مُعاشرتی اِصلاح

ھم
اپنے آس پاس بوڑھے افراد کو عموماً ایسے دیکھتے ھیں جیسے وہ بے معنی سی چیزیں ھوں،
نہ اُن کے پاس بیٹھنا پسند کرتے ھیں
نہ اُن سے بات کرنا
یا اُن کی کہی بات کو کچھ خاص اھمیت دیتے ھیں
ایسا یا تو ھم سب نے کِیا ھو گا
یا ھم سب کے آس پاس ضرور ھوتا ھو گا،
بوڑھا ھونا نہ تو کوئی جُرم ھے اور نہ ھی انوکھی بات،
کیونکہ بوڑھے بھی تو کبھی جوان و توانا تھے، اور ھم جو آج جوان و توانا ھیں، یقیناً ھمیں بھی بوڑھا ھونا ھے۔

اپنے آس پاس موجود، راہ چلتے،
کہیں بیٹھے،
اپنے
بیگانے
بوڑھوں کو اپنائیت دیجئے،
جو یقیناً توجہ کے طلبگار ھیں،

اور آخِر میں واصِف علی واصِف کی خوبصورت بات یاد آگئی کہ
*جو قدیم ھیں وہ کبھی جدید تھے، اور جو جدید ھیں وہ کبھی قدیم ھوں گے*

بُوڑھوں سے پیار کیجئے
کیونکہ
کل اسی پیار اور توجہ کو اللہ نہ کرے کہ ھمیں بھی ترسنا پڑے۔

*اِقبال اَحمد پَسوال*




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*