ہارس ٹریڈنگ مردہ باد

تحریر : عابد ایوب اعوان 
وطن عزیز میں موسم گرما کی ابتداء پر ہی جہاں موسم میں گرمی کی شدت ہوئی وہیں پر ملکی سیاسی درجہ ء حرارت بھی اپنے ابال کے عروج پر پہنچ چکا. شہراقتدار میں مارچ کے آغاذ سے ہی پی ڈی ایم کی طرف سے تبدیلی سرکار کو رخصت کر کے گھر بھیجنے کی ہنگامہ آرائی کی حد تک کوششیں جاری ہیں. حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس وقت سیاسی معاملات تناو کی جانب بڑھ رہے ہیں جن کا نتیجہ خطرناک حد تک بھی جا سکتا ہے جیسا کہ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین حکومت اور اپوزیشن دونوں کو تنبیہ کر چکے ہیں کہ کوئی مارا یا مروایا جا سکتا ہے. وزیراعظم عمران خان کیخلاف اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد 25 مارچ کو ایوان میں پیش ہونی ہے. پی ڈی ایم کی مشترکہ میڈیا کانفرنس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے حکومت کو سنگین دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیر والے دن اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش نہ کی تو وہ ایوان کے ہال سے نہیں اٹھیں گے اور پھر وہ دیکھتے ہیں کہ حکومت او آئی سی کا اجلاس کیسے کرواتی ہے. ایکطرف وطن عزیز 23 مارچ 2022 کو 75 واں یوم پاکستان منانے جا رہا ہے جس دن اسلامی سربراہی کانفرنس کی دوسری بار میزبانی شہراقتدار اسلام آباد کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن حکومت کے خلاف سیاسی تصادم کی طرف بڑھ رہی. جس کا نتیجہ ملک میں انتشار اور انارکی کی صورت میں نکلنے کا خدشہ ہے. جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر اٹھا سکتے ہیں. حکومت اور اپوزیشن کو تصادم اور ہنگامہ آرائی سے ہٹ کر سیاسی حل کی طرف آنا ہوگا. ویسے بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دورانیہ اب ڈیڈھ سال باقی رہ گیا ہے اپوزیشن کو چاہیئے کہ حکومت کو اپنا مقررکردہ وقت پورا کرنے  دے اسی میں ریاست پاکستان کا سیاسی نظام مظبوط ہوگا کہ وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے. حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی وزیراعظم عمران خان کیخلاف پی ڈی ایم کی طرف سے پیش کی جانیوالی تحریک عدم اعتماد میں پی ڈی ایم کے حق میں ووٹ دیکر ملکی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہوتے رنگے ہاتھوں پکڑے جاچکے ہیں جس پر حکومت کیطرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایسے ارکان اسمبلی کے بارے میں تشریح کرے کہ آئین اس بارے میں منحرف ارکان اسمبلی کی رکنیت ختم کر سکتا ہے جو اپنی ہی سیاسی جماعت کے منتخب وزیراعظم کیخلاف اپوزیشن کی پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دیں.  پیر 21 مارچ کو 1 بجے سپریم کورٹ کی طرف سے ان منحرف اراکین اسمبلی کی رکنیت کے خاتمے کا فیصلہ آنے پر وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش ہونے سے قبل ہی اپنی اہمیت کھو بیٹھے گی. تبدیلی سرکار کے کپتان اگر ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہونیوالے اپنی جماعت کے ارکان اسمبلی کو تاحیات سیاست سے آوٹ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں سنہرا باب رقم ہوگا. پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز کی جانب سے اپنے منتخب کردہ ان منحرف ارکان اسمبلی کیخلاف ملک کے مختلف شہروں میں مظاہروں نے ثابت کردیا کہ کپتان کے متوالے وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کی بدترین ہارس ٹریڈنگ کا قلع قمع کرنیکے لیئے وزیراعظم عمران خان کے بھرپور ساتھ ہیں. وطن عزیز کی پوری قوم کو یک زبان ہوکر کہنا ہوگا “ہارس ٹریڈنگ مردہ باد”Attachments area

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*