نظم

یومِ مادر پہ کہی گئی ایک نظم

ماں❤️❤️❤️❤️❤️❤️ہر آن ہیں قدموں تلے جنت کے نظارےاے ماں تری آغوش میں خوش رنگ ستارے دنیا کی سبھی رونقیں ہیں تیرے ہی دم سےبن تیرے کہیں پل بھی کوئی کیسے گزارے جینے کا سلیقہ دے تدبر کی خبر بھیماں سوچ کے دھاروں کو تفکر سے نکھارے اوروں کی نظر میں کوئی اچھا ہے برا ہےپر ماں کی نگاہوں میں ہیں ... Read More »

بامقصود شاعری

ڈاکٹر علی بیاتشعبه اردو، یونیورسٹی آف تہران، ایرانجناب ڈاکٹر مقصود جعفری کی اُردو شاعر ی کا مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ وہ بہ یک وقت غزل کی کلاسیکی اور جدید روایت کے شاعر ہیں۔ ان کی غزلوں کا مزاج کہیں کلاسیکل غزل کے لب و لہجے کی نشاند ہی کرتا ہے او ... Read More »

کشمیر کا نوحہ

چلو کشمیر چلتے  ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیںموت کا رقص دیکھتے ہیں ، خون کی ہولی دیکھتے ہیںہنستے مسکراتے چہرے چڑھتے سولی دیکھتے ہیںچیخوں میں سسکیوں کی صدائیں سنتے ہیںبرف پوش وادیوں میں سلگتی آہیںدیکھتے ہیںچلو کشمیر چلتے  ہیں، جنت نظیر دیکھتے ہیںسبز ہلالی پرچم میں لپٹی لاشیں ، سراپا محبت کی  تصویر  دیکھتے ہیںسلگتے چناروں کی، انگار وں پر ... Read More »

محبت اور عشق کا ٹھکانہ، فقط ایک دل میں

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ شفیآج کا یہ مضمون اپنی نوعیت میں تین طرح سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آ ج میں اپنے قارئین کو ایک ایسی ہستی سے متعارف کروانے جا رہا ہوں جن کا دل ملک وملت کی محبت اور سب سے بڑھ کر عشق رسولﷺ سے سرشار ہے۔ وہ جس قدر ملک ... Read More »

ہمارے بچے

شاعر: عبداللہ ضریم یہ زندگی جینا مانگتی ہےہمارے بچے تو کر رہے ہیںتمہارے بچوں کے بوٹ پالش !ہمارے بچے ،تمہارے بچوں کے بستے حسرت سے دیکھتے ہیںتمہارے بچوں کو گاڑیوں میں سکول جاتا بھی دیکھتے ہیں !ہمارے بچے ، تمہارے بچوں کو زندگی جیتا دیکھتے ہیںتمہارے بچوں کی کھیلنے کے جو عُمر ہے ،وہ ہمارے بچوں نے زندگی کا مقابلہ ... Read More »

کمال کیجیے

‏بیٹھے ہیں ایسے چپ کیوں؟ سوال کیجئےیا پھر ہمارے صبر پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،ملال کیجیے یوں چھوڑنا تو بات۔۔۔۔ پرانی بہت ہوئیاس بار کچھ نیا۔۔۔۔۔۔۔ کوئی کمال کیجئے ہم بھی جو بھول جائیں کریں درگزر ہمیںبندے ہیں خطا کار۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ جلال کیجئے مانا کہ ہے حرام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر حکم یہی ہےغصے کو بھی پی جائیے۔۔۔۔ حلال کیجئے احمد کمال Read More »

بدل رہے ہیں

سلسلے متواتر بدل رہے ہیں رفاقت کے اب تو آثار نظر آتے ہیں رقابت کے پہلے پہل تو وہ ہر روز ملا کرتے تھے نہ جانے کیا ہوا اب *دَور* گئے خط و کتابت کے دل کیسے نہ ہو پریشان اس کے روٹھنے پہ کے وہ جناب بہت ضدی ہیں عادت کے ہم ملنے چلے بھی جاتے ان کے کوچے ... Read More »

پرسکون رہتا ہے

میری بگڑی صورت بگڑے حال پہ پرسکون رہتا ہے مجھے کوئی دیکھے نہ وہ اکثر مجھے کہتا ہے مجھے درد میں دیکھ نہیں سکتا وہ مہرباں میری آہ پہ اشک اس کی آنکھ سے بہتا ہے میرے لیے جینے کی خواہش رکھنے والا وہ میرے خواہش کے مطابق خود کو بدلتا ہے جب مخاطب ہوتی ہوں میں کسی اور سے ... Read More »

ڈرتی ہوں

رونے کی خواہش ہونے پر بھی ہنستی ہوں تیرے اداس ہونے سے دیکھو کتنا ڈرتی ہوں تم تو جھٹک کر بدل لیے ہو راستے مگر مجھے دیکھو میں تو اسی راہ پہ چلتی ہوں تم تو وہی کرتے ہو جو خواہشِ قلب ہو مگر میں جیسے تم چاہو اسی سانچے میں ڈھلتی ہوں تم اک بار ہی فقط الفت کی ... Read More »

ﺟﺎﺋﯿﮟ

ﺁﭖ ﺩﻝ ﺟﻮﺋﯽ ﮐﯽ ﺯﺣﻤﺖ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ رﻭ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻧﮧ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺭُﻻﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻠﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻼﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺣﺠﺮﮦ ﺀ ﭼﺸﻢ ﺗﻮ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ آﭖ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ اﺗﻨﺎ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ... Read More »