تصوّر کہکشاں ہوتا نہیں ہے 

تصوّر کہکشاں ہوتا نہیں ہے
تُو مجھ سے اب بیاں ہوتا نہیں ہے۔

تڑپ میری جبیں کی بڑھ گئی ہے
مگر تُو آستاں ہوتا نہیں ہے

مری قسمت میں ہے جلتا ستارہ
بکھر کے جو دُھواں ہوتا نہیں ہے

مری سانسوں میں تُو اٹکا ہوا ہے
طبیعت میں رواں ہوتا نہیں ہے

خوشی اب بھی مجھے ہوتی ہے لیکن
وہ پہلا ساسماں ہوتا نہیں ہے

وہ دریا ہے جہاں اِک بار گُزرے
وہ رستہ بے نشاں ہوتا نہیں ہے

میں اُس کے ساتھ چلتی جا رہی ہوں
جو میرا کارواں ہوتا نہیں ہے

تُجھے اشکوں میں، میں کیسے بہادوں؟
تُو مجھ سے رائیگاں ہوتا نہیں ہے

مرے لفظوں میں ہے ظاہر مگر تُو
نگاہوں سے عیاں ہوتا نہیں ہے ۔

“منزہ سحر” خوبصورت سے اقتباس




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*