ذکر اللہ کی فضیلت واہمیت

مولانا رضوان اللہ پشاوری

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ دل دو چیزوں( غفلت اور گناہ) سے زنگ پکڑتا ہے اور دو چیزوں(استغفار اور ذکر الٰہی ) سے ہی زنگ دور کیا جا سکتا اور اسی کے ذریعہ سے دل کو روشن کیا جا سکتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ذکر الٰہی کے لیے کوئی قوم جب اور جہاں بیٹھتی ہے تو ملائکہ ان پر گھیرا ڈال لیتے ہیں اللہ کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا اپنی مجلس میں تذکرہ فرماتے ہیں ۔(صحیح مسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے ۔ایک روایت صحیحین میں ہے جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں:میں اپنے بندے کے ظن کے مطابق اس سے معاملہ کرتا ہوں جب مجھے یاد کرتا ہے میں علم کے لحاظ سے اس کے پاس ہوتا ہوں اگر مجھے دل میں یاد کرے تو میں دل میں اسے یاد کرتا ہوں مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں ۔ میری طرف بالشت آئے تو میں ہاتھ برابر آتا ہوں ۔ ہاتھ بھر آئے تو میں دو ہاتھ برابر قریب آتا ہوں چل کر آئے تو میں دوڑ کر آتا ہوں ۔(صحیحین)
ترمذی شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا قیل یا رسول اللہ وما ریاض الجنۃ قال حلق الذکر جب تم جنت کے باغات سے گزرو تو وہاں سے کچھ کھایا کرو ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے استفسار کیا جنت کے کونسے سے باغات ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر الٰہی کے حلقے ۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے مرفوعا حدیث ذکر فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : ہر شئے کیلئے صیقل ہے دلوں کی صیقل ذکر الٰہی ہے ۔ عذاب الٰہی سے بچانے کیلئے انسان کیلئے ذکر الٰہی سے زیادہ کوئی چیز بہتر نہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا جہاد فی سبیل اللہ سے بھی ؟ فرمایا خواہ تلوار مارتے مارتے خود ہی شہید و پرزہ پرزہ کیوں نہ ہو جائے ۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے پاس جانے کا اتفاق ہوا آپ نے نماز فجر ادا کی پھر وہیں بیٹھ گئے تقریبا دوپہر تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے ذکر سے فارغ ہو کر میری طرف التفاف فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں یہ تو میرا ناشتہ ہے اگر یہ ناشتہ نہ کروں تو یقینا میری قوت سلب ہو جائے ۔ (ذکر الٰہی حافظ ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہیبت و جلال الٰہی سے جو تم اس کی تہلیل و تکبیر اور تحمید کرتے ہو وہ اللہ کے عرش کے گردونواح گھومنے لگ جاتا ہے اور شہد کی مکھیوں کی طرح آواز کرتی ہیں اور اپنے فاعل کو یاد کرتی ہیں کیا تمہیں پسند نہیں کہ تمہیں بھی کوئی چیز عرش الٰہی کے پاس یاد کرے اور تمہارا تذکرہ کرے ؟( مسند امام احمد )
ذکر الٰہی سے اللہ جل شانہ ذاکر کیلئے جنت میں درخت لگا دیتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے اے محمد میری طرف سے اپنی امت کو سلام دینا اور کہنا جنت کی زمین بھی نہایت اعلیٰ ہے اور اس کا پانی بھی میٹھا ہے اور بے نمکین ہے ۔ مگر وہ صاف چٹیل میدان اور اس کے پودے ہیں سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ اللہ اکبر( ترمذی)
ذکر الٰہی سے جو انعامات حاصل ہوتے ہیں وہ دیگر اعمال سے نہیں ہوتے ۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص روزانہ سو مرتبہ’’ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی قدیر‘‘پڑھے اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور صبح سے شام تک وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے اعمال سے بڑھ کر کسی کا عمل افضل نہیں ہوتا الا یہ کہ اس سے بڑھ کر کوئی عمل کرے ۔ اور جو شخص دن میں سو مرتبہ ’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ کہے اس کے تمام گناہ خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں معاف ہو جاتے ہیں ۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی مثال ہے ۔ذکر الٰہی سے انحراف اپنے نفس پر ظلم کرنے کے مترادف ہے ، قرآن حکیم میں ارشاد ہے :وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنسٰہُم اَنفُسَہُم اُلٰئکَ ھُمُ الفٰسِقُونَ( حشر ) اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اللہ( کے احکام) کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے غافل کر دیا اور ایسے ہی لوگ نافرمان (فاسق) ہوتے ہیں ۔
