عوام سے جینے کا حق نہ چھینا جائے

حکمران اتحاد نے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے،حکومت یک بعد دیگرے پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کررہی ہے، اس کے باعث ہر چیز کے دام بڑھ ہیں،اشیاء ٖضروریہ سے لے کر ٹرانسپورٹ کے کرایوں تک میں پے در پے اضافہ،عام غریب آدمی کی برداشت سے باہر ہو گیا ہے،حکومتی ترجمان اور وزراء بڑھتی مہنگائی کا سارا ملبہ سابق حکمران جماعت پر ڈالنے کی پرانی روش جاری ر کھے ہوئے ہیں،جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ ان کے پاس اس اقدام کے سوا کوئی چارا نہیں تھا،لیکن حکومت کے عوام مخالف اقدام سے ملک کے غریب اور مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام پرجو گزرہی ہے، اس کا مداوا کون کرے گا؟عوام سے تو جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اتحادی حکومت کا ایک مہینے میں تیسری بار پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کوئی غیر متوقع نہیں ہے، کیو نکہ آئی ایم ایف سے جو ملک دعوام دشمنی پر مشتمل معاہدہ کیا گیا ہے، اس کی شرائط میں شامل ہے اور سفاک حکمران پہلے سے اعلان کرچکے ہیں کہ یہ تلخ گولی نگلنی ہی پڑے گی، اسی کے ساتھ ضمیر فروش مقتدر استحصالی اشرافیہ نے پاکستانی کرنسی کو کمزور کرنے اور شہریوں کی قوتِ خریداری کم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے،کھلی منڈی اور بینکوں کے درمیان تبادلے کی شرح میں ڈالر کی قیمت میں تاریخی اضافہ کردیا گیا ہے، یعنی چاہے قرضے ادا کرنے ہوں یا اشیا اور مصنوعات کو درآمد کرنا ہو، اس کی لاگت بھی بڑھ جائے گی۔
یہ سب کام اس وجہ سے ہورہا ہے کہ گزشتہ 30 برسوں میں حکومت میں رہنے والوں نے سامراجی ادارے آئی ایم ایف سے جو معاہدے کیے ہیں، اس کے نتیجے میں درجہ بہ درجہ مختلف مرحلوں میں قومی اداروں کے اختیارات سلب کرلیے گئے ہیں،حکمران اشرافیہ نے اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ بڑے اچھے طریقے سے کیا،مگر ملک وعوام کے مفادات کو پس پشت ڈالے رکھاہے،اس کے نتیجے میں ایک ہزار کے قریب پاکستانی اشرافیہ کے اربوں ارب ڈالر امریکا اور یورپ کے بینکوں میں موجود ہونے کے ساتھ پرتعیش رہائش گاہیں اور محلات بھی موجود ہیں،لیکن ہمارا ریاستی اور عدالتی نظام ایسے لوگوں کا احتساب کرنے اور لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے میں ناکام رہا ہے،ملک میں کرپٹ اشرافیہ آزادانہ دنددناتے پھرتے ہیں اور عوام بچارے مہنگائی در مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
ہر دور اقتدار میں حکمرانوں نے اپنی مجبوریوں کا وایلا کرکے ملک و عوام کو آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنسایا ہے،موجودہ اتحادی حکومت کے سارے دعدے دلاسے بھی دھر کے دھرے رہ گئے اور آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہو گئی، آئی ایم ایف کے در پر جانے کا فیصلہ کابینہ میں نہ پارلیمان میں ہوا، یہ ایک خاص میٹنگ میں فیصلہ کیا گیاکہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط مانی جائیں گی،یہ عوام دشمن فیصلے ایک ایسی حکومت کررہی ہے کہ جوتین ماہ قبل حزب اختلاف میں تھی اور اس وقت کی حکومت کے خلاف مہنگائی مارچ نکال رہی تھی،اس نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے سب سے بڑا الزام یہی عائد کیا تھا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتی مہنگائی عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوچکی ہے اورہم حکومت میں آکر اس بڑھتی مہنگائی کا خاتمہ کریں گے۔
حکومت بدل گئی،مہنگائی ختم ہوئی نہ عوام کی حالت زار بدلی ہے،اتحادی حکومت کے سارے وعدے سارے نعرے جھوٹے ثابت ہورہے ہیں،عوام پر راز کھلتا جارہا ہے کہ یہ سب ایک بار پھر عوام کے نام پر اپنا ہی ذاتی ایجنڈا پورا کرنے آئے ہیں، یہ خود کو بچانے اور مخالفین کو دیوار سے لگانے آئے ہیں،تاہم عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہاہے،اس سے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید جنم لیں گے،حکومتی وزراء اور ترجمانوں کو چاہئے کہ سابق حکمرانوں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی کی بہتر ی پر توجہ دیں،اگر حکمران اتحادی عوام کو ریلیف فراہم کر سکے تو ہی عوام آئندہ انتخابات میں اسے دوبارہ موقع دیں گے،لیکن اگر عوام کے منہ سے آخری نوالہ بھی یونہی چھینا جاتا رہا تو پھر عوام کبھی ان پر دوبارہ اعتماد نہیں کریں گے،حکمران مشکل حالات میں عوام کے رویوں میں تبدیلی کا خالی سبق دینے کی بجائے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائیں،اس وقت عوام جس طرح بجلی گیس پٹرول اور اشیاء ضروریہ میں کفایت شعاری کر رہے ہیں حکمرانوں کو بھی اس کلچر کا حصہ بننا چاہیے، تاکہ معاشی طور پر حالات کو سنبھالا دیا جا سکے،حکمران اتحاد کو آئی ایم ایف کی تمام شرائط من و عن تسلیم کر کے عوام کو زندہ درگور کرنے سے گریز کرنا چاہیے، عوام سے جینے کا حق نہ چھینا جائے،اگر عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق حکمران عوامی سیلاب کا سامنا نہیں کر پائیں گے،حکمران قربانی دیں گے تو ہی عوام صبر کریں گے،ورنہ عوام کامنہ زور ریلا سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*