کئ دنوں سے انتظار تھا

کئ دنوں سے انتظار تھا
دل بھی کچھ بیقرار تھا
سفر ہوا کیوں مشکل
راستہ تو ہموار تھا
منتقل ہورہی تھیں سانسیں
پھر جینا کیوں دشوار تھا
ان کے آنے کی نہیں کوئی امید
بے وجہ ہی انتظار تھا
سن کر دروازے کی دستک
دل دھڑکتا بار بار تھا
بزم سجائی خوابوں کی
اتنا تو ہمیں اختیار تھا
لفظ کھو گئے ہیں کہیں
بولنا تو بے شمار تھا
پڑھ رہا تھا وہ میری خاموشی
آنکھوں میں لفظوں کا انبار تھا
کیا کہتے اور کس سے کہتے
سننےکو بھی کوئی تو درکار تھا

سیدہ زرنین مسعود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*