جو لوگ ذکر الٰہی سے اعراض اور انحراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی معیشت کو تنگ کر دیتا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے : وَمَن اَعرَضَ عَن ذِکرِی فَاِنَّ لَہ مَعِیشَۃً ضَنکًا وَّنَحشُرُہ یَومَ القِیٰمَۃِ اَعمٰیo قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرتَنِی اَعمٰی وَقَد کُنتُ بَصِیرًا oقَالَ کَذٰلِکَ اَتَتکَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیتَہَا وَکَذٰلِکَ الیَومَ تُنسٰی(طہ) اور( ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی اور ہم اسے روز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے ۔وہ کہے گا یا الٰہی مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو دیکھتا تھا ۔( جو اب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہئیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے۔اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ قلق و اضطراب ، بے چینی اور بے کلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں ۔ اس تنگ زندگی کی عذاب برزخ سے بھی تفسیر کی گئی ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ دینوی معیشت کو بھی شامل ہے اور برزخی حالت کو بھی ۔ کیونکہ برزخی حالت میں انسان دنیا و برزخ دونوں جہان کی تکلیف برداشت کرتا ہے اور آخرت میں بھی عذاب میں ڈال کر فراموش کیا جائے گا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا ذکرکرتے تھے ۔( بخاری کتاب الاذان )
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذکر الٰہی کیلئے کوئی مقرر نہیں ذکر کرنے والا جب جس وقت اور جس حالت میں چاہے اللہ کا ذکر کر سکتا ہے ۔عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے احکام کی مجھ پر کثرت ہو چکی ہے ، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی (آسان سی)چیز بتا دیں جس پر میں عمل کرتا رہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہئیے ۔( ابن ماجہ)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور افضل دعا الحمد للہ ہے ۔( ابن ماجہ )کلمہ توحید کا ورد تمام اذکار سے بہتر ہے اور الحمد للہ کا ورد تمام دعاؤ ں سے بہتر ہے اس لیے کہ یہ دونوں کلمے اللہ تعالیٰ کی توحید اور تحمید پر مشتمل ہیں ۔ بعض حضرات کلمہ افضل الذکر لا الہ الا اللہ میں محمد رسول اللہ کا اضافہ بھی کرتے ہیں جو کسی حدیث سے ثابت نہیں ، نہ ہی مذکورہ حدیث میں اس کا ذکر ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو قوم اللہ کا ذکر کرتی ہے تو فرشتے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکونت نازل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ( بطور فخر) ان کا تذکرہ اپنے فرشتوں سے کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں ۔( مسلم کتاب الذکر والدعائ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو لوگ اپنی مجلس میں اللہ کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو ایسی مجلس باعث حسرت اور نقصان دہ ہوتی ہیں ،اللہ اگر چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے ۔( مسند احمد)
اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ہمیں ہر ، لمحہ ہر موڑ پر ذکر الٰہی کا ہی درس دیا ہے ۔ گھر سے نکلیں تو دعا بازار جائیں تو دعا ، سواری پر سوار ہوں تو دعا، شہر میں داخل ہوں تو دعا ، پانی پئیں تو دعا ، کھانا کھانے سے فارغ ہوں تو دعا ، مسجد میں داخل ہوں تو دعا اور نماز تو دعاؤ ں کا مجموعہ ہے ۔ مسجد سے باہر نکلیں تو دعا لباس پہنیں تو دعا ، الغرض جملہ عروسی میں جانے کی دعا ۔ دین اسلام نے انسان کو کسی بھی موڑ پر بے رہبر و نہیں چھوڑا ہر مقام پر ذکر الٰہی کی تلقین کی ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہئیے ہم ہمہ وقت ذکر الٰہی میں مشغول و مصروف رہیں اسی میں کامیابی ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین بجاہ سید المرسلین)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*