کٹہرہ

کالم نویس؛ طیبہ عنصر مغل راولپنڈی

جیئے جناب ہم کٹہرے سمیت آپ کے سامنے حاضر  ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ نیا سال ان کے لئے بالکل ہی کچھ نیا لا رہا  ہے تو امید کامل ہے کہ ان کی یہ خوش فہمی اب تک ہوا ہو چکی ہو گی ۔ہندسہ بدلنے کے علاوہ سب کچھ وہی ہے جو پچھلے سال کی گرد میں ابھی دھندلا یا نہیں رات کو خوشخبری ملی کہ کرپشن میں 10%کمی آگئ ہے اب جانے یہ کمی کرپشن میں آئی ہے یا کرپٹ لوگوں میں وثوق سے کچھ کہنا قبل از وقت  ہوگا۔سکھر کا واقعہ بھی سب کے علم میں ہوگا ہڑتال کرکے لوگوں کی. جانوں سے کھیلنے والے ڈاکٹرز کو اپنی تنخواہ بڑھوانے کے چکر نے اتنا چکرا دیا ہے کہ وہ اپنی ڈاکٹری ہی کو بھلا بیٹھے ہیں ۔حد ہے کہ ایک اپینڈکس کا معمولی کہلانے والا آپریشن  ان کے لیے برین سرجری سے بھی پیچیدہ بن گیا اور یہ مائنر آپریشن اتنا بڑا آپریشن بن گیا کہ ایک آپریشن  سے پورے آٹھ آپریشن کر دیئے کیا کیا جائے ہمارے ڈاکٹرز کی اکثریت اتنی ذہین ہے کہ



وہ پیٹ کھول کے شاید دردمندی کے جذبے سے مغلوب ہو کر نظر آنیوالے امراض کے علاوہ شاید نہ نظر آنیوالے جملہ امراض کا بھی اسی وقت خاتمہ کرنے بیٹھ گئے ۔اب انہوں نے تو ہمدردی کی انتہا کردی بے چاروں نے ۔اب یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ خدانخواستہ اگلی بار جب وہ کسی ایمرجنسی میں آپریشن کروانے آتے تو حضرات ڈاکٹر صاحبان ہڑتالیاں مچا کے بیٹھے ہوتے تو پھرآپریشن چھوڑ ایک گولی بھی ملنا مشکل ہو جاتا ڈاکٹرز سےبھئ ڈاکوؤں سے نہیں ڈاکو تو ایک کی دس دے دیں لیکن دوسرے والی وہ ہڑتال بھی نہیں کرتے اس لئے واضح کیا جاتا ہے کہ ڈاکو اور ڈاکٹر میں قطعاً مماثلت تلاش نہیں کی جائے ۔ڈاکو اپنا کام پوری تندہی سے انجام دیتے ہیں جیسے تازہ ترین بریکنگ فیوز:انڈر پاس میں دو موٹر سائیکل والے ڈاکوؤں نے بڑی ذمہ داری سے گاڑی سے نکال کر لوٹ مار کی اور کسی مزاحمت کا سامنا نہ ہونے پہ ایک بھی گولی ضائع نہیں کی ۔ادھر ہمارے پیارے ڈاکٹر صاحبان نے ایک آپریشن کےخرچ میں آٹھ آپریشن کرکے رحمدلی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا اب یہ تو بھئ الله  تعالیٰ کے معاملات ہیں کہ اس نوجوان کی زندگی کااختتام لکھا تھا سو وہ غریب چل بسا اب اس میں ان ڈاکٹر صاحبان کاقصور تھوڑی تھا ان معصوموں نے تو اپنی تنخواہ سے بڑھ کے کوششیں کرڈالیں اب کون سا ملک ہے جہاں اپینڈکس کے آٹھ آپریشنز پہ وقت خرچ کیا جاتا ہو
آجکل کے ڈاکٹرز اتنی محنت سے تو ڈاکٹرز بنتے ہیں میرٹ کی کیا مجال جو کسی چھوٹی سی پرچی کے آگے چوں بھی کرے۔کمال کی بات کہ اب تو غور کریں تو اسی فیصد محکمے موروثی ہو گئے ہیں جیسے موروثی مرض ہوا کرتے تھے ٹی بی کا مرض۔شوگر کا مرض۔دل کا مرض۔تو میں کہہ رہی تھی اجی ہاں اب محکمہ جات بھی زیادہ تر موروثی لگتے ہیں ڈاکٹر کا بیٹا ہویا بیٹی ڈاکٹر۔سی ۔ایس۔ایس تو سوچئیے بھی مت کہ آپ کر لیں گے۔اجی آپ چپڑاسی ہیں تو ایم۔اے کروا لیں بچے کو امید واثق ہے کہ آپ کے بیٹے کو آپ کے والی جاب مل جائے ۔آنکھوں دیکھی بات ہے صاحبان! کہ میونسپل کمیٹی کے شعبے میں ایک تحصیل میں واٹرسپلائی کے شعبے ميں ایک انتہائی ضروری جاب کے لئے تقرر کیا جارہا تھا کام بہت آسان تھا کہ جاب کرنے والے کو شہر کے مختلف مقامات تک پانی سپلائی کرنے کا نظام ہی




چلانا تھا تنخواہ انتہائی قلیل تھی ۔اس وقت ہماری آنکھیں ابلنے کو آگئیں جب ایک بے حد نفیس نوجوان اندر داخل ہوا اور اپنی سی وی جو سرٹیفکیٹس سے بھر پور تھی اور ماسٹرز کی ڈگری نے تو ہماری انکھین چندھیا دیں باوجود دکھ کے آپ ہماری قیاس آرائی کی داد دیجئے کہ ہمیں یقین تھا کہ یہ نوکری تو بھیا یہ ماسٹز والا ماسٹر لے گیا لیکن ہم اور ہماری قیاس آرائیاں دھری رہ گئیں نوکری ایک مڈل پاس کو دے دی گئی کہ اس کی پرچی میرٹ پہ پوری اترتی تھی۔ماسٹرپاس لڑکا ایک کونے میں کھڑا آنسو پونچھ رہا تھا تو کیا ہوا اس نے ماسٹر کر رکھا ہے اس کو تو کوئی اور نوکری بھی مل جائے گی ۔اس کے پھٹے ہوئے جوتے بتا رہے تھے کہ وہ کتنی خواری کے بعد اس ادنیٰ سی نوکری پہ یہ یقین کے آیا ہوگا کہ یہ نوکری تو اسے مل جائے گی ۔لیکن موروثی نوکری تھی یہ بھی ۔وہ لڑکا جو سیلیکٹ ہوا اس کا باپ اس اہم نوکری سے ریٹائرڈ تھا پھر مڈل پاس کی شرط تھی اور وہ لڑکا عین مڈل پاس تھا بھئ۔اور اس کے ابا نے پرچی بھی بڑی جگہ یعنی صاحب کے گھر سے بنوا لی تھی ۔اب یہ تو ایم ۔اے کرنیوالے کو سوچ کے ایم۔اے کرناتھانا جی کہ تعلیم کی زیادتی بھی زیادتی کا سبب بن سکتی ہے آپ سب کو  لگتا ہے نیند آرہی ہے بھئ آپ بھی تو عادی ہوگئے ہیں مقررین کے دھواں دار کالمز کے ہماری ٹھنڈی باتیں ٹھنڈے موسم میں اچھی نیند تو دلوا سکتی ہیں سب کو۔آپ پڑھیں اب پاجامہ لیک کس کا ہوا۔اور کس نے اس کو سیا ۔ہم چلتے ہیں کسی بریکنگ فیوز کے لئے ۔الله نگہبان




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*