کنویں کی موت۔۔۔

 تحریر وقار احمد ملک

گمشدہ خوابوں سے میری محبت لافانی ہے۔ یہ خواب مالی منفعت سے ماوراکسی اور ہی دنیا کے واقعات محسوس ہوتے ہیں۔ جب زمانہٗ موجود کی ہلچل اور مشینی مصروفیات مجھے ستاتی ہیں تو میں ماضی کی حسین یادوں میں کھو کر اپنی درماندہ روح کو اس کی مرغوب غذا مہیا کر دیتا ہوں۔ آج یادوں کی کھڑکی سے مجھے جو منظر دکھ رہا ہے وہ ہمارے گاؤں کی حویلی کے آنگن کے کنویں کا منظر ہے۔ حسبِ معمول اور حسبِ دستورپورے محلے کی عورتیں اپنے پانی کے برتنوں کے ساتھ بوڑھے بیر کے درخت کے نیچے کنویں کے پاس اپنی اپنی باری کی منتظر ہیں۔ کچھ پیتل کے برتن رکھتی ہیں تو چند ایک کے پاس سلور کی صراحیاں ہیں لیکن اکثریت کے پاس مٹی کے گھڑے ہیں ۔ کنویں کے قریب کچھ عورتیں جن کی باری آ چکی ہے وہ نہایت چابکدستی سے کنویں کی چرخی کو گھما کر پانی نکال رہی ہیں۔ کنویں میں موجود رسی سے لٹکتا ہوا بڑا سا ڈول اٹھک بیٹھک کر رہا ہے۔ جو عورتیں پانی بھر لیتی ہے وہ برتن کو بازو میں دبائے یا سر پر اٹھائے گھر کو روانہ ہو جاتی ہے۔ کوئی جاتی ہے تو کوئی اور آ جاتی ہے اس طرح کنویں کے رونق پورا دن برقرار رہتی ہے۔
جب کبھی کوئی مہمان آتا تو کنویں کے ٹھنڈے یخ پانی میں گھر کی لسی ملا کر اس کو پیش کی جاتی۔ گھڑونچی کے گھڑوں کا کام پانی کو ٹھنڈا کرنا نہ ہوتا تھا بلکہ اس کی ٹھنڈک کو برقرار رکھنا ہوتا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹھنڈک سردیوں میں ختم ہو جاتی اور پانی جب باہر نکالا جاتا تو اس میں سے آبی بخارات نکلتے ہوئے محسوس ہوتے۔
سردیوں کی طویل راتوں کو کنویں کے قریب کوئی نہ جاتا تھا۔ کنویں والا گوشہ بھاری سمجھا جاتا تھا۔ اکثر آدھی راتوں کو وہاں سے کسی پراسرار پرندے کی چیخیں سنائی دیتیں۔ان آوازوں کے ساتھ گلی کے کتے بھی بھونکنا شروع کر دیتے۔ جب میں کھڑکی سے منہ نکال کر اس خاموش، سنسان اور انتہائی اندھیرے گوشے کی طرف دیکھتا توچشمِ تصور میں سفنکس اور اس کے بچے رقص کناں دکھائی دیتے۔سفنکس سونے کے مشکیزے میں سے پانی نکال نکال کر خود بھی نہا رہی ہوتی اور اپنی بچوں کو بھی نہلوا رہی ہوتی۔ خوف کی ایک سرد سنسنی میرے وجود پر طاری ہو جاتی اور میں کھٹاک سے کھڑکی بند کر دیتا۔



کنویں کا پانی اتنا گہرا تھا کہ پانی کی صرف چمک دکھائی دیتی تھی۔کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ کوئی پرندہ خاص کر چڑیا یا کبوتر کنویں میں گر جاتا۔ چاچا عطا جس کو عرفِ عام میں چاچا عطو کہا جاتا تھا اسی وقت مولوی صاحب کے پاس جاتا اور مسئلہ پوچھ لاتا۔ چاچا عطو تمام عورتوں کے سامنے جو فیصلے اور مسئلے کی منظر ہوتی تھیں بڑے فخریہ لہجے میں آ کر اعلان کرتا \’\’اگر پرندے کا مردہ جسم صحیح سلامت تھا تو چند بوکیاں اور اگر گل سڑ چکا تھا تو پورا کنواں خالی کرنا ہو گا\’\’۔ میں بتانا بھول گیا کہ پانی کے ڈول کو ہماری زبان میں \’\’ بوکی\’\’ کہا جاتا تھا۔ بعض دفعہ یہ بوکی رسی سے ٹوٹ کر پانی میں جا گرتی۔ بوکی کا ٹوٹ جانا اس دور میں ایک بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا تھا کیونکہ پورا محلہ زندگی کی بنیادی ضرورت یعنی پانی سے محروم ہو جاتا تھا۔ کیا زمانہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں بوکی کا ٹوٹ جانا ہی مسئلہ عظیم سمجھا جاتا تھا۔ آج کے مسائل سےموازنہ کریں تو ماضی کے اس مسئلے میں بھی رومانویت دکھتی ہے۔ اس وقت پھر چاچے عطو کو تکلیف دی جاتی جو اس تکلیف کو بھی اعزاز سمجھتا تھا۔ مضبوط سی رسی لے کر کنویں کی چرخی پر لپیٹ دی جاتی اور اس کے ساتھ کپڑے دھونے والا سوٹا باندھ دیا جاتا۔اس ڈیوائس کو گھم ٹٹو کہا جاتا تھا۔ چاچا عطو رسی کو پکڑ کی گھم ٹٹو پر ایک ٹانگ ادھر اور دوسری ٹانگ ادھر کر کے بیٹھ جاتا۔ چرخی کو اب کے آہستہ آہستہ نیچے اتارا جاتا۔ جب چاچاکے پاؤں پانی کی سطح سے چھو جاتے تو چرخی کی گردش کو روک دیا جاتا۔ پانی بہت گہرائی میں ہوا کرتا تھا اس لیئے ہم کو نہیں معلوم کہ چاچا کیسے بوکی کو اٹھاتا اور سنبھالتا۔ پھر چاچا کنویں کی گہرائیوں سے ایک چیخ مارتا جس کی کئی گونجیں دیر تک سماعت سے ٹکراتی رہتیں۔ یہ مخصوص چیخ اس بات کی غمازی کر رہی ہوتی کہ میں اپنا کام مکمل کر چکا ہوں اور اب رسی کو باہر کھڑے ہوئے لوگ واپس کھینچ لیں۔ ایک مرتبہ باہر کھڑے ہوئے لوگوں نے جان بوجھ کر رسی کو کھینچنے میں دیر کر دی۔ چاچا عطو نے چیخوں کا وہ سلسلہ بلند کیا کہ دور موری والے کوٹھے میں بیٹھی دادی اماں سوٹی ٹیکتی ٹیکتی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ جب ان کو صورتِ احوال کا پتہ چلا تو انہوں نے باہر کھڑے مردوں کو وہ صلواتیں سنائیں کہ خدا کی پناہ۔ یاد رہے کہ چاچا عطو کا شمار دادی اماں کی سب سے پیاری اولاد میں ہوتا تھا۔
چاچا عطو کا تزکرہ ہو رہا ہے تو چند الفاظ اس طلسماتی اور ہر فن مولا ہستی کے بارے میں لکھنا لازم ہو جاتے ہیں۔ چاچا عطو دبلے پتلے جسم کا مالک ، لمبی پتلی داڑھی والا انتہائی مزاحیہ اور قصہ گو شخصیت ہوا کرتا تھا۔ میں جب کبھی شیخ چلی اور ملا نصیرالدین کی کہانیاں بچپن میں پڑھتا تو میری آنکھوں کے سامنے چاچے عطو کی شرارتیں آ جاتیں۔ چاچے کی شخصیت ایسی تھی جیسے شہاب کے بارے میں حفیظ جالندھری نے کہا تھا
جہاں کہیں انقلاب ہوتا ہے
وہاں قدرت اللہ شہاب ہوتا ہے



