کیشوری

 وقار احمد ملک

کیشوری کا گھر صدر بازار کے بائیں پہلو میں ایک بڑی گلی میں تھا۔ گھر پرانی طرز کا اور ہندوؤں کے روائیتی رہن سہن کا عکاس تھا۔ گھر میں ہر وقت ایک سیلن زدہ ماحول چھایا رہتا۔ صحن میں لگی اونچی نیچی اینٹیں ہر وقت نمدار رہتیں۔ وجہ شاید یہ تھی کہ اس گھر میں دھوپ برائے نام ہی آیا کرتی۔ گھر کے دو طرف بلند چوبارے ایستادہ تھے جبکہ ایک کونے میں پیپل کا بزرگ درخت ہر وقت ماضی کے سوچوں میں گم سم سر نیوڑھائے اونگھتا رہتا۔ نصف سے زائد صحن میں اس کی چھاؤں ددپہر کے وقت بھی شام کا سماں پیدا کیے رکھتی۔ جنوب مشرقی کونے میں ایک شہتوت کا درخت رہی سہی کثر پوری کر دیتا تھا۔ شہتوت کا یہ درخت دکھنے میں ٹھگنا ضرور تھا لیکن اپنے ننھے سے تنے کے اوپر سبز کچور پتوں کا پورا جنگل تانے رکھتا۔ اسی درخت کے نیچے بوسیدہ اور ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں چھت کی طرف جاتی دکھائی دیتیں۔ سیڑھیوں کے نیچے رسوئی تھی۔رسوئی کو سستی اور گیلی لکڑیوں کے دھنویں نے کالا کر رکھا تھا۔رسوئی کے اندر ایک کونے میں ایک پرانا بلب لٹکتا رہتا جس کی چمکدار وشنی دھنویں اور گردشِ زمانہ نے مٹیالی ٹمٹماہٹ میں تبدیل کر دی تھی۔ جنوب کی طرف دو بڑے بڑے کمرے تھے جن کو ایک مرکزی محرابی دروازے نے ملا رکھا تھا۔ کمروں کے ہر گوشے میں طاق بنے ہوئے تھے جن میں بجلی کی آمد سے پہلے دیے جلائے جاتے ہوں گے۔ پرانی لکڑی کے مظبوط دروازوں سے باہر قدم رکھتے تو ایک لمبا چوڑا برامدہ آپ کا استقبال کرتا۔ بلند ستون اور اونچے محراب برآمدے کی وسعت اور کشادگی میں اضافہ کر تے دکھائی دیتے۔ گھر کی تمام دیواریں رنگ سے بے نیاز تھیں۔لگتا تھا کہ کسی زمانے میں سفید چونے سے مزین کی گئی ہوں گی لیکن بعد میں شاید کبھی بھی اس کی ضرورت نہ پڑی۔ بے رنگ گھر میں رنگینی عنقا تھی۔ ہاں کبھی کبھار ہولی کا تہوار لمحہ بھر کے لیئے رنگوں کی بہار لے آتا۔ اس دن بھی ہندومت کی نمائندگی صرف کیشی ہی کر رہی ہوتی۔ امی اور تایے کو نیلے پیلے رنگوں میں نہلا کر خوب چہکا کرتی۔ لیکن یہ چہچہاہٹ سال میں صرف ایک دن ہی اس گھر میں گونجتی۔ یہ اس کی زندگی کی سترہویں ہولی تھی جب سلیم نے کیشی کو کاسنی رنگ کی سوٹ تحفے میں دیا تھا۔
کیشوری کو خاموش سیڑھیوں سے اُنس تھا۔ سیڑھیاں گرچہ پرانی تھیں اور جا بجا ٹوٹی ہوئی بھی تھیں لیکن اِن پر آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ صاف شفاف رہتیں۔ درختوں کی چھاؤں اور بلند دیواروں نے اِن کو پُراسرار اندھیرا عطا کر رکھا تھا۔ اُوپر سے نیچے آئیں تو سیڑھی کا تیسرا قدم بالکل ہموار تھا۔ کیشی بچپن میں ہر وقت اس قدمچے پر اپنی رنگ برنگی گڑیاؤں کے ساتھ کھیلتی رہتی۔ کبھی کبھار گڈی گڈے کی شادی رچاتی تو کسی دن خیالی میڈم بن کر اُن کو سبق دینا شروع کر دیتی۔ جب اُس نے جوانی کی پھول دار کیاریوں میں قدم رکھا تو گڑیاں قصہء پارینہ بن گئیں۔لیکن سیڑھی کا وہ مخصوص قدم اُس کی جائے پناہ بنا رہا۔ اکثر وہ یہاں پر کتابوں کا مطالعہ کرتی رہتی۔خیالستان جیسی خوبصورت افسانوی کتاب اُس نے یہیں بیٹھ کر ختم کی۔
