن تنہا کھڑے پیڑ کی صورت
اس آس پہ کہ……
ہر عروج کو زوال آنا ہے.
ملک شفقت اللہ شفی




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*