ڈر لگتا ہے

طرحی غزل

 کیا کہیں عشق کے انجام سے ڈر لگتا ہے
‘ کام اچھا ہے پر اس کام سے ڈر لگتا ہے’

جانتے ہیں کہ ہمیں ڈوبنا ہو گا آخر
ہم سے سورج کو کہاں شام سے ڈر لگتا ہے

یہ وطیرہ بھی مروت نے سکھایا ہے ہمیں
خود تراشے ہوئے اصنام سے ڈر لگتا ہے

ورنہ کیا ہے کہ کوئی دشت روا ہے ہم کو
بس مسافت ترے آلام سے ڈر لگتا ہے

بات اتنی ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
ورنہ کب تلخئ ایام سے ڈر لگتا ہے

ہم جو بدنام ہیں یہ بوجھ اٹھائیں کیسے
خود سے منسوب کسی نام سے ڈر لگتا ہے

لوگ آنکھوں پہ گماں اوڑھ کے چلتے ہیں یہاں
ہم کو اس شہر کے اوہام سے ڈر لگتا ہے

گھورتی رہتی ہیں دیواروں کی آنکھیں شاہ جی
اب تو گھر کے بھی در و بام سے ڈر لگتا ہے

شعیب بخاری








Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*