چاچا عطو کچھ نہیں کرتا تھا لیکن پھر بھی سارا کام وہی کرتا۔ ہماری گاؤں میں کریانے کی دوکان ہوا کرتی تھی جس پر ٹرک میں سرگودھا سے مال آتا تھا۔ جب ٹرک آتا تھا تو چاچا عطو چوتا باندھ کر مزدور بن جاتا اور تھوڑی دیر میں پورا ٹرک اتاردیتا۔ گرمیوں کی تپتی دوپہروں کو جو سار ا خاندان بیر کے درخت کے نیچے گزارتا تھاچاچا کے قصے طویل دوپہروں کی طوالت کو کم کر دیا کرتے۔ گاؤں کے چوہدری کا تو چاچے نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اس کے ساتھ سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے اچانک سب کے سامنے وہ بات کر جاتے جو ہمیشہ کے لیئے ایک یادگار پھبتی بن جاتی۔ جب پاکستان بنا تو چاچا اپنی جوانی کے عروج پر تھا۔ تقسیم سے قبل ہر رات شمال سے چھدرو اور اس کے ملحقہ علاقوں سے چند شرپسند لوگ گروہوں کے شکل میں ہمارے گاؤں پر حملہ آور ہوتے اور لوٹ مار کر کے فرار ہو جاتے۔ گرمیوں کے دن تھے۔ لٹیروں سے بچنے کے لیئے گاؤں والوں نے یوں اہتمام کیا کہ ہر گھر میں چھت پر کوئی ٹین کا ڈبا یا خالی پیپا رکھ دیا گیا۔ رات کو جب دور سے لٹیروں کے آنے کی آوازیںآنا شروع ہوتیں تو وہ پیپے بجانا شروع کر دیے جاتے۔ جس سے سار اگاؤں جاگ اٹھتا اور لٹیروں کو ناکام لوٹنا پڑتا۔ ہمارے گھر کی چھت پر بھی ایک بڑا سا گھی کا خالی کنستر رکھ دیا گیا اور حسبِ توقع اس کے بجانے کی ذمہ داری بھی چاچے عطو کے سپرد کر دی گئی۔ اکثر بغیر کھٹکے کے بھی وہ پیپا کھڑکانا شروع کر دیتے اور یوں ہی پورے گاؤں کو جگا دیتے۔ چند دنوں کے بعد ان کے اس شرارتی پن پر ان سے یہ عہدہ چھین کر کسی اور کو دے دیا گیا تھا۔
کنویں کی طرف واپس آتے ہیں۔ جب چاچے محمد بخش کی شادی ہوئی تو گھر میں جھنڈیاں لگانے کی بجائے کنویں کی چرخی پر گھنگھرو باندھ دیے گئے ۔ عورتیں جب پانی نکالتیں توگھنگھروؤں کے چھن چھن سے ایک سماں بندھ جاتا۔ محلے کے تمام بچے ان دنوں کنویں کے ارد گرد گھومتے رہے اور چھن چھن کی آوازوں سے محظوظ ہوتے رہے۔
کنویں کے بائیں طرف ملحقہ غسل خانہ ہوا کرتا تھا۔ کنویں اور غسل خانہ کی مشترکہ دیوار پراینٹوں کی مدد سے ایک چوکور چھوٹی سی ٹینکی بنا دی گئی تھی جس کا اوپری حصہ کھلا تھا۔ جس کسی نے نہانا ہوتا وہ پہلے دو تین یا چار ٹھنڈے ٹھار پانی کی بوکیاں اس ٹینکی میں ڈالتا ۔اس ٹینکی کو ٹونٹی کی جگہ ایک لکڑی سے بند کیا جاتا تھا۔اس غسل خانے میں لیئے گئے بچپن کے غسل یاد آتے ہیں تو شدید گرمیوں میں بھی جسم میں ٹھنڈک کے آثار گدگدیاں کرنے لگتے ہیں۔
