ماہ صفر بد بخت ومنحوس نہیں

حفیظ چوہدری

توہم پرستی، ایسی دیمک ہے جو افراد اور معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر کے بالکل کمزور کر دیتی ہے۔ اگر ایک شخص کالی بلی کے راستہ کاٹنے پر گھر واپس آجاتا ہے تواس کا مطلب تو یہ ہوا کہ بلی زیادہ طاقتور ہے اور انسان اس کے مقابلے میں حقیر اور کمزور مخلوق ہے۔ اس طرح توہم پرست اپنے آپ کو ہر چیز کے مقابلے میں گرا دیتا ہے۔ پھر ماہِ صفر کے بارے میں تو کتابوں میں پڑھا کہ اسلام کا دورِ عروج ہجرت مدینہ سے شروع ہوا اور یہ ہجرت ماہِ صفر میں ہوئی تھی۔ اسلام کی شان و شوکت اور سر بلندی کا آغاز فریضہ جہاد سے ہوا۔ اس کی اجازت بھی ماہِ صفر میں نازل ہوئی۔کاشانہ نبوت میں ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہؓ اور ام المومنین حضرت جویریہؓ اسی ماہ میں بیاہ کر رونق افروز ہوئیں ایک روایت تو اسی ماہ میں خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزھرائؓ کے نکاح کے بارے میں بھی ہے۔
ایسا رحمتوں،برکتوں اور خوشیوں والا مہینہ منحوس کیوں ہوگا..؟ اس لئے امت مسلمہ اس ماہ کو صفر الخیر یا صفر المظفر کہتے ہیں تاکہ نحوست اور توہم پرستی کے تمام خیالات کی جڑ ہی کٹ جائے۔ اللہ کریم ہم سب کو عقل سلیم اور فہم صحیح سے نوازے۔



صفر المظفراسلامی قمری کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں شریعت مطہرہ نے نہ تو کوئی خاص عبادت مقرر کی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں قرآن وسنت اور فقہِ اسلامی میں کوئی خاص اصول آئے ہیں۔
کچھ لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ مہینہ بدبخت اور منحوس ہے، اسی وجہ سے وہ لوگ اس مہینے میں شادی بیاہ اور دیگر خوشی کی تقریبات منانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ خیال بالکل بے بنیاد اور بے اصل ہے، یہ اعتقاد دراصل اْس توہم پرستی کا ایک حصہ ہے جو اسلام کے پھیلنے سے پہلے عرب میں بہت عام تھی۔ یہ لوگ جا بجا نحوست اور توہم پرستی کا شکار رہتے ہیںاور طرح طرح کے الٹے سیدھے خیالات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توہم پرستی پر مبنی ایسے تمام عقائد کو بالکل ختم کردیا اور مسلمانوں کو ایسے خیالات رکھنے سے روک دیا، بالخصوص ماہِ صفر کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرما دیا’’ ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا، اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔(بخاری ومسلم )۔
احادیث مبارکہ میں اس مہینہ کے ساتھ نحوست وابستہ ہونے کی سختی کے ساتھ تردید کی گئی ہے اس لئے اسے صفر المظفر یا صفر الخیر کہا جاتا ہے تاکہ اس کو منحوس اور شرو آفت والا مہینہ نہ سمجھا جائے بلکہ کا میابی اور کامرانی اور خیرو برکت کا مہینہ سمجھا جائے۔ اس واضح ارشادِ نبوی کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ مسلمان، ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا بالکل چھوڑ دیتے لیکن افسوس کہ دینی تعلیمات سے جہالت اور بے خبری کی وجہ سے اب بھی ہمارے درمیان لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس مہینے کو منحوس سمجھتی ہے بلکہ اس کے بارے میں عجیب و غریب باتیں مشہور کر رکھی ہیں مثلاً:
1۔ کچھ لوگ اس کے ابتدائی تیرہ دن کو بدبختی اور نحوست کے دن سمجھتے ہیں اور ان کو ’’تیرہ تیزی‘‘ کہتے ہیں۔
2۔ کچھ لوگ اس مہینے میں جنات کو بھگانے کیلئے الٹے سیدھے کام کرتے ہیں۔3۔ کچھ لوگ مروّجہ قرآن خوانی کے ذریعہ اس مہینہ کی نحوست سے بچتے ہیں۔4۔ کچھ لوگ اس مہینے کی آخری بدھ کو عید مناتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
حالانکہ اسلام کی واضح، روشن اور دو ٹوک تعلیمات کے بعد ایسی توہمات کی کوئی حقیقت اور اہمیت باقی نہیں رہتی۔
اس موقع کی مناسبت سے ہم نے ایک فہرست تیار کی ہے، جس میں اکثر و بیشتر وہ تمام خیالات جمع کردئیے ہیں جو توہم پرستی اور نحوست کے متعلق لوگوں میں بالخصوص خواتین میں عام ہیں۔
آئیں! اس فہرست کو اس نیت سے پڑھیں کہ جو حق کی بات ہمیں معلوم ہوگی اْس پر فوراً عمل پیرا ہوں گے۔
اسلام میں نحوست اور بدشگونی کا کوئی تصور نہیں۔ یہ محض توہم پرستی ہے۔ حدیث شریف میں بدشگونی کے عقیدہ کی تردید فرمائی گئی ہے۔ سب سے بڑی نحوست انسان کی اپنی بدعملیاں اور فسق و فجور ہے۔ جو آج مختلف طریقوں سے گھر گھر میں ہو رہا ہے۔ الاماشاء اللہ۔ یہ بدعملیاں اور نافرمانیاں خدا کے قہر اور لعنت کی موجب ہیں۔ ان سے بچنا چاہئے۔
کسی کام یا دن کو منحوس سمجھنا غلط ہے۔ نحوست اگر ہے تو انسان کی اپنی بدعملی میں ہے۔لڑکیوں کو یا ان کی ماں کو منحوس سمجھنا یا ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرنا بدترین گناہ اور جاہلیت کی بات ہے۔
مختلف رنگ کی چوڑیاں اور کپڑے پہننا جائز ہے اور یہ خیال کہ فلاں رنگ سے مصیبت آئیگی محض توہم پرستی ہے ،رنگوں سے کچھ نہیں ہوتا، اعمال سے انسان اللہ تعالیٰ کی نظر میں مقبول یا مردود ہوتا ہے۔
ماہ صفر منحوس نہیں اسے تو ’’صفر المظفر‘‘ کہا گیا ہے۔ یعنی کامیابی اور خیر و برکت کا مہینہ، اس لئے اس کے متعلق نحوست کا اعتقاد رکھنا غلط ہے۔
(6) محرم کی دسویں تاریخ اور تمام عشرہ محرم میں شادی بیاہ کرنا، بچوں کے ختنہ کرنا اور شادی وغیرہ کا کھانا پینا بلاشبہ جائز ہے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔
شریعت میں کوئی مہینہ ایسا نہیں جس میں شادی سے منع کیا گیا ہو۔ا
رات یا عصر، مغرب کے وقت یا کھانے کے بعد جھاڑو دینے، چوٹی کرنے، ناخن تراشنے کو گناہ یا نیستی و بے برکتی کا سبب سمجھنا محض توہمات میں سے ہے، شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں۔
الٹی چپل یا چیز وغیرہ کو سیدھا کردینا اچھی بات ہے لیکن اس کے الٹا رہنے سے یہ سمجھنا کہ اس سے اوپر لعنت جاتی ہے اس کی کوئی اصل نہیں محض لغو بات ہے۔



