اپنے رشتوں کی حفاظت کیجیے

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی *کتاب کامیابی کے راستے سے انتخاب*
جنگل میں پرندوں کی زور دار بحث جاری تھی ، مدعا یہ تھا کہ جنگل ختم ہوتے جارہے تھے ، آخر انسان پرندوں کے حقوق کا خیال کیوں نہیں رکھتا ، جنگل ختم ہوگئے تو پرندے کہاں جائیں گے۔۔۔۔ وہیں شہر سے آئی ایک فاختہ بیٹھی پرندوں کی ساری بحث سن رہی تھی ، اس نے کہا ۔’’میرے پیارے دوستو ، انسان کو تو آپس میں لڑنے سے فرصت نہیں ، تو تمہارے بارے کون سوچے گا؟‘‘
جی ہاں یہ ایک حقیقت ہے یہاں انسانوں کی دنیا میں نفرت بدگمانی جھوٹ دھوکہ وہم مطلب پرستی خود غرضی اور شک کا کاروبار اتنا عام ہے کہ اب گھر کی چھتوں پر کووں کبوتروں اور چڑیوں نے بھی آنا چھوڑ دیا ہے میں حیران ہوتا ہوں اور وہ شعر میں کانوں میں گونجنے لگتا ہے
سپروں نے یہ کہہ کر بند کر دیا سانپوں کو
انسان کافی ہے انسان کو ڈسنے کے لیے
*رشتے جسم میں روح کی طرح ہوتے ہیں جو احساس کی ڈور سے بندھے ہوتے ہیں* ۔ یہ ڈور اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ہر آنے والے رشتےکو اپنے اندر پرو لیتی ہے۔ ساتھ ہی اتنی کم زور ہوتی ہے کہ جب ٹوٹتی ہے تو سارے رشتوں سمیت بکھر جاتی ہے رشتوں کی اہمیت کو اگر سمجھا جائے تو *ان کی حفاظت باغ میں لگے نازک پھولوں کی طرح کرنی پڑتی ہے* کیوںکہ ہماری ذرا سی کوتاہی ان کو ٹہنی سے جدا کر دیتی ہے۔ رشتے خون کے ہوں یا مستقل،خاردار جھاڑیوں کی طرح ہوتے ہیں جو سائے کے ساتھ ساتھ زخم بھی دیتے ہیں رشتے توجہ مانگتے ہیں اور محبت کی ڈور سے باندھے جاتے ہیں جو اس کائنات کی سب سے مضبوط ڈور تعلق کو نبھانے کے لیے صبر کا پانی دینا پڑتا ہے۔ ۔ہم میں سے کوئی بھی پر فیکٹ نہیں ہوتا۔ زندگی میں بہت سے کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں تب جاکر رشتے اور تعلق مضبوط ہو پاتے ہیں۔
*کھانے میں کوٸی زہر ڈال دے تو ایک بار اس کاعلاج ہے۔
لیکن
کان میں کوٸی زہر گھول دے تو اس کا کوٸی علاج نہیں ہے*
رشتوں کی اموات کا سب سے بڑا اور فوری اثر پذیر سبب سنی سناٸی باتوں پر یقین کر لینا ہے ۔
اپنے رشتوں کی حفاظت کیجیے ۔ رشتوں کی بنیاد وہم و گمان پر نہیں یقین پر قاٸم کیجیے ۔ مال و دولت کا *لین دین شرعی اصولوں پر کرلیجیے اس سے نہ صرف دین پر عمل ہو جاۓ گا بلکہ رشتے تعلق محفوظ اور مضبوط بھی ہوجاٸیں گے ۔* تحفے دینے سے بھی محبت بڑھتی ہے مگر تحفے دے کر جتلاٸیں نہیں ۔تحفہ اس لیے دیں کہ اللہ کو مخلوق کی خدمت اور مخلوق سے محبت کرنے والے لوگ پسند ہیں آپ تحفہ دے کر اللہ کے بھی اور اس کے بندوں کے بھی پیارے بن جاتے ہیں ۔زبردستی کی پارٹی زبردستی کی ٹریٹ زبردستی کے تحفے دینے کا رواج ختم کر لیں کیونکہ جب ناراضی ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے ذرا سی بات ہے لیکن دراصل اس ذرا میں کٸی لمحات کٸی گمان کٸی امیدیں کٸی خود ساختہ سوچیں کٸی ذرات کی صورت شامل ہوتی ہیں ۔ لہذا اپنی چادر دیکھ کر پاوں پھیلاٸیں ۔ دل سے تعلق بناٸیں ۔دل سے چلیں ۔ کام آٸیں ۔ تعلق بنانے سے پہلے یہ مت سوچیں کہ یہ میرے کس کس کام آۓ گا یہ سوچیں میں اس کے کس کس کام آسکتا ہوں ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ میں نے دوستی کا معیار کہانی کے اس نتیجہ پر قاٸم کیا ہوتا ہے دوست وہ ہے جومصیبت میں کام آۓ اور شاہد ہماری زندگی میں مصیبت ہو یا نہ ہومگر ہم اس چکر میں رہتے ہیں کہ کوٸی مصیبت زبردستی ہم پر نازل ہو اور ہم اپنے دوست کو آزمالیں ۔ دوستی اس بنیاد پرقاٸم کریں مجھے کیا دینا ہے اس پر نہیں کہ کیا لینا ہے ۔رہی بات وفا کی تو ہم سب کے نزدیک وفا کا مطلب ہے میرے کام آنا نہیں آیا تو بے وفا بنا سوچے سمجھے ہم کٸی سال پرانی دوستی پر ایک منٹ میں لات مار دیتے ہیں *وفا عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہے پورا پورا یعنی مکمل* ۔تو اپنے دوست کومکمل سمجھنے کا نام وفا ہے نہ کہ مکمل فاٸدے اٹھانے کانام وفا ہے ۔ آپ سمجھیں تو سمجھ دار لوگ رشتے توڑنے کے لیے نہیں بلکہ قاٸم رکھنے کے لیے بناتے ہیں وفا کراونے یا کرنے کی چیز نہیں وفا زندگی کے پہلووں کو۔سمجھ کر چلنے کی چیز ہے وفا قدموں کومضبوط کرنے کانام ہے کھوکھلے سہاروں پر کھڑے کرنے یا رہنے کانام نہیں ۔ *اچھے تعلق اللہ کاتحفہ ہوتے ہیں* ان کی قدر کیجیے اللہ کا شکر کیجیے اس نے آپ کو مخلص دوست عطا کیے ہیں اور اس دور کا سب سے بڑا تحفہ ہی مخلص تعلق ہیں ۔یہ تحریر پسند آٸی ہے تو اپنے مخلص دوستوں کو تعلقات کو تحفہ سمجھ کر شٸیر کیجیے ان لفظوں کو پڑھنے کے بعد امید ہے آپ کا تعلق اور مضبوط اور پختہ ہو گا ۔ شکریہ
ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیاب زندگی کےراستے سے انتخاب. شکریہ … ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے …https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/
ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں . 03317640164.
شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*