ہمارے گاؤں میں کل تین کنویں اور ایک رہٹ ہوا کرتا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت کنویں کو \’\’ کھوئی \’\’ اور رہٹ کو \’\’\’ کھُو\’\’ کہا جاتا تھا۔ پر خلوص زمانہ تھا۔ جس کو رات کے وقت بھی پانی کی ضرورت پڑتی بلا خوف و خطر اور بغیر کسی رکاوٹ کے آ کر پانی بھر کے لے جاتا۔ گاؤں کے تین کنویں اگرچہ لوگوں کی ذاتی املاک تھیں لیکن کبھی کسی نے ان پر اپنی ملکیت نہیں جتائی تھی۔ یہ کنویں پورے گاؤں کے کنویں تھے۔ جن سے نہ صرف پینے کا پانی حاصل کیا جاتا تھا بلکہ جانوروں اور دوسری ضروریات کے لیئے بھی ۔
ہفتے میں ایک دفعہ کپڑے دھوئے جاتے تھے۔ جس روز کپڑے دھونے ہوتے چاچا عطو بھر پور فارم میں دکھائی دیتا۔ کنویں کے ساتھ کونے میں کھار چڑھائی جاتی جو کئی گھنٹے آگ پر چڑھی رہتی۔ پھر چاچا باری باری تمام مردوں کو کپڑے اتارنے کا کہتا۔ مرد باری باری دھوتی باندھتے اور شلوار قمیض اتار کر دے دیتے جو گھر کی عورتوں اس کھار پر دھو دیا کرتیں۔ ہر آدمی کا صرف ایک سوٹ ہوا کرتا جو وہ ہفتہ بھر پہنے رکھتا۔



پھر یوں ہوا کہ سائنس نے ترقی شروع کر دی۔ سائنس کی ابتدائی ترقی نلکوں کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ کنویں کی رونق دن بدن کم ہونا شروع ہو گئی۔ پھر جب 1962 میں بجلی آئی تو حصولِ آب کے وسیلے بھی بڑھ گئے۔ گھر گھر میں پانی کی موٹریں لگنا شروع ہو گئیں۔ کنویں نے تو ویران ہونا ہی تھا لوگوں کی ہماری حویلی میں آمدورفت بھی محدود ہو گئی۔ یہ ساری چہل پہل اور رونق کنویں کی وجہ سے تھی اس کا پتہ ہمیں بجلی کی آمد کے بعد ہوا۔ جب ہماری حویلی میں بجلی لگی تو کنواں بالکل بے یارومددگار ہو گیا۔ آخر وہ دن آیا جب چاچے عطو کو آخری مرتبہ گھم ٹٹو میں بٹھا کر کنویں میں اتارا گیا کہ وہ کئی دنوں سے پانی پر پڑی رسی سے ٹوٹی بوکی کو نکال لے۔ پانی کی بوکی کو اب کی بار چرخی کی رسی سے نہیں جو ڑا گیا بلکہ اس میں مٹی بھر بھر کی کنویں میں ڈلنے لگی۔ وہ لوگ جو کبھی ٹھنڈا ٹھار پانی لینے آیا کرتے ان کو کہا گیا کہ چند دنوں کے لیئے وہ گھر کا کوڑا کڑکٹ اس کنویں میں ڈالنے آجایا کریں کیونکہ اب اس فضول چیز کی کوئی افادیت نہیں بچی تھی۔ دو تین مہینوں کی تگ و دو کے بعد کنویں کا پیٹ گاؤں کے غلیظ کوڑے سے بھر دیا گیا۔ مٹھاس اور بدبودار کڑواہٹ کا تال میل ہوا۔ کنواں تو مر گیا تھا لیکن اس کی ایک مختصر سی بیرونی عمارت اور اس میں پیوستہ چرخی کے ساتھ ملحقہ غسل خانہ سالوں تک گزشتہ زمانے کی داستانیں سناتی رہیں۔ دو سال پہلے کنویں کے ان آخری آثار کو بھی گرا دیا گیا اور اس کی جگہ ایک گیراج بنا دیا گیا جہاں میرے چاچا زاد بھائیوں کی کالے رنگ کی چمک دار گاڑی کھڑی کی جاتی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*