سنت طریقے کے مطابق استخارہ تو مسنون ہے حدیث میں اس کی ترغیب آئی ہے اور فال کھلوانا ناجائز ہے۔
قرآن مجید سے فال نکالنا، ناجائز ہے ۔فال نکالنے اور اس پر عقیدہ رکھنایا کسی اور کتاب مثلاً دیوان حافظ یا گلستان وغیرہ سے بھی ناجائز ہے ۔ قرآن مجیدفرقان حمید سے نکالنا تو سخت گناہ ہے کہ اس سے بسا اوقات قرآن مجید کی توہین یا اس کی جانب سے بدعقیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔
’’ سیدھی آنکھ پھڑکے تو کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے اور بائیں پھڑکے تو خوشی حاصل ہوتی ہے۔‘‘ یہ محض بے اصل بات ہے، قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
مصلیٰ کا کونا الٹنے کا رواج اس لئے ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد بلاضرورت جائے نماز بچھی نہ رہے اور وہ خراب نہ ہو۔ عوام جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جائے نماز نہ الٹی جائے تو شیطان نماز پڑھتا ہے یہ بالکل مہمل اور لایعنی بات ہے۔
’’بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ عصر اور مغرب کے درمیان کچھ کھانا پینا نہیں چاہئے کیونکہ نزع کے وقت انسان کو ایسا محسوس ہوگا کہ عصر و مغرب کا درمیانہ وقت ہے اور شیطان شراب کا پیالہ پینے کو دے گا تو جن لوگوں کو عصر و مغرب کے درمیان کھانے پینے کی عادت ہوگی وہ شراب کا پیالہ پی لیں گے اور جن کو عادت نہ ہوگی وہ شراب پینے سے پرہیز کریں گے نیز اس وقفہ عصر و مغرب کے درمیان کچھ نہ کھانے پینے سے روزے کا ثواب ملتا ہے۔‘‘ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ عصر و مغرب کے درمیان کھانے پینے میں شرعاً کوئی کراہت نہیں۔
’’بعض عورتوں کا خیال اور اعتقاد یہ ہے کہ صفر کا مہینہ اور خصوصاً ابتدائی 13دن منحوس اور نامبارک ہیں۔ ان دنوں میں عقد نکاح، خطبہ اور سفر نہ کرنا چاہئے، ورنہ نقصان ہوگا‘‘ یہ خیال اور عقیدہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ماہ صفر کو منحوس سمجھتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خیالات کی سخت الفاظ میں تردید فرمائی۔ واقع میں وقت، دن، مہینہ یا تاریخ منحوس نہیں ہوتے، نحوست بندوں کے اعمال و افعال پر منحصر ہے۔ جس وقت کو بندوں نے عبادت میں مشغول رکھا وہ وقت اس کے حق میں مبارک ہوتا ہے اور جس وقت کو گناہ کے کاموں میں صرف کیا ہے وہ ان کے لئے منحوس ہوتا ہے۔ حقیقت میں مبارک عبادات ہیں اور منحوس معصیات ہیں۔
الغرض ماہ صفر منحوس نہیں ہے۔ مگر منحوس ہمارے اعمال اور غیر اسلامی عقائد ہیں۔ان تمام کو ترک کرنا اور ان سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ ماہ صفر اور اس کے ابتدائی تیرہ دنوں کو منحوس سمجھ کر شادی، منگنی ، سفر وغیرہ کاموں سے رک جانا سخت گناہ کا کام ہے۔
’’نوروز‘‘کا دن منایا جاتا ہے، اسلامی نقطہ نظر سے اس کی کوئی حقیقت اور اہمیت نہیں بلکہ نوروز کی تعظیم مجوسیوں اور شیعوں کا شعار ہے۔
اہل اسلام کے نزدیک نہ تو کوئی شخص کسی کی قسمت کا صحیح صحیح حال بتا سکتا ہے ،نہ برجوں، ستاروں میں کوئی ذاتی تاثیر ہے۔ ان باتوں پر یقین کرنا گناہ ہے اور ایسے لوگ ہمیشہ پریشان رہتے اور توہم پرست بن جاتے ہیں۔
علم نجوم پر لکھی ہوئی کتابیں ،پامسٹری وغیرہ پڑھ کر لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر حالات بتانا یعنی پیشن گوئیاں کرنا اور اس پیشہ سے کمائی کرنا ایک مسلمان کیلئے جائز نہیں۔
’’اکثر لوگ کہتے ہیں کہ جمعہ اور منگل کو کپڑے نہیں دھونا چاہئیں۔ ایسا کرنے سے رزق وآمدنی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔‘‘ یہ بالکل غلط اور توہم پرستی ہے۔ بعض لوگوں میں یہ توہم پرستی ہے کہ اگر دیوار پر کوّا آکر بیٹھے تو سمجھتے ہیں کہ کوئی آنے والا ہے، اور سمجھتے ہیں کہ اگر شام کے وقت جھاڑو دی تو گھر کی نیکیاں بھی چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح پاؤں پر جھاڑو لگنا یا لگانا برا فعل ہے۔بچے کے دانت اگر الٹے نکلتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ننھیال یا ماموئوں پر بھاری پڑتے ہیں۔ اس کی بھی کوئی اصل نہیں محض توہم پرستی ہے۔



بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کاٹا ہوا ناخن کسی کے پاؤں کے نیچے آجائے تو وہ شخص اس شخص کاجس کا ناخن کاٹا ہے دشمن بن جاتا ہے، اسی طرح اگر کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو آگے جانا خطرے کا باعث بن جاتا ہے۔ یہ باتیں بھی محض توہم پرستی کی مد میں آتی ہیں۔ شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں۔ بعض لوگ زمین پر گرم پانی وغیرہ گرانے کو گناہ سمجھتے ہیں کہ اس سے زمین کو تکلیف ہوتی ہے۔

 بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر زمین پر نمک گر جائے یعنی پائوں کے نیچے آئے تو روز قیامت پلکوں سے اٹھانا پڑے گا۔ یہ بھی قطعاً غلط ہے البتہ نمک بھی خدا تعالیٰ کی نعمت ہے اس کو زمین پر نہیں گرانا چاہئے۔’’بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ لعل، یاقوت، زمرد، عقیق اور فیروزہ کے نگ کو انگوٹھی میں پہننے سے حالات میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔‘‘ یہ اعتقاد بھی صحیح نہیں۔ پتھروں کا کامیابی و ناکامی میں کوئی دخل نہیں۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل کا نام فیروز تھا۔ اس کے نام کو عام کرنے کیلئے سبائیوں نے ’’فیروزہ‘‘ کو متبرک پتھر کی حیثیت سے پیش کیا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*