اس مکان نما گھر میں کیشوری کے ہمراہ اس کی بوڑھی والدہ اور ادھیڑ عمر تایا رہا کرتا تھا۔ کیشی کا زیادہ تر وقت سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ چھت پر بھی گزرتاتھا ۔ بچپن میں بنایا گیا گڑیا گھر آج تک موجود تھا جو اس نے صحن کے جنگلے کی آڑمیں بنایا تھا۔ گڑیا گھر کی گڑیا کو جوان ہوئے بھی اب چند سال بیت چکے تھے لیکن وہ گڑیا گھر ابھی تک موجود تھا ۔جب وہ میٹرک کی طالبہ تھی تو اسی چوبارے کے گلی کی طرف والے چھجے پر گرمیوں کی دوپہروں کو سلیم سے محبتوں کا آغاز ہوا۔ سلیم اس کے سامنے والے گھر کا مکیں تھا۔ لیکن اس کا بالائی کمرہ تھوڑا ایک طرف تھا۔ لیکن یہ فاصلہ ان کی محبتوں میں حائل نہ ہو سکا۔ کاسنی رنگ کا خوبصورت سوٹ سلیم نے کیشوری کو اسی ہوائی راستے سے ہی پھینکا تھا۔ رات کی رانی کا عطر بھی کیشی نے سلیم کی طرف اسی طرح ہی ارسال کیا تھا۔ رات کی رانی کا پھول شروع سے ہی کیشوری کو پسند تھا۔ اس پھول کے چندایک پودے اس نے اپنے گھر میں بھی لگا رکھے تھے۔ جب سلیم کو کیشی کی پسند کا پتہ چلا تو اس نے رات کی رانی کے پودوں کی پوری کیاری گھر میں بنا ڈالی۔ سلیم کی والدہ ایک توہم پسند خاتون تھیں۔ انہوں نے بارہا سلیم کو یاد دہانی کرائی کہ رات کی رانی کے پھولوں کی خوشبو ناگ کو مرغوب ہوتی ہے۔ لیکن ایک ناگن کی خاطر اس نے ناگ کا خطرہ مول لے لیا تھا۔ نامہ بری کے لیئے کبوتروں کی ضرورت نہ پڑی کیونکہ محبت نامے کنکرمیں لپیٹ کر با آسانی ادھر سے اُدھر پھینکے جا سکتے تھے اور کنکریوں کی کمی نہ اِدھر تھی نہ اُدھر۔ کیشوری کو یاد تھا کہ سلیم نے جو پہلا رقعہ پھینکا تھاوہ ایک بڑی سی سرخ رنگ کی کیل میں لپیٹا ہوا تھا۔ کیشی نے کتنا ہی عرصہ وہ سرخ کیل اپنے پاس سنبھال کے رکھ چھوڑی تھی۔ بعد میں اس نے امی اور تایا کی غیر موجودگی میں سیڑھیوں کا پاس دیوار میں لگا دی تھی۔ معمولی سی کیل ہونے کے ناطے کسی اس کی موجودگی کو محسوس ہی نہ کیا۔ لیکن اس کی موجودگی کیشی کے لیئے بہت خوشی اور طمانیت کا باعث بنی رہی تھی۔
زمانہ گزرتا گیا۔ ہر طرف تبدیلیوں کی ہوا چل رہی تھی ۔ بازار کی رونقیں بڑھ چکی تھیں۔ دوکانوں کے نرخ اور کرائے بڑھے تو ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ بازار میں جو اکا دکا مکان زمانے کی خرد برد سے اب تک بچے ہوئے تھے گرا دیئے گئے اور ان کی جگہ دوکانیں اور مارکیٹیں بنا دی گئیں۔ دوکانوں کی منزلوں میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ بازار نہ صرف آگے پیچھے بڑھ رہا تھا بلکہ دائیں بائیں کی گلیاں بھی اب چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی تھیں۔ کیشوری کی گلی کے نکر کے دو مکان گر ا کر ایک بڑیمارکیٹ کی شکل دھار چکے تھے۔ اس گلی کے غریب مکینوں کو اپنے دن پھرنے کی امید دکھائی دینے لگی ۔ جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے دلالوں کے چکر لگنا شروع ہو گئے۔ پانچ سالوں میں آدھے سے زیادہ مکان گر کر لش پَش کرتی دوکانوں کی شکل دھار چکے تھے۔ ایک پرانی حویلی جو دو کنال رقبے پر محیط تھی کو گرا کر موبائل کمپنی کا کھمبا کھڑا کر دیا گیا تھا۔ اونچ نیچ پر مشتمل گلی پختہ ہو چکی تھی۔ رات کے وقت بھی سٹریٹ لائٹس گلی کو منور رکھتیں۔ دس سال گزرے تو تمام گلی ایک مارکیٹ بن چکی تھی۔ گلی کے وسط میں صرف ایک مکان اپنی شانِ دیرینہ کے ہمراہ بڑھاپے کی بُکل اوڑھے آخری سانس لے رہا تھا۔
سلیم کا مکان ایک پرائیویٹ بنک میں تبدیل ہو گیا تھا۔ سلیم بی اے کرنے کے بعد اپنی گلی، شہر اور غیر فطری محبت کو ہمیشہ کے لیئے الوداع کہہ کر ملک کے ایک بہت بڑے شہر میں آ گیا تھا جہاں اس نے انگریزی ادب میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی تھی۔ جب اس کو اندازہ ہوا کہ ایک مسلمان کی شادی ہندو لڑکی سے نہیں ہو سکتی تو اس نے آہستہ آہستہ رومانوی لبادہ اتارنا شروع کر دیا ۔ دل و دماغ میں جنگ کافی عرصہ جاری رہی لیکن بالآخرذہن جیت گیا اور دل کو شکست ہو گئی۔اس نے مہنگے داموں اپنا آبائی گھر فروخت کر کے ایک کامیاب زندگی شروع کر دی تھی۔
کیشوری کا تایا کب کا مکان فروخت کر دیتا اگر کیشوری اور اس کی ضیعف ماں اس کی راہ میں حائل نہ ہوتیں۔ جب اس گلی میں کوئی مکان فروخت ہوتا یا اس کو گرا کر دوکان یا مارکیٹ بنائی جاتی تو اس کی پرانی ضد میں اور اضافہ ہو جاتا۔ کیشوری کو اپنے پرانے مکان سے محبت تھی۔ اس کی نمدار فضا ، نیم روشن کمرے، سایہ دار صحن اور خاموش بالا خانہ اور چھت، تمام ہی کیشوری کی رگ و جاں میں سرایت کر گئے تھے۔ وہ گڑیا گھر کے پاس بیٹھ کر اپنے بے رنگ اور خاموش بچپنے کو یاد کرتی۔ کبھی کبھی وہ چوبارے کے چجھے میں کھڑی ہو کر چشمِ تصورمیں سلیم کو اپنے سامنے دیکھنا شروع کر دیتی۔ وہ سلیم کا تحفہ میں دیا گیا ہلکے کاسنی رنگ کا سوٹ پہن کر اپنے کو سلیم کی دلہن تصور کرتے ہوئے شرمانے لگتی اور گلی میں دور دور نگاہیں دوڑاتی ہوئی اپنے محبوب کے سراپا کا نظارہ کرنے کی بیکار کوشش کرتی رہتی۔جب اس کی نظر سامنے بنک کی آراستہ پیراستہ عمارت پر پڑتی تو اس کو احساسِ تنہائی کاٹنے لگ جاتا۔ کیا اس پر شور گلی اور بھری دنیا میں اس کا اپنا کوئی بھی نہیں۔ کیا میں اس وجہ سے کبھی نہیں بیاہی جاؤں گی کہ میں ہندو ہوں اور اس شہر میں اور کوئی ہندو نہیں؟ کیا مجھے ہاتھ پیلے کرانے کے لیئے اپنے اس مکان، گلی ، شہر اور ملک کی قربانی دیتا پڑے گی؟ نہیں یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ ایک چیز کے حصول کے لیئے اتنی چیزوں کی قربانی دل تو کیا دماغ بھی دینا گوارہ نہیں کرتا۔



تایا نے نئی آبادی ماڈل ٹاؤن میں دس مرلوں کامکان لے لیا۔ اب ان کا اسرار بڑھتے بڑھتے جھگڑوں کی سرحدوں کو چھونے لگا۔ چن دن تو ماں بیٹی نے مقابلہ کیا لیکن آخر کب تک۔ بازار میں رہائش اب ویسے بھی مشکل ہو چلی تھی۔ نہ کوئی ہمسایہ رہا تھا نہ سنگی ساتھی۔ رات کے وقت سوائے چوکیدار کی سیٹیوں کے کسی انسان کی آواز تک سنائی نہ دیتی تھی۔ کیشوری کو پتہ لگ چکا تھا کہ اُس سے یہ جنم بھومی چھین لی جائے گی۔ جِس دن اُن کو مکان سے رخصت ہونا تھاوہ شدید گرمیوں کا ایک رومانوی دن تھا۔ صبح سویرے تیز آندھی نے اُن کو اٹھا دیا۔ تھوڑی دیر بعد سیاہ بادلوں کے گچھے ہواؤں میں منڈلانے لگے۔ کبھی کبھی بارش کے سرد چھینٹے گرنا شروع ہو جاتے۔ سامان باندھا جا رہا تھا۔ کیشی ہمیشی کی طرح سنجیدہ اور بے جزبہ دکھائی دے رہی تھی۔ جب ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں تو کیشی آخری بار چھت پر گئی۔ جھکی اور ڈھلکتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ سیڑھی کے بارہ قدم آج اُسے کو بہت طویل لگے۔ اب وہ بڑی ہو چکی تھی اور باآسانی ایک قدم کے ساتھ سیڑھی کے دو دو قدمچے پھلانگ سکتی تھی۔ نیچے سے نواں قدمچہ اُس نے پھلانگ کر عبور کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ وہ بہت زور سے گری تھی۔ منہ کے بل گرنے ہوئے اُس کی سانولی پیشانی وہاں پڑے ہوئے ایک نوکیلے پتھر سے ٹکرا گئی اور سانولے چمڑے میں سے سرخ خونی چشمہ بہہ نکلا اور جلد ہی اس کی سیا زلفوں کو بھی رنگین کر گیا۔ کافی دیر تک وہ اوپر سے نیچے کی طرف والے تیسرے سٹیپ پر بے ہوش پڑی رہی۔ قدمچہ خون کی پتلی سی گرم دھار سے سرخ ہو رہا تھا۔ کافی دیر کے بعد جب اسے کچھ ہوش آیا تو آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی اُوپر کھسکنے لگی۔چھت پر پہنچتے ہی اُسے کی ساری تکلیف رفع ہو چکی تھی۔ اینٹوں کا بنا ہوا گڑیا کا کمزور سا گھر اپنی موجودگی کا ثبوت فراہم کر رہا تھا۔ پھیکی پھیکی اینٹیں اب شاید نیلی پیلی گڑیوں کی رنگین داستانیں فراموش کر بیٹھیں تھیں۔ کیشی کی ہلکی سی ٹھوکر سے وہ گڑیا گھر زمین بوس ہو گیا۔ کیشی اب خالی چوبارے میں کھڑی تھی۔ چاروں طرف پرانی کھڑکیوں کے پَٹ کھلے ہوئے تھے۔ آسمان پر بادل گھنے ہو گئے تھے۔ تیز ہوائیں ان کھڑکیوں کو زوردار آواز کے ساتھ ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ پہلے ہلکی سی بھی ہوا چلتی تو ان کھڑکیوں کی حفاظت کے لیئے ان کو بند کر دیا جاتا لیکن آج ان کی حفاظت بے معنی تھی۔ چوبارے کے سامنے باہر کے طرف والا چھجا بھی شکستگی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ اس چھجے کا گلی کی طرف والا جنگلا انتہائی بوسیدہ ہو چکا تھا۔ اچانک اس کو رات کی رانی کی بھینی بھینی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ عجیب بات تھی کہ رات کی رانی کی خوشبو دن کو کیسے آ گئی اور اب تو یہاں پر کوئی رات کی رانی کا پودا بھی نہیں تھا۔ اس کے نگاہوں کے سامنے بنک کی نئی نکور عمارت کی چھت ایئر کنڈیشنروں کے آؤٹریونٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ شکستہ چھجا آج بہت اجنبی اور کمزور محسوس ہو رہا تھا۔ اتنا کمزور کہ کیشی کا بوجھ بھی برداشت کرنے ستے عاری تھا اور تھوڑی ہی دیر میں اس نے چرچرانا شروع کر دیا۔ کیشی چوبارے سے ہوتی ہوئی چھت کے صحن میں آ گئی۔ چن ایک سبز کچور پتے تیز ہواؤں میں اِدھر اُدھر لڑھک رہے تھے۔بارش برسنا شروع ہو گئی تھی۔ کیشی تیزی سے نیچے اُتری۔ ایک دفعہ پھر اُوپر سے نیچے آتے ہوئے اُس نے تیسرا قدمچہ پھلانگ کر عبور کیا۔ سامان کی گٹھڑیاں پیک ہو چکی تھیں۔ کیشی بوڑھے پیپل کی اوٹ میں بارش سے بچنےکی کوشش کر رہی تھی۔ چشمِ تصور میں اُس نے اپنے گھر کا چند دِن بعد کا منظر دیکھنا شروع کر دیا۔ دو بڑوں کمرے جن کو 60 واٹ کے بلب اور تاریک کر دیتے تھے کی جگہ مارکیٹ کی بڑی بڑی کپڑوں کی دوکانیں ان گنت روشنیوں سے منور ہیں۔ رسوئی کی جگہ جیولر کی چھوٹی سی دوکان ہے جس کے چھوٹے چھوٹے شو کیسوں میں سونے کے چمکدار زیور اِس جگہ کی سابقہ تاریکیوں پر ہنس رہے ہیں۔ چھتناور پیپل کو گرا دیا گیا ہے۔ جہاں اس کا تنا ہوا کرتا تھا ایک موٹا سے باوردی چوکیدار اپنی پرانی زنگ آلود بندوق کندھے پر لٹکائے کرسی پر بیٹھا اونگھ رہا ہے۔ رسوئی کے پیچھے پیپل کے نیچے جہاں کبھی خاموش سیڑھیاں ہوا کرتی تھیں کی جگہ دو سنگِ مَر مَر سے مزین واش روم بنا دیئے گئے ہیں۔ جہاں کبھی اندھیرے ، خاموشی اور اداسی کا بسیرا تھا وہاں اب رنگ و نُور کی بارش برس رہی ہے۔ وہ جگہ جو کبھی لوگوں اور آوازوں کو ترستی تھی آج پرشور ہنگامے کا منظر پیش کر رہی ہے۔
اچانک گلی کا دروازہ کھلتا ہے اور تایا چِک اٹھا کر جلدی جلدی اندر داخل ہوتا ہے۔ کیشی تصورات کی دنیا سے حقیقت کے جہاں میں واپس لوٹ آتی ہے۔ سامان اٹھانے کے لیئے ٹریکٹر ٹرالی آ چکی ہے۔ ٹریکٹر کے عقب میں ایک آٹو رکشہ بھی کھڑا ہوا جس میں امی اور میں نے اپنے نئے مکان میں جانا ہے۔
بارش رُک چکی ہے۔ کچی مٹی کے ساتھ ساتھ پیپل اور توت کے سبز پتوں کی بھینی بھینی خوشبو کچے مکان میں پھیل چکی ہے۔ اندھے کمرے گونگے مکینوں کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ گلی میں مقیم آخری ہندو اپنے مکان سے نکل رہے ہیں۔ پوری گلی پر مومنوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*