نہیں جاتا

شعر دل میں اتر نہیں جاتا
مصرعہِ زخم  بھر نہیں جاتا

طاق راتوں میں جاگنے والا
جفت راتوں میں مر نہیں جاتا
میرے کمرے میں روشنی ہےبھلے
تیرگی کا اثر نہیں جاتا…..
دشت میں مارا مارا پھرتا ہے
عشق کیوں اپنے گھر نہیں جاتا
بیٹا ڈر سے نکلنا چاہتا ہے۔۔
ماں کے سینے سے ڈر نہیں جاتا
بوڑھے پیپل سے عشق ہے مجھ کو
اس لیے چھوڑ کر نہیں جاتا
عادتاً پیار سے مکرتا ہوں
فطرتاً میں مکر نہیں جاتا
روز حیدر پکارتا ہے کوئی
روز ملنے مگر نہیں جاتا
حیدر علی حیدر



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*