بازار کے شب و روز۔ ۔ ۔


تحریر۔۔ وقار ملک

پو پھٹتے ہی شب بھر سیٹیاں بجانے والے چوکیدار رخصت ہوتے ہیں تو گدھوں کی اپنی گاڑیوں کے ساتھ بازار میں آمد شروع ہو جاتی ہے۔چوکیدار وں کی تیکھی سیٹیوں کی جگی گدھوں کی پھیکی ہینگیں لے لیتی ہیں۔ریلوے سٹیشن کے قریب شب بھرکھلے رہنے والے ہوٹلوں سے ہٹ کر بازار میں سب سے پہلے کوہاٹیاں چوک پر موجودچائے کا ہوٹل کھلتا ہے۔ اس کے بعد ماما حلوے والے مرحوم کا بیٹا اسماعیل سبزی منڈی چوک کے قریب کالا باغی حلوے کی ننھی سی ریڑھی لے کر آموجود ہوتا ہے۔اسماعیل کی بھاپ اڑاتی گرما گرم حلوے کی پراتیں ان دوکانداروں اور گاہکوں کے لیئے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جو ڈائیٹنگ کے نام پر گھر سے کچھ کھائے بغیر بازار آجاتے ہیں۔ چند منٹوں میں بازار کی رونق رات کی سنسانی کے برعکس عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ ابھی دوکانیں کھولی جا رہی ہوتی ہیں کہ مضافاتی علاقوں کے دوکاندار اپنے ہاتھوں میں بڑے بڑے خالی گٹو لیئے پہنچنا شروع کر دیتے ہیں۔ در حقیقت بازار کی اصل رونق، برکت اور سیل ان دیہاتی بھائیوں کی آمد پر ہی منحصر ہوتی ہے۔
گرمیوں میں بازار ۱۱ بجے دن کے بعد ویران ہونا شروع ہو جات ہے اور دن ایک سے ۳ بجے تک روشن رات کا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں یہ وقفہ نہیں ہوتا لیکن پھر بھی دوپہر کے بعد صبح جیسی چہل پہل نہیں رہتی۔ ظہر کے بعد دفاتر اور سکولوں سے لوٹنے والے بازار کی پژمردگی کو تھوڑی دیر کے لیئے کم کر دیتے ہیں۔ عصر کے بعد رش دوبارہ شروع ہو جاتا ہے لیکن اب کے کریانہ کے گاہک نہیں ہوتے بلکہ کتب خانوں، سبزی، پھل اور ادویات کی دوکانوں کے خریداروں کی باری ہوتی ہے۔ میانوالی کا مین بازار شاید پاکستان کا واحد بازار ہے جہاں پھل کی ایک دوکان بھی نہیں ہے اور سارا پھل ریڑھیوں اور ٹھیلوں پر ہی فروخت ہوتا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جب پٹھان لوگ افغانستان سدھار جائیں گے تو ہمیں سستی سبزیاں اور فروٹ کہاں سے ملے گا۔
مین بازار میں موجود سبزی منڈی جو کئی کنالوں پر مشتمل ہے عرصہ دراز سے کھنڈرات کی صورت فضول جگہ گھیر ے ہوئے ہے۔سبزیوں کے شیڈاور گوشت کی فروخت کے لیئے بنائی گئی دوکانیں زمانے کی شکست و ریخت برداشت نہ کر سکیں اور اب سبزی منڈی کی تمام عمارت زمین بوس ہو چکی ہے۔ سبزی منڈی کی طرح پرانے اینٹھے کے ساتھ بھی گوشت مارکیٹ ویران پڑی ہے۔ جانے تحصیل کمیٹی ان قیمتی مارکیٹوں سے استفادہ کیوں نہیں کر تی۔
مغرب کے بعد لوئر مین بازار شہرِ خاموشاں بن جاتا ہے لیکن بالائی بازار فوڈ سٹریٹ کے شکل دھار لیتا ہے۔ تکے کباب، برگر، چنے، دہی بھلے اور حلیم بکنا شروع ہو جاتی ہے۔ سردیوں میں سوپ، انڈے اور خشک میوہ جات کی فروخت بھی خوب ہوتی ہے۔ عشا کے وقت چھیل چھبیلے نوجوان اور چٹ پٹے کھانوں کے شوقین ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ مین بازار کے یہ visitors قدرے خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر تو گاڑیوں میں سوار ہوکر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت شہر بھر کے پیشہ ور بھکاری ٹڈی دل کی طرح بازار میں نازل ہو جاتے ہیں۔ نہ کسی کو گزرنے دیتے ہیں، نہ کچھ کھانے دیتے ہیں اور نہ کچھ خریدنے دیتے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تعدار نشئیوں کی ہوتی ہے۔
رات دس بجنے کے بعد مین بازار پر نیند کا غلبہ طاری ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ہاں کہیں کہیں سامان سے لدے ٹرک سامان اتارنے نظر آ جاتے ہیں۔ وہی خان چوکیدار اور ان کی اونگھتی ہوئی سیٹیاں بازار میں زندگی کی رمق کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ویران سبزی منڈی، اینٹھہ اور سٹیشن کی طرف سے آوارہ کتوں کے غول بازار میں داخل ہو جاتے ہیں اور رات بھر بیماروں کی طرح غراتے رہتے ہیں۔ دوکانوں کے تھڑوں اور پھٹوں کے نیچے اور اوپر براجمان ان بکری کی مانند کتوں کو دیکھ کر پطرس بخاری یاد آ جاتی ہے جس کو ایسے کتوں سے خاص شکایات تھیں۔ رات کے وقت سٹیشن چوک سب سے بارونق جگہ ہوتی ہے جہاں شب بھر رونق لگی رہتی ہے۔ اس کے بعد موتی مسجد چوک اور پھر کوہاٹیاں چوک رات دیر گئے تک آباد رہتا ہے۔ اس کے آگے میلہ گراؤنڈ اور پھر قبرستان تو بہت خاموش مقامات ہیں جہاں سے رات کو گزرنا بھی جان جوکھوں کا کام بن جاتاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*