خط میں نے تیرے نام لکھا

ازطرف :میمونہ صدف

ہم نے صنم کو خط لکھا اور پاکستان پوسٹ کے ذریعے پوسٹ کر دیا .پھر ستاروں میں روشنی نہ رہی یا یوں کہیے کھوئے ایسے کہ پھر نہ ملے.

یہ واقعہ تب کا ہے جب ہماری پہلی کتاب .پلک بسیرا منظر عام پر آئی. ہم نے خوشی خوشی اپنی ایک دوست کو جو کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں فون کیا. محترمہ ایک شریف خاتون ہیں .اس لیے اگر انھیں آپی کہا جائے تو برا نہیں مناتی . لہذا ہم ادبا انھیں آپی کہہ کر بلایا کرتے ہیں . لیکن اس کامطلب ہر گز یہ نہ لیا جائے کہ وہ ایک عمر رسیدہ خاتون ہیں ورنہ ہماری جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں. خیر ہم نے اپنی آپی کو فون کیا اور خوشخبری سنائی کہ ہم بھی صاحب کتاب ہو گئے..

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں ہم ان کا پتہ لے کر قریبی ڈاک خانے پہنچ گئے .جہاں تین افراد پر مشتمل افراد کا عملہ بیٹھا تھا .یہ اندازہ لگا نا مشکل تھا کہ ڈاک خانہ کی عمارت زیادہ پرانی ہے یا پھرعملہ .خیر دونوں کی عمروں میں زیادہ فرق نہ تھا یا کم از کم ہمیں محسوس نہ ہوا- عمارت کی دیواروں میں جگہ جگہ پڑی دراڑیں اور چھتسے لٹکے جالے اس بات کے غماز تھے کہ یہاں مکڑیوں کی ایک ایسی سوسائٹی تعمیر کی جا چکی ہے جس کا بہبود آبادی کے ادارہ سے خاصا بیر ہے .ہم ابھی اسی غور وخوض میں مصروف تھے کہ عملہ میں سے ایک صاحب دھاڑے.

محترمہ کوئی کام تھا آپ کو.گویا انھیں ہمارا مکڑوں کو یوں گھورنا ایک آنکھ نہ بھایا تھا .

یہ کتاب ساہیوال بھجوانا ہے ..ہم نے گگھیاتے ہوئے کہا

ان تینیوں نے ایک دوسرے کی جانب پھر بیک وقت ہماری جانب دیکھا . باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کتاب آپی محترمہ کو بذریعہ ڈاک بھیجی جائے .بخدا اس کا مقصد پیسے بچانا ہرگزنہ تھا بلکہ ڈاک خانہ کے عملہ کی یقین دہانی تھا کہ آپ جیسے بھی ڈاک بھجوائیں وہ مطلوبہ جگہ تک ضرور پہنچے گی.

ایک پنتھ دو کاج کے مصادق ہم نے کتاب رجسٹری کی بجائے عام پوسٹ سے بھیج دی .ڈاک خانہ کی بوسیدہ عمارتمیں بسنے والی زندہ اور مردہ دنوں بدروحوں نے مسکراتے ہوئے ہمیں یوں دیکھا جیسےکوئی بھوکا شکار کو دیکھا کرتا ہے-خیر ہم نے ان نظروں کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے کتاب پوسٹ کی اور واپس ایسے لوٹے جیسے کوئی قلعہ فتح کر کے آئے ہوں .

اس واقعہ کے کم و بیش ایک ماہ بعد آپی کافون آیا فرمانے لگیں .اتنا عرصہ گزر گیا کیا تمھاری کتاب چیونٹی پر سوار ساہیوال پہنچ رہی ہے ..ہم حیران و پریشان کہ یہ کیا روح فرساء خبر سنائی گئی.

جب کچھ حواس بحال ہوئے تو بھاگم بھاگ ڈاکہ خانہ پینچے. میں نے ایک کتاب پوسٹ کی تھی .ساہیوال ..اس پتہ پر .ہم نے پوچھا .ڈاکہ خانہ کا عملہ تین سے دو ہو چکا تھا اور مکڑیاں پہلے زیادہ .

دیکھیے محترمہ آپ کے پاس ثبوت ہو تو پیش کیجئے..ان دو افراد میں سے جن کے چہرے پر کرختی کچھ کم تھی نے کھردرے لہجے میں کہا .

جی وہ تو….ہمیں یاد آیا کہ کسی نے ہمیں ثبوت دینے کی زحمت نہ کی تھی اور نہ ہم نے ثبوت لینے کی ..دیکھئے محترمہ ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے..آپ تشریف لے جائیے .دوسرے قدیم انسان نے ہمیں گھورتے ہوئے کہا ..ہم مرے ہوئے قدموں سے واپس لوٹتے ہوئے سوچ رہے تھے…..حسرت اس کتاب پر جو راہ میں کھو گئی